قومی زبان

اللہ رے حوصلہ مرے قلب دو نیم کا

اللہ رے حوصلہ مرے قلب دو نیم کا جس نے سبق پڑھا ہے الف لام میم کا اٹھا نہ بار جلوۂ ذات قدیم کا اتنا تھا ظرف دعوی چشم کلیم کا بخشش خدا کی ہے تو شفاعت رسول کی رکھتا ہوں درمیان کریم و رحیم کا عاصی کو اپنے دامن رحمت میں دی جگہ اللہ رے کرم مرے رب کریم کا عاصی سہی ذلیل سہی پر خطا ...

مزید پڑھیے

کہتے ہو مجھے بے ادب خیر میں بے ادب سہی

کہتے ہو مجھے بے ادب خیر میں بے ادب سہی تم سے شکایت ستم جب نہ سہی تو اب سہی بزم عزائے دوست میں غم نہ سہی طرب سہی ہنس نہ سکو جو کھل کے تم تو خندۂ زیر لب سہی جتنی ہوں مہربانیاں رکھیے وہ غیر کے لیے اور ستم ہوں جس قدر میرے لیے وہ سب سہی مجھ پر اگر کرم نہیں اس کا مجھے الم نہیں کوئی نہ ...

مزید پڑھیے

تجھ سے وحشت میں بھی غافل کب ترا دیوانہ تھا

تجھ سے وحشت میں بھی غافل کب ترا دیوانہ تھا دل میں تیری یاد تھی لب پر ترا افسانہ تھا رات جو زاہد شریک جلسۂ رندانہ تھا تھی صراحی خندہ لب گردش میں ہر پیمانہ تھا مے کدہ بے جام چشم یار ماتم خانہ تھا دیدۂ پرخوں مری آنکھوں میں ہر پیمانہ تھا ہو گیا تھا مجھ کو جس دن سے اسیری کا خیال میری ...

مزید پڑھیے

کھلا یہ ان کے انداز بیاں سے

کھلا یہ ان کے انداز بیاں سے مروت اٹھ گئی سارے جہاں سے مجھے وہ رنج دیں یا رحم کھائیں کروں ان کی شکایت کس زباں سے رہ محبوب میں اللہ رے شوق قدم رکھتا ہوں آگے کارواں سے جہاں میں ہے وہی تقدیر والا سلامت جو رہا تیری زباں سے کسی کا پاس رسوائی کہاں تک گلا گھٹنے لگا ضبط فغاں سے عدم کا ...

مزید پڑھیے

مرے گھر کے لوگ جو گھر مجھی کو سپرد کر کے چلے گئے

مرے گھر کے لوگ جو گھر مجھی کو سپرد کر کے چلے گئے مرا بار غم نہ اٹھا سکے تو مجھی پہ دھر کے چلے گئے کبھی گھر ہمارے وہ آ گئے تو لکھا نصیب کا دیکھیے کوئی بات ان سے نہ ہو سکی وہ ذرا ٹھہر کے چلے گئے جہاں لطف سیر نہ پا سکے نہ جہاں کا حال بتا سکے جہاں زندگی میں نہ جا سکے وہاں لوگ مر کے چلے ...

مزید پڑھیے

اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم

اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم محتاج کسی اور ٹھکانے کے نہیں ہم ٹھہرا ہے عیادت پہ سفر ملک عدم کا آنے کے نہیں آپ تو جانے کے نہیں ہم جو تم نے لگائی ہے وہ ہے قدر کے قابل اس آگ کو اشکوں سے بجھانے کے نہیں ہم لو آؤ سنو ہم سے غم ہجر کی حالت گزری ہے جو ہم پر وہ چھپانے کے نہیں ...

مزید پڑھیے

جس کی گرہ میں مال نہیں ہے

جس کی گرہ میں مال نہیں ہے غم پرسان حال نہیں ہے سبزہ ہو یا دل تیرے قدم سے کون ہے جو پامال نہیں ہے ان کے کرم کا رستہ دیکھیں اتنا استقلال نہیں ہے آج غریبوں کا دنیا میں کوئی شریک حال نہیں ہے اس کا بھی کوئی رنگ سخن ہے جس کی کوئی ٹکسال نہیں ہے خوش ہیں رشیدؔ اتنا دنیا میں کیا خوف ...

مزید پڑھیے

اے دل اس کا تجھے انداز سخن یاد نہیں

اے دل اس کا تجھے انداز سخن یاد نہیں وہ پھری آنکھ وہ ماتھے کی شکن یاد نہیں قید صیاد میں جب سے ہوں چمن یاد نہیں دوست ہیں اہل قفس اہل وطن یاد نہیں ہجر میں دل کے ہمیں داغ کہن یاد نہیں مسکراتے ہوئے پھولوں کا چمن یاد نہیں وہ خنک چاندنی راتیں وہ فضا آپ اور میں اور وعدے وہ لب گنگ و جمن ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں کی نمائش کے لئے آتا ہے

دل کے زخموں کی نمائش کے لئے آتا ہے جب کوئی حرف نگارش کے لیے آتا ہے دھوپ کی سمت نکلتا ہوں سفر پہ جب بھی ایک سایہ مری پرسش کے لیے آتا ہے دوسرے لمحے نہیں رہتی وہ پہلی صورت جیسے ہر پل کسی سازش کے لئے آتا ہے جاں چھڑاتے ہوئے چلنا ہے ہر اک رستے سے کوئی ہر گام پہ یورش کے لیے آتا ہے رہ نہ ...

مزید پڑھیے

قطرۂ شبنم کو جلتے آفتابوں میں نہ رکھ

قطرۂ شبنم کو جلتے آفتابوں میں نہ رکھ ایک ہی جاں ہے اسے اتنے عذابوں میں نہ رکھ آئنوں سے دوستی کی ہے تو اپنا عکس دیکھ اپنے چہرے کو چھپا کر یوں نقابوں میں نہ رکھ میری آنکھوں کو بھی کوئی خوب صورت خواب دے مجھ کو ہر لمحہ بسا کر اپنے خوابوں میں نہ رکھ ایسی باتوں سے ہی وہ رہتا ہے کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1662 سے 6203