قومی زبان

تباہی رقص کرتی ہے سدا جن کے اشاروں پر

تباہی رقص کرتی ہے سدا جن کے اشاروں پر انہی کا باغ عالم میں تسلط ہے بہاروں پر بلندی راس نہ آئے جنہیں وہ نیچے گرتے ہیں یہی نظارہ ملتا ہے ہمیشہ آبشاروں پر نشہ کوئی بھی ہو کچھ سوچئے دیتا نہیں رک کر بڑا مشکل ہے رک جانا ڈھلانوں پر اتاروں پر وہی پاتے ہیں گوہر جو اترتے ہیں سمندر ...

مزید پڑھیے

ایسا ہے تیرے پیار کا سایہ

ایسا ہے تیرے پیار کا سایہ جیسے فصل بہار کا سایہ ان کے آنے کی ہے خبر دیتا کارواں کے غبار کا سایہ بے سبب تو نہیں ہے آنکھوں پر دیکھیے یہ خمار کا سایہ اس کو جنت سے کم نہیں دنیا جس پہ ہے ماں کے پیار کا سایہ مجھ کو جینے دے اور نہ مرنے دے یہ ترے انتظار کا سایہ کیا بگاڑے گا یہ جہاں ...

مزید پڑھیے

سکون قلب پانا ہے تو سجدہ ریز ہو جاؤ

سکون قلب پانا ہے تو سجدہ ریز ہو جاؤ بنانا ہے مقدر کو تو پھر تبریز ہو جاؤ جہاں میں کس کی چنگیزی رہی سوچو ذرا یارو یہ کس نے کہہ دیا تم سے کہ تم چنگیز ہو جاؤ ہمیں ہم سے جدا کرنے کی جرأت ہے یہاں کس میں لڑاؤ اور جہانبانی کرو انگریز ہو جاؤ کہیں کھیتی ہری اخلاق کی بنجر نہ ہو جائے خلوص و ...

مزید پڑھیے

بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی

بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی ہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگی ذرا جو اس نے ہٹائی نقاب چہرے سے گری وہ برق کی سب انجمن میں آگ لگی برابر آج خبر اشک گرم لاتے ہیں غضب کی قصر دل پر محن میں آگ لگی یہ تیرا وحشیٔ آتش نفس جہاں پہنچا پہاڑ جل کے ہوئے خاک بن میں آگ لگی جلا رہا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

زندہ ہوں اس جہان میں آخر کوئی جواز (ردیف .. ن)

زندہ ہوں اس جہان میں آخر کوئی جواز ان بستیوں کا خواب جو اب تک بسیں نہیں تم شوخ ہو تو پیار بھی میرا شریر ہے ہاں ہاں مرے لئے ہے تمہاری نہیں نہیں دل ہو کہ سر یہاں تو سراپائے درد ہیں ایسا نہیں کہ درد کہیں ہے کہیں نہیں اعلان‌‌ حق شعار بھی ہے پھر گلہ بھی ہے نفرین ہر کہیں ہے کہیں ...

مزید پڑھیے

عجب فقیر ہو تاج جہانیاں تم ہو

عجب فقیر ہو تاج جہانیاں تم ہو حصیر خاک پہ مسجود آسماں تم ہو ہجوم نور میں کھویا ہوا ہے میرا وجود سوائے روح وہاں کیا ہوں میں جہاں تم ہو دروں نگاہ کو تنہا روی کا وہم نہیں ورائے پردہ تو سرخیل کارواں تم ہو حجاب مانع اشکال خیرگی ٹھہرا نہاں ہوئے ہو تو کچھ اور بھی عیاں تم ہو جنوں ہزار ...

مزید پڑھیے

حسن کیا جس کو کسی حسن سے خطرہ نہ ہوا

حسن کیا جس کو کسی حسن سے خطرہ نہ ہوا کون یوسف ہدف کید زلیخا نہ ہوا وہ پیمبر بھی نہیں ہوگا خدا شاید ہو پاک دامن تو رہا شہر میں رسوا نہ ہوا تھے نیا چاند تو تھیں ہم سے امیدیں کیا کیا قوس کے قوس رہے دائرہ پورا نہ ہوا لرزش لب کو زباں کوئی کمک دے نہ سکی پوچھنے پر بھی تو اعلان تمنا نہ ...

مزید پڑھیے

غم پیہم کی زندگی بھی ملی

غم پیہم کی زندگی بھی ملی غم میں اک لذت‌‌ خفی بھی ملی عمر نوحہ کناں رہی ساری اسی نوحے میں نغمگی بھی ملی غرفشیں شورشیں گہار دہاڑ اسی جنگل میں سمفنی بھی ملی گھپ اندھیروں کی رہ گزاروں میں کبھی چھن چھن کے چاندنی بھی ملی اک نہ اک راستہ تو سب کا ہے یہ نہ پوچھو کہ راستی بھی ملی یوں ...

مزید پڑھیے

کیا شوخ و شنگ شے نگہ شرمگیں بھی ہے

کیا شوخ و شنگ شے نگہ شرمگیں بھی ہے چلمن سے جھانکتی بھی ہے چلمن نشیں بھی ہے غنچے شگوفے چھوڑنے والے ہیں عنقریب اس عہد خورد بیں میں کوئی دوربیں بھی ہے اپنے مزاج ہی کے تعاقب میں ہوں ہنوز فرش سفال بھی فلک چار میں بھی ہے ہم آپ پر نہ آپ کریں ہم پہ اعتماد دامن کے ساتھ ساتھ یہاں آستیں ...

مزید پڑھیے

سنگیں نہیں کہ تاج محل مرمریں نہیں

سنگیں نہیں کہ تاج محل مرمریں نہیں کیا زلزلے کا دیو بھی زیر زمیں نہیں وہ دن گئے کہ ہوتے تھے مرغان تر نواز اب کون ہے چمن میں جو غنچہ‌ نشیں نہیں کس کا کرشمہ ہے یہ تنوع نگاہ کا ایسا نہیں کوئی جو کسی کا حسیں نہیں تعویذ مول لائے ہیں سالوسیاں سے ہم اصحاب اعتقاد ہیں صاحب یقیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1650 سے 6203