قومی زبان

وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا

وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا دل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گا آتش عشق بڑھی جاتی ہے بیٹھو دم بھر گرم رفتار رہو گے تو میں جل جاؤں گا انتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہے نگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا دل سے کہتا ہے شب وصل یہی شوق وصال میں وہ ارمان نہیں ہوں کہ نکل جاؤں ...

مزید پڑھیے

جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی

جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی سر شوریدہ خود کرنے لگا تدبیر پتھر کی یہ مشکل کس طرح حل ہو نہیں شمشیر پتھر کی دل صیاد پتھر گردن نخچیر پتھر کی بنا آئینہ چمکی کس قدر تقدیر پتھر کی تمہارے روبرو آیا زہے توقیر پتھر کی ہمارے جوش وحشت نے یہ ہم کو رنگ دکھلایا نہ کچھ تقصیر لڑکوں کی ...

مزید پڑھیے

تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے

تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے جو شاخ پھلی ہے وہ بر آورد چمن ہے گلشن سے عنادل کو قفس میں ہے سوا چین آرام جہاں ہو وہ غریبوں کا وطن ہے ہے عالم طفلی سے عیاں موت کا ساماں غنچے کا جو ملبوس ہے وہ گل کا کفن ہے ہے حکم کہ مرنے میں نہ اب دیر لگائیں یہ قید فقط بہر اسیران کہن ہے اے ضعف یہ ...

مزید پڑھیے

جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں

جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں سب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیں نکلے جو قلب سے وہ مری آرزو نہیں تو مل ہی جائے گر تو میں سمجھوں کہ تو نہیں آنکھیں لڑا رہے ہو سر بزم غیر سے اور مجھ سے یہ بیان کہ ہم جنگ جو نہیں پیدا ہوا ہے ایک کی ضد ایک خلق میں عزت ہے غیر کی تو مری آبرو نہیں ٹانکے ...

مزید پڑھیے

جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے

جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے میرے سویم میں تمہیں پوشاک بھاری چاہئے تازہ ہو باغ تمنا آبیاری چاہئے آج تو اے چشم تر کچھ اشک باری چاہئے جب بہار آئے تو کب پرہیزگاری چاہئے سال بھر میں چار دن تو بادہ خواری چاہئے دل جگر سے جب میں کہتا ہوں نہیں آئے گا یار کہتے ہیں کچھ دیر تو اور ...

مزید پڑھیے

گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں

گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں دم بہ دم لو ترے نقش کف پا دیتے ہیں ہجر سے کرتے ہیں ناشاد ہمیں وصل سے شاد خود مرض دیتے ہیں اور آپ شفا دیتے ہیں دل کی تم بات سمجھتے ہو زباں گو نہ ہلے خوب سنتے ہو جو چپکے سے صدا دیتے ہیں کم نہ سمجھیں مری آہوں کے شراروں کو حضور آگ ابھی سارے زمانے میں ...

مزید پڑھیے

کتنے دردوں میں دواؤں کی سی تاثیر بھی ہے

کتنے دردوں میں دواؤں کی سی تاثیر بھی ہے تن بہ تقدیر ہی رہ جا کہ یہ تدبیر بھی ہے سن کے اک خواب حسیں میرے معبر نے کہا یہ ترا خواب ترے خواب کی تعبیر بھی ہے مستویٰ اپنے لئے کس نے کہا کیسے چنا اسی دنیا میں ہمالہ بھی ہے پامیر بھی ہے وصل مدہوش کناں سے غم ہجراں خوش تر کہ تصور میں ہے تو ...

مزید پڑھیے

شجر سوکھا تو فوراً کٹ گیا ہے

شجر سوکھا تو فوراً کٹ گیا ہے کئی حصوں میں منظر بٹ گیا ہے یقیناً فیصلہ کچھ اور ہوتا ستارہ ہی نظر سے ہٹ گیا ہے وہی تاریک منظر ہیں گھروں کے کہا کس نے؟ اندھیرا چھٹ گیا ہے کسے اب ڈھونڈتے پھرتے ہو لوگو؟ وفا کا مرحلہ تو کٹ گیا ہے سنی جب اس نے پیاسوں کی کہانی سمندر کا کلیجہ پھٹ گیا ...

مزید پڑھیے

درد کی حد سے گزرنا تو ابھی باقی ہے

درد کی حد سے گزرنا تو ابھی باقی ہے ٹوٹ کر میرا بکھرنا تو ابھی باقی ہے پاس آ کر مرا دکھ درد بٹانے والے مجھ سے کترا کے گزرنا تو ابھی باقی ہے چند شعروں میں کہاں ڈھلتی ہے احساس کی آگ غم کا یہ رنگ نکھرنا تو ابھی باقی ہے رنگ رسوائی سہی شہر کی دیواروں پر نام راشدؔ کا ابھرنا تو ابھی ...

مزید پڑھیے

جو شجر دھوپ میں جلے ہوں گے

جو شجر دھوپ میں جلے ہوں گے کیا ثمر دیں گے کیا پھلے ہوں گے وہ جو فٹ پاتھ پر پلے ہوں گے آخر انساں ہیں کچھ بھلے ہوں گے میں نے مانا کہ ہوں گے مہر بلب اشک آنکھوں سے تو ڈھلے ہوں گے گردش وقت پھر مخالف چل پھر جواں میرے حوصلے ہوں گے تہہ میں ڈھونڈیں گے تو ملیں گے گہر آزمائش کے مرحلے ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1649 سے 6203