وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا
وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا دل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گا آتش عشق بڑھی جاتی ہے بیٹھو دم بھر گرم رفتار رہو گے تو میں جل جاؤں گا انتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہے نگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا دل سے کہتا ہے شب وصل یہی شوق وصال میں وہ ارمان نہیں ہوں کہ نکل جاؤں ...