قومی زبان

کوئی صدا بھی ہم آہنگ نہیں ہوتی اب سازوں سے

کوئی صدا بھی ہم آہنگ نہیں ہوتی اب سازوں سے ورنہ دیپک جل اٹھتے ہیں درد بھری آوازوں سے دھرتی پر سایہ ہے میرا اور نہ میں آکاش پہ ہوں میں نے بس اتنا ہی پایا ہے اونچی پروازوں سے اک نا بینا شخص کو اس کے سائے سے کیا حاصل ہے پھر مجھ تیرہ بخت کو کیا ملتا اپنے ہم رازوں سے روحیں پھر جسموں ...

مزید پڑھیے

خمار خانۂ لفظ و بیان تک ہی ہے

خمار خانۂ لفظ و بیان تک ہی ہے کہ چاہتوں کا نشہ امتحان تک ہی ہے پھر اس کے بعد بکھرنا ہے مجھ کو ہر لمحہ کہ یہ سکون فقط تیرے دھیان تک ہی ہے بلندیوں کے سفر سے نہ اس قدر گھبرا یہ خوف سا جو ہے پہلی اڑان تک ہی ہے نکل بھی جاؤ کنارے کی سمت ایسے میں ہوا کا زور ابھی بادبان تک ہی ہے خدا ہوئے ...

مزید پڑھیے

وفا کے نام پہ زہراب ایک اور سہی

وفا کے نام پہ زہراب ایک اور سہی بکھر گئے ہیں کئی خواب ایک اور سہی بجھے بجھے کئی منظر ہیں دیدۂ تر میں یہ ڈوبتا ہوا مہتاب ایک اور سہی جلا کے ایک دیا ہم نے اور دیکھ لیا دھواں دھواں سی یہ محراب ایک اور سہی لگی ہے بھیڑ سفینہ ڈبونے والوں کی تماشہ کوئی سر آب ایک اور سہی تمہارے بعد ہر ...

مزید پڑھیے

اک درد کا انمول رتن ساتھ ہے میرے

اک درد کا انمول رتن ساتھ ہے میرے خوش ہوں کہ کوئی جینے کا فن ساتھ ہے میرے صدیوں سے ہے آوارگیٔ شوق سفر میں میلوں کی مسافت کی تھکن ساتھ ہے میرے اڑتی نہیں کیوں جانے پسینے کی یہ شبنم سورج کی تو ایک ایک کرن ساتھ ہے میرے ہر شیشے میں چہرہ نظر آتا نہیں یارو یہ سچ ہے کہ اک آئنہ تن ساتھ ہے ...

مزید پڑھیے

ان کے گھر آنا نہیں جانا نہیں

ان کے گھر آنا نہیں جانا نہیں مدتیں گزریں وہ یارانا نہیں نزع میں وہ یہ تسلی دے گئے موت بھی آئے تو گھبرانا نہیں کیا رہے گا عشق میں ثابت قدم دشت کوئی غیر نے چھانا نہیں بے بلائے جاؤں اس محفل میں کیوں گالیاں ناحق مجھے کھانا نہیں میں وہی ہوں جس کو کہتے تھے رشیدؔ تم نے اب تک مجھ کو ...

مزید پڑھیے

مفت دشنام یار سنتے ہیں

مفت دشنام یار سنتے ہیں ایک کہہ کر ہزار سنتے ہیں تم حمایت کرو نہ غیروں کی چار کہتے ہیں چار سنتے ہیں ہم فدائے چمن قفس میں بھی ذکر فصل بہار سنتے ہیں کچھ تو ہے بات جو ترے منہ سے سخن ناگوار سنتے ہیں آپ اور آئیں اپنے وعدے پر ایسے فقرے ہزار سنتے ہیں اس سے ملنے کو دل تڑپتا ہے ہم جسے بے ...

مزید پڑھیے

منافعے میں کہاں ایسی جو لذت ہے خسارے میں

منافعے میں کہاں ایسی جو لذت ہے خسارے میں یہ فانی زندگی جیسے ہوا پھولے غبارے میں یہاں سے خوش گئی میکے وہاں سے پھول کے لوٹی بھرے ہیں کان بیگم کے کسی نے میرے بارے میں کسی سے پوچھنے پر جب جواب آئے گزارا ہے بڑا مفہوم پوشیدہ ہے سمجھو اس گزارے میں ہوس نے زر کی مجھ کو خون کے رشتوں سے ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل تہی دامن بہ چشم تر گیا آخر

شکستہ دل تہی دامن بہ چشم تر گیا آخر صنم مل کر ہمیں پھر آج تنہا کر گیا آخر غریب شہر تھا خاموش رہنے کی سزا پائی وفا کرنے پہ بھی الزام اس کے سر گیا آخر بڑھا کر ہاتھ الفت کا سدا کی بیکلی دے دی تمہاری چاہ کر کے ایک شاعر مر گیا آخر یہ طے تھا ہم انا کے فیصلے سے منہ نہ موڑیں گے رہی دستار ...

مزید پڑھیے

گلوں کی پالکی میں ہے بہاروں کی وہ بیٹی ہے

گلوں کی پالکی میں ہے بہاروں کی وہ بیٹی ہے چہیتی چاند کی روشن ستاروں کی وہ بیٹی ہے ہماری عزتیں سانجھی ہیں بولی کوئی بھی بولیں کسی بھی ایک کی عفت سو چاروں کی وہ بیٹی ہے وہ چلتی ہے تو راہوں میں سریلے ساز بجتے ہیں کسی اجلی ندی کے شوخ دھاروں کی وہ بیٹی ہے کیا ہے بے ردا جس نے مرے ...

مزید پڑھیے

الٹا ہی دعاؤں کا اثر دیکھ لیا ہے

الٹا ہی دعاؤں کا اثر دیکھ لیا ہے اب تو مرا آفات نے گھر دیکھ لیا ہے اب چین کہاں راحت و آرام کہاں کا جنت میں جو ممنوعہ شجر دیکھ لیا ہے بس حاجت احسان نہیں ہے کہ اب ہم نے جنگل میں بیابان میں گھر دیکھ لیا ہے کیا چین ملے مجھ کو سکوں کیوں ہو میسر بے چین اسی چشم کو تر دیکھ لیا ہے ویسے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1663 سے 6203