اپنے چہرے کی ضیا دے کے اجالو مجھ کو
اپنے چہرے کی ضیا دے کے اجالو مجھ کو پر سکوں جیتا ہوں الجھن میں ہی ڈالو مجھ کو نیند اتری نہیں آنکھوں میں بڑی مدت سے ریشمی زلف کے سائے میں سلا لو مجھ کو ڈھونڈ لو پہلے خطاؤں کا مری کوئی ثبوت بے سبب یوں تو نہ محفل سے نکالو مجھ کو نفرتیں میرے تعاقب میں چلی آتی ہیں عین ممکن ہے بکھر ...