قومی زبان

ہمت عالی کا اتنا تو زیاں ہونا ہی تھا

ہمت عالی کا اتنا تو زیاں ہونا ہی تھا جرم گیہاں تاب کو بے خانماں ہونا ہی تھا یہ تو اے ماتم کنان کشتگاں ہونا ہی تھا ان مہم جویاں کو اک دن جاوداں ہونا ہی تھا مر کے بھی یادوں میں جینا چاہتا ہے آدمی آدمی کی زندگی کو امتحاں ہونا ہی تھا قسمت قاموسیاں ہر عہد میں سرگشتگی تب تو امیین کو ...

مزید پڑھیے

آنسو کی طرح پونچھ کے پھینکا گیا ہوں میں

آنسو کی طرح پونچھ کے پھینکا گیا ہوں میں تارا ہوں اور زمیں پہ گرایا گیا ہوں میں قربان گاہ غم پہ چڑھانے کے واسطے بچپن میں کتنے پیار سے پالا گیا ہوں میں تابش گریزیوں کو مجال نظر کہاں چشمہ لگا کے دھوپ کا دیکھا گیا ہوں میں گو ماورائے وقت بھی ہے مجھ میں ایک چیز میزان صبح و شام میں ...

مزید پڑھیے

بات لاکھوں کی سہی پر وہ نہیں مانے تو

بات لاکھوں کی سہی پر وہ نہیں مانے تو سچ کی میزان پہ رکھ کر بھی نہ گردانے تو دیکھ کر جاتے ہوئے چیخ رہی ہوں بے سود شخصیت کو مری آ کر بھی نہ پہچانے تو توڑ کر دیر و کلیسا تو بنا دی مسجد دل میں آباد جو ہو جائیں صنم خانے تو شمع بن کر تو پگھلنے کو ہم آمادہ ہیں ڈر یہ ہے رسم وفا توڑ دیں ...

مزید پڑھیے

ہراس ہے یہ ازل کا کہ زندگی کیا ہے

ہراس ہے یہ ازل کا کہ زندگی کیا ہے خدا نہیں ہے تو لوگو امید بھی کیا ہے کسی کا رس کوئی پرواز رنگ کی منزل عذار لالۂ صحرا کی تازگی کیا ہے جو ہے وہ کچھ بھی نہیں جو نہیں وہ سب کچھ ہے مرے خدا یہ تمنا کی ساحری کیا ہے تمام حسن جہاں ناتمام ہے کہ نہیں یہ اپسرا کا تصور یہ جل پری کیا ہے سب ...

مزید پڑھیے

ہاں خود آزار ہیں دانستہ سزا چاہتے ہیں

ہاں خود آزار ہیں دانستہ سزا چاہتے ہیں ایسی دنیا سے تو ہم کرب و بلا چاہتے ہیں ہم پہ کھا کھا کے ترس پوچھ رہا ہے قاتل تختہ ہے تیغ ہے فرمائیے کیا چاہتے ہیں کیا کوئی بیت چکے غم کے بدلتے موسم سانحے جو نہ ہوئے وہ بھی ہوا چاہتے ہیں نور مہتاب سے ہم موند کے آنکھیں اپنی آتش افشانی خاور کی ...

مزید پڑھیے

ایسے منتر بھی ہو گئے ایجاد (ردیف .. ی)

ایسے منتر بھی ہو گئے ایجاد لکشمی بھی سرسوتی بھی ملی وہ جو ہم منزلی نہیں بھولے ان کو توفیق ہم روی بھی ملی دشمنوں ہی سے دشمنی بھی ملی اور در پردہ رہبری بھی ملی دوست ہی جان کو بھی آتے رہے دوستوں ہی سے زندگی بھی ملی اپنے پیاروں سے پیار ہم کو تو تھا رنج پائے مگر خوشی بھی ملی جستجو ...

مزید پڑھیے

طرح کشاں جسے ہجران یار کہتے ہیں

طرح کشاں جسے ہجران یار کہتے ہیں ہم اس کو وصل ہمیشہ بہار کہتے ہیں روا روی میں جو خاکہ سا کھنچ گیا تھا کبھی اسے بھی معتقداں شاہ کار کہتے ہیں وہ مہملات سے نکتے نکال سکتا ہے اسے فطانت عنقا شکار کہتے ہیں نہیں ہیں صنعت ذو الوجہتین کے قائل کہ حرف حق ہو تو ہم آشکار کہتے ہیں بہار نام ...

مزید پڑھیے

یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں ہم مانگتے ہیں پچھلے پہر کی دعاؤں میں کرنیں ابھی تو گم ہیں گھنیری گھٹاؤں میں بہہ جائیں گی گھٹائیں کہ کرنیں ہواؤں میں جنت کو دور دور تو ڈھونڈا گیا مگر قدموں تلے نہ ماں کے نہ تیغوں کی چھاؤں میں خشکی کے رہبروں سے تو یہ بھی نہ ہو سکا کچھ تو خدا ...

مزید پڑھیے

قید میں رکھا گیا قطرہ تو غلطاں ہو گیا

قید میں رکھا گیا قطرہ تو غلطاں ہو گیا نور کی نہروں کو نا پیدا کراں ہونا ہی تھا شہرہ ہیکل کے لئے آوازہ پیکر کے لئے ہر توانائی کو بے نام و نشاں ہونا ہی تھا ہم نے کچھ یوں ہی نہیں جھیلا تھا قرنوں کا عذاب آخر اس دیر آشنا کو مہرباں ہونا ہی تھا تنگ جب کر دی گئی ہم پر زمیں کرتے بھی ...

مزید پڑھیے

روک دے اس کو بھلا کس کی مجال آتا ہے

روک دے اس کو بھلا کس کی مجال آتا ہے ہر ترقی کے تعاقب میں زوال آتا ہے لرزہ انگیز سہی تمکنت تخت شہی لیک جب عرش معلیٰ کو جلال آتا ہے ایک دل پیار بھرا سب کے لئے لایا ہوں نہ مجھے اور کوئی فن نہ کمال آتا ہے میں نے مرشد سے دعا چاہی تو ہنس کر یہ کہا پیار گھر چھوڑ کے جاتا ہے جو مال آتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1651 سے 6203