خموش رہ گئے گفتار تک نہیں پہنچے
خموش رہ گئے گفتار تک نہیں پہنچے ہمارے زخم بھی اظہار تک نہیں پہنچے گلہ نہیں ہے خموشی کا ان حروف کا ہے سخن میں ڈھل کے جو معیار تک نہیں پہنچے تمام خیموں میں جلتے رہے سخن کے چراغ غریب خانۂ بیمار تک نہیں پہنچے نفیٔ خاک سے اپنا حصول کیا پاتے وہ لوگ جو کسی اقرار تک نہیں پہنچے ہم اہل ...