تباہی رقص کرتی ہے سدا جن کے اشاروں پر
تباہی رقص کرتی ہے سدا جن کے اشاروں پر انہی کا باغ عالم میں تسلط ہے بہاروں پر بلندی راس نہ آئے جنہیں وہ نیچے گرتے ہیں یہی نظارہ ملتا ہے ہمیشہ آبشاروں پر نشہ کوئی بھی ہو کچھ سوچئے دیتا نہیں رک کر بڑا مشکل ہے رک جانا ڈھلانوں پر اتاروں پر وہی پاتے ہیں گوہر جو اترتے ہیں سمندر ...