قومی زبان

غم کی بستی عجیب بستی ہے

غم کی بستی عجیب بستی ہے موت مہنگی ہے جان سستی ہے میں اسے کیوں ادھر ادھر ڈھونڈوں میری ہستی ہی اس کی ہستی ہے عالم‌ شوق ہے عجب عالم آسماں پر زمین بستی ہے جان دے کر جو زندگی پائی میں سمجھتا ہوں پھر بھی سستی ہے غم ہے کھانے کو اشک پینے کو عشق میں کیا فراغ دستی ہے خاک ساری کی شان کیا ...

مزید پڑھیے

جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے

جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے الگ نہیں ہیں تو پھر کس کی آرزو کرتے ملا نہ ہم کو کبھی عرض حال کا موقع زباں نہ چلتی تو آنکھوں سے گفتگو کرتے اگر یہ جانتے ہم بھی انہیں کی صورت ہیں کمال شوق سے اپنی ہی جستجو کرتے جو خاک چاک جگر ہے تو پرزے پرزے دل جنوں کے ہوش میں کس کس کو ہم رفو ...

مزید پڑھیے

پہنچے نہ جو مراد کو وہ مدعا ہوں میں

پہنچے نہ جو مراد کو وہ مدعا ہوں میں ناکامیوں کی راہ میں خود کھو گیا ہوں میں کہتے ہیں جس کو حسن اسی کا ہے نام عشق دیکھو مجھے بغور کہ شان خدا ہوں میں پردہ اٹھا کہ ہوش کی دنیا بدل گئی حیران ہوں کہ سامنے کیا دیکھتا ہوں میں پیوند خاک ہو کے ملیں سر بلندیاں دشت جنوں میں بن کے بگولا اڑا ...

مزید پڑھیے

خواب ہی میں رخ پر نور دکھائے کوئی

خواب ہی میں رخ پر نور دکھائے کوئی غم میں راحت کا بھی پہلو نظر آئے کوئی سامنے اس کے دل و جان و جگر میں رکھ دوں ہاں مگر ہاتھ میں خنجر تو اٹھائے کوئی اپنے ہی گھر میں ملا ڈھونڈ رہے تھے جس کو اس کے پانے کے لیے خود ہی کو پائے کوئی آ گئی کالی گھٹا جھوم کے مے خانے پر توبہ کہتی ہے کہ مجھ کو ...

مزید پڑھیے

یہ کون سا مقام ہے اے جوش بے خودی (ردیف .. ن)

یہ کون سا مقام ہے اے جوش بے خودی رستہ بتا رہا ہوں ہر اک رہنما کو میں دونوں ہی کامیاب ہوئے ہیں تلاش میں ذات خدا ملی مجھے ذات خدا کو میں مٹی اٹھا کے دیکھتا ہوں راہ شوق کی بھولا نہیں ہوں جوش طلب میں فنا کو میں ہستی فنا ہوئی تو حقیقت یہ کھل گئی میں خود بقا ہوں کس لیے ڈھونڈوں بقا کو ...

مزید پڑھیے

لطف خودی یہی ہے کہ شان بقا رہوں

لطف خودی یہی ہے کہ شان بقا رہوں انسان کے لباس میں بن کر خدا رہوں جب مجھ کو میرے سامنے آنے سے عار ہے کس حوصلے پہ تجھ کو خدا مانتا رہوں پردے میں اک جھلک سی دکھانے سے فائدہ جلوے کو عام کر کہ تجھے دیکھتا رہوں اک تو کہ میرے دل ہی میں چھپ کر پڑا رہے اک میں کہ ہر چہار طرف ڈھونڈھتا ...

مزید پڑھیے

ہمارے ناکام تجربوں کی کسی کو کوئی خوشی نہیں تھی (ردیف .. ے)

ہمارے ناکام تجربوں کی کسی کو کوئی خوشی نہیں تھی ہمیں بزرگوں کی رائیگانی کا غم نہیں ہے تو کیا غلط ہے ہمیں بڑوں نے یہی کہا تھا کہ لا ہی سچ ہے سو گھر کی چھت پر کسی جماعت کسی خدا کا علم نہیں ہے تو کیا غلط ہے کہ سائنسی طور پر بھی دونوں کا کوئی امکاں نہیں سو کہہ دوں تمہارا ملنا خدا کے ...

مزید پڑھیے

مشکل گلے لگانے سے حل بھی نہیں ہوئی

مشکل گلے لگانے سے حل بھی نہیں ہوئی کتنے دنوں سے ایک غزل بھی نہیں ہوئی حیرت تمہارے گال پہ ہے زرد ہو گیا حیرت ہے اپنی آنکھ پہ شل بھی نہیں ہوئی اس بار اس کے سائے میں ایسا سکوں ملا ایسا سکوں کہ خواہش پھل بھی نہیں ہوئی تم نے تو خیر سارے جہاں پر یقیں کیا ہم سے تو اتباع رسل بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

پھول چیخ اٹھتے ہیں پتوں پہ نمی بولتی ہے

پھول چیخ اٹھتے ہیں پتوں پہ نمی بولتی ہے بیل کے پنجرے سے جب شاخ ہری بولتی ہے میری وسعت مرے اظہار کے آڑے آئی مجھ سمندر سے زیادہ تو ندی بولتی ہے میں تو چڑیا کو ہی بلبل کی جگہ لکھوں گا کہ مرے گھر میں تو دن رات یہی بولتی ہے دن مرا جاب کی بک بک میں گزر جاتا ہے اور شب بھر یہ کلائی کی ...

مزید پڑھیے

نیند میں کہی غزل

نیند میں کہی غزل خواب ہو گئی غزل التجا دل سکوت حکم آگہی غزل اک طرف ترا غزال اک طرف مری غزل زرد سائے ارد گرد سبز روشنی غزل اے مرے پرانے دوست کیا کہا نئی غزل ہونٹ کاٹتا غزال بال نوچتی غزل فرصت حیات کی کارکردگی غزل تیرا حسن مستقل ایکس وائے ذی غزل اے جنوں کے رب بتا کتنے دشت فی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1619 سے 6203