قومی زبان

اپنے چہرے کی ضیا دے کے اجالو مجھ کو

اپنے چہرے کی ضیا دے کے اجالو مجھ کو پر سکوں جیتا ہوں الجھن میں ہی ڈالو مجھ کو نیند اتری نہیں آنکھوں میں بڑی مدت سے ریشمی زلف کے سائے میں سلا لو مجھ کو ڈھونڈ لو پہلے خطاؤں کا مری کوئی ثبوت بے سبب یوں تو نہ محفل سے نکالو مجھ کو نفرتیں میرے تعاقب میں چلی آتی ہیں عین ممکن ہے بکھر ...

مزید پڑھیے

بک جائیں گے ہم حسن خریدار اگر ہے

بک جائیں گے ہم حسن خریدار اگر ہے نمٹیں گے کوئی برسر پیکار اگر ہے کل اس سے ہمیشہ کو تری جان چھوٹے گی اک رات کا مہمان ہے بیمار اگر ہے بس ایک نظر دل کے صحیفے کی طرف دیکھ پھر شوق سے کر جان تو انکار اگر ہے ہونٹوں کو بھلے جنبش الفاظ گراں ہو آنکھوں ہی سے کر ڈالیے اظہار اگر ہے لو کل سے ...

مزید پڑھیے

بدل لی بیچ سفر میں

بدل لی بیچ سفر میں ہی راہ آپ نے بھی کہ زر کی چھاؤں میں لے لی پناہ آپ نے بھی مری امید کو اک دن اجڑ ہی جانا تھا خود اپنی ذات کیوں کر لی تباہ آپ نے بھی بجا کہ عشق بھی کچھ کچھ تھا مصلحت کا شکار ہوا کے رخ کی طرح کی ہے چاہ آپ نے بھی کبھی تو دھڑکنیں دل کی سنائی دیتی تھیں سنی نہ جگ کی طرح آج ...

مزید پڑھیے

بیتے لمحے کل کی باتیں یاد آئیں

بیتے لمحے کل کی باتیں یاد آئیں وہ رنگوں کی سب برساتیں یاد آئیں دن دیکھا تو چہرہ تیرا یاد آیا رات کے دیکھے زلف کی راتیں یاد آئیں بیٹا ایم اے کر کے گھر میں بیٹھ گیا اپنے وقت کی چار جماعتیں یاد آئیں جلتی دھوپ میں ننگے پاؤں چلنے پر ٹھنڈے لہجے کی سوغاتیں یاد آئیں آج کی جیت پہ دل ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ بعد ترے دوسرا نہیں آیا

نہیں کہ بعد ترے دوسرا نہیں آیا جو زیست کو تھا میسر مزہ نہیں آیا بچھڑ گیا ہے تو ایسے پلٹ کے آیا نہیں وگرنہ راہ میں طوفان کیا نہیں آیا بس ایک رات قیامت سی مجھ کو تھی درپیش پھر اس کے بعد کوئی مرحلہ نہیں آیا میں اپنی آدھی محبت پہ اب ہوں گریہ کناں مجھے تو ڈھنگ کوئی میرؔ سا نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھے تجھ سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے

مجھے تجھ سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے کلی کے کھل کے مرجھانے کا دکھ ہے مجھے کل تو نے ٹھہرایا تھا لیکن جہاں کو آج ٹھکرانے کا دکھ ہے وفا پانے کی دل میں آرزو تھی تماشا بن کے رہ جانے کا دکھ ہے تجھے سو بار سمجھایا تھا میں نے مگر اب تیرے کمہلانے کا دکھ ہے جگاتا ہے مجھے شب بھر ترا غم خوشی ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد تو تنہائیوں کے بیچ میں ہیں

پھر اس کے بعد تو تنہائیوں کے بیچ میں ہیں کہ غم کی ٹوٹتی انگڑائیوں کے بیچ میں ہیں یہ شادیانے فقط سر خوشی کا نام نہیں کسی کی چیخیں بھی شہنائیوں کے بیچ میں ہیں ہمیں تو خوف سا لاحق ہے ٹوٹ جانے کا تعلقات جو گہرائیوں کے بیچ میں ہیں یہ جائیداد یہ مال و متاع و میراثیں فساد انہی پہ مرے ...

مزید پڑھیے

تباہ زیست مگر ایک بازی گر نے کی

تباہ زیست مگر ایک بازی گر نے کی وگرنہ وجہ نہ تھی ٹوٹ کر بکھرنے کی وہ اڑ چکا ہے تو پھر اس کی مان لیتے ہیں اسے تو ضد سی ہے الزام ہم پہ دھرنے کی تمام خواب پریشاں تھے شب کی محفل میں نہ جانے بات کیا تاروں سے چشم تر نے کی وہ رتھ میں آنکھ کی ہر پل چمکتا رہتا ہے یہ رت ہے جگنوؤں کے خاک پر ...

مزید پڑھیے

روکھی روٹی کما کے لایا ہوں

روکھی روٹی کما کے لایا ہوں میں کہ بیوی کے سر کا سایا ہوں غیر نے کیوں سمجھ لیا اپنا میں تو اپنوں کو بھی پرایا ہوں ظلم کی فصل کٹ گئی لیکن ایک میں ہی ابھی بقایا ہوں ہو کے مجبور بھوک کے ہاتھوں شاعری بیچنے پہ آیا ہوں بارہا جس نے مجھ کو دھتکارا آج پھر اس سے ملنے آیا ہوں دوست کی ماں ...

مزید پڑھیے

سلسلہ چلتا رہے گا میرے دل کے بعد بھی

سلسلہ چلتا رہے گا میرے دل کے بعد بھی جو نگر اجڑا ہے اب تھا یہ کبھی آباد بھی اس قفس سے اس قدر اپنی طبیعت ہو گئی چھوڑ کر جاؤں نہ ہرگز وہ کریں آزاد بھی شب گزیدہ ہوں مجھے تاروں کی چھاؤں سے ہے ڈر دل کا خوں کرنے چلے آئے ہیں تیرا زاد بھی مدتوں سے کوئی سندیسہ نہ آنے کی خبر اب انہیں شاید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1664 سے 6203