قومی زبان

رستہ تکتے تکتے اک دن پتھر ہو جائیں گے

رستہ تکتے تکتے اک دن پتھر ہو جائیں گے مے سے کتراتے کتراتے ساغر ہو جائیں گے پیاسے ہیں آنکھوں میں جگنو اور ایسا بھی ہوگا خاک پہ اترے تو یہ جگنو ساگر ہو جائیں گے تب دل کی دہلیز کو چھونے آئیں گے وہ پاؤں جب اندر کے سارے خطے بنجر ہو جائیں گے اگلی عمر کے بھانپنے تک تو جانے کیا ہو ...

مزید پڑھیے

ساقی جو دئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا

ساقی جو دئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا تو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دیے جا جانے کی جو ضد ہے تو مجھے زہر دئے جا اتنا تو کہا مان لے اتنا تو کئے جا کچھ اور نہ کر مجھ پہ جفائیں تو کئے جا کچھ اور نہ لے میری دعائیں تو لئے جا کیا لذت تعزیر نے مجبور کیا ہے آتا ہے یہی جی میں کہ تقصیر کئے ...

مزید پڑھیے

آئینہ خود نمائی ان کو سکھا رہا ہے

آئینہ خود نمائی ان کو سکھا رہا ہے کیا قہر کر رہا ہے کیا ظلم ڈھا رہا ہے آنسو بہا رہا ہے وہ سوز دل پہ میرے خود ہی لگا کے ظالم خود ہی بجھا رہا ہے ان کو تو ہم نے چاہا وہ یوں ستا رہے ہیں اے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے آزردہ غیر سے ہیں لیتا ہوں میں بلائیں روٹھے ہیں وہ کسی سے کوئی ...

مزید پڑھیے

راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا

راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا وہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا غیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب آنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا میرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار اور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا حضرت ناصح کی باتیں میں سمجھتا ہی نہیں نا سمجھ ہیں دل ...

مزید پڑھیے

اب زیست مرے امکان میں ہے

اب زیست مرے امکان میں ہے وہ لمحہ لمحہ دھیان میں ہے کچھ پھول تھے وہ بھی سوکھ گئے اک حسرت سی گلدان میں ہے اک تانتا سوچ نے باندھا تھا اب چہرہ روشندان میں ہے دل ڈوبا پہلے غربت میں اب پانی کچے مکان میں ہے وہ معرکۂ دل جیت کے بھی پھر تنہا دل میدان میں ہے ہے دشمن مرے تعاقب میں اور ...

مزید پڑھیے

در جو کھولا ہے کبھی اس سے شناسائی کا

در جو کھولا ہے کبھی اس سے شناسائی کا ایک منظر نظر آیا مجھے تنہائی کا اپنی آنکھیں نہ سجانا کسی دروازے پر چشم حیراں کو بھروسہ نہیں بینائی کا زخم آرائی میں سب زخم پرانے تھے مگر زخم تازہ ہی رہا اس کی شناسائی کا عرصۂ ہجر سے پھر وصل کی سرشاری تک حوصلہ دل کو بہت چاہیئے پسپائی کا

مزید پڑھیے

مہنگائی کا اب آیا ہے طوفان یقیناً

مہنگائی کا اب آیا ہے طوفان یقیناً توڑے ہیں حکمرانوں نے پیمان یقیناً مزدور کو پابند کیا گھر پہ بٹھایا دو وقت کی اب اس کو نہیں نان یقیناً انسان کی توہین کبھی اتنی نہیں تھی روٹی ہے گراں خون ہے ارزان یقیناً جس حکم پہ دہقان کی محنت کا صلہ ضبط تحقیر کے لائق ہے وہ فرمان یقیناً جس ...

مزید پڑھیے

وہ شور ہے کہ یہاں کچھ سنائی دیتا نہیں

وہ شور ہے کہ یہاں کچھ سنائی دیتا نہیں تلاش جس کی ہے وہ کیوں دکھائی دیتا نہیں سلگ رہا ہوں میں برسات کی بہاروں میں یہ میرا ظرف کہ پھر بھی دہائی دیتا نہیں یتیم پالتی ہے بہن کس مشقت سے ہے دکھ کی بات کہ امداد بھائی دیتا نہیں وہ در فرار کے مجھ پر کھلے تو رکھتا ہے وہ زلف قید سے لیکن ...

مزید پڑھیے

ذرا سی باپ مرا کیا زمین چھوڑ گیا

ذرا سی باپ مرا کیا زمین چھوڑ گیا ہیں سات بچے تو ازواج تین چھوڑ گیا مجھے ملے تو میں اس نوجواں کو قتل کروں جو بد زباں کے لئے نازنین چھوڑ گیا رہا جو مفت یہ حجرہ دیا سجا کے اسے مکاں کشادہ تھا لیکن مکین چھوڑ گیا پلایا دودھ بھی اور ناز بھی اٹھائے مگر کمال سانپ تھا جو آستین چھوڑ ...

مزید پڑھیے

دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے سیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کے فرقت میں اشک حسرت ہم کیا بہا رہیں ہیں تقدیر رو رہی ہے پردے میں بیکسی کے آئے اگر قیامت تو دھجیاں اڑا دیں پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے دے کر مجھے تسلی بے چین کر رہے ہو ہنستے ہو وعدہ کر کے قربان اس ہنسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1665 سے 6203