یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے
یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے مجھ سے تو رشیدؔ اب مرا سایہ بھی بڑا ہے تو جس پہ خفا ہے مرے اندر کا یہ انسان اس بات پہ مجھ سے بھی کئی بار لڑا ہے دیکھا جو پلٹ کر تو مرے سائے میں گم تھا وہ شخص جو مجھ سے قد و قامت میں بڑا ہے صدیوں اسے پالا ہے سمندر نے صدف میں پل بھر کے لئے جو مری ...