قومی زبان

یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے

یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے مجھ سے تو رشیدؔ اب مرا سایہ بھی بڑا ہے تو جس پہ خفا ہے مرے اندر کا یہ انسان اس بات پہ مجھ سے بھی کئی بار لڑا ہے دیکھا جو پلٹ کر تو مرے سائے میں گم تھا وہ شخص جو مجھ سے قد و قامت میں بڑا ہے صدیوں اسے پالا ہے سمندر نے صدف میں پل بھر کے لئے جو مری ...

مزید پڑھیے

مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا

مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا اس بے وفا سے ربط مگر عمر بھر کا تھا خوشبو کی چند مست لکیریں ابھار کر لوٹا ادھر ہوا کا وہ جھونکا جدھر کا تھا نکلا وہ بار بار گھٹاؤں کی اوٹ سے اس سے معاملہ تو فقط اک نظر کا تھا تم مسکرا رہے تھے تو شب ساتھ ساتھ تھی آنسو گرے تھے جس پہ وہ دامن سحر ...

مزید پڑھیے

کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں

کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں اس شہر میں ورنہ نہ مکیں ہیں نہ مکاں ہیں ہم خود سے جدا ہو کے تجھے ڈھونڈنے نکلے بکھرے ہیں اب ایسے کہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں جاتی ہیں ترے گھر کو سبھی شہر کی سڑکیں لگتا ہے کہ سب لوگ تری سمت رواں ہیں اے موجۂ آوارہ کبھی ہم سے بھی ٹکرا اک عمر سے ہم بھی ...

مزید پڑھیے

میں نے کہیں تھیں آپ سے باتیں بھلی بھلی

میں نے کہیں تھیں آپ سے باتیں بھلی بھلی رسوا کیا ہے آپ نے مجھ کو گلی گلی میں نے کہا نہیں تھا کہ شعلہ بدن ہیں لوگ اب کیوں دکھا رہے ہو ہتھیلی جلی جلی گلشن میں جو چلی ہے ہوا کتنی تیز ہے بکھری پڑی ہے شاخ سے کٹ کر کلی کلی ایک اور شب کی راہ میں آنکھیں بچھائیے یہ شب بہ صورت شب رفتہ ڈھلی ...

مزید پڑھیے

دیپ سے دیپ جلاؤ تو کوئی بات بنے

دیپ سے دیپ جلاؤ تو کوئی بات بنے گیت پر گیت سناؤ تو کوئی بات بنے قطرہ قطرہ نہ پکارو مجھے بہتی ندیوں موج در موج بلاؤ تو کوئی بات بنے رات اندھی ہے گزر جائے گی چپکے چپکے جال کرنوں کا بچھاؤ تو کوئی بات بنے سامنے اپنے ہی خاموش کھڑا ہوں کب سے درمیاں تم بھی جو آؤ تو کوئی بات بنے داستاں ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کا حبس مجھے کاٹتا رہا

تنہائیوں کا حبس مجھے کاٹتا رہا مجھ تک پہنچ سکی نہ ترے شہر کی ہوا وہ قہقہوں کی سیج پہ بیٹھا ہوا ملا میں جس کے در پہ درد کی بارات لے گیا اک عمر جستجو میں گزاری تو یہ کھلا وہ میرے پاس تھا میں جسے ڈھونڈھتا رہا نکلا ہوں لفظ لفظ سے میں ڈوب ڈوب کر یہ تیرا خط ہے یا کوئی دریا چڑھا ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے ترے دل میں اتر جاؤں گا

کون کہتا ہے ترے دل میں اتر جاؤں گا میں تو لمحہ ہوں تجھے چھو کے گزر جاؤں گا شب کے چہرہ میں کوئی رنگ تو بھر جاؤں گا چل پڑا ہوں تو میں اب تا بہ سحر جاؤں گا آسمانوں کی صفیں کاٹ کے پہنچا تھا یہاں اب تری آنکھ سے ٹوٹا تو کدھر جاؤں گا اپنی نظروں کا کوئی دائرہ بن کے مرے گرد ورنہ ان تیز ...

مزید پڑھیے

جب رات کے سینے میں اترنا ہے تو یارو

جب رات کے سینے میں اترنا ہے تو یارو بہتر ہے کسی چاند کو شیشے میں اتارو دیوار پگھلتی ہے جھلس جاتے ہیں سائے یہ دھوپ نگاہوں کی بہت تیز ہے یارو پرچھائیاں پوجیں گے کہاں تک یہ پجاری اپناؤ کوئی جسم کوئی روپ تو دھارو خود اہل قلم اس میں کئی رنگ بھریں گے تم ذہن کے پردے پہ کوئی نقش ...

مزید پڑھیے

دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی

دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی اس راہ میں سایہ ہے تو دیوار بھی ہوگی صدیوں سے جہاں جس کے تعاقب میں رواں ہے وہ ساعت صد رنگ گرفتار بھی ہوگی رنگوں کی ردا اوڑھ کے اس ریگ رواں پر اتری ہے جو شب وہ شب دیدار بھی ہوگی اٹھلائے گا پلکوں پہ کبھی صبح کا تارا بیدار کبھی نرگس بیمار بھی ...

مزید پڑھیے

اپنی طرح مجھے بھی زمانے میں عام کر

اپنی طرح مجھے بھی زمانے میں عام کر اے ذات عنبریں مجھے خوشبو مقام کر ان پتھروں کو راکھ نہ کر سوز نطق سے مجھ سے کلام کر کبھی مجھ سے کلام کر صدیوں کی میں کشید ہوں اے ساقیٔ ازل میرے وجود کو بھی کبھی صرف جام کر آزاد ہو چکا ہوں میں قید حواس سے بام نظر سے اب مرا بالا مقام کر مجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1677 سے 6203