قومی زبان

خموش رہ گئے گفتار تک نہیں پہنچے

خموش رہ گئے گفتار تک نہیں پہنچے ہمارے زخم بھی اظہار تک نہیں پہنچے گلہ نہیں ہے خموشی کا ان حروف کا ہے سخن میں ڈھل کے جو معیار تک نہیں پہنچے تمام خیموں میں جلتے رہے سخن کے چراغ غریب خانۂ بیمار تک نہیں پہنچے نفیٔ خاک سے اپنا حصول کیا پاتے وہ لوگ جو کسی اقرار تک نہیں پہنچے ہم اہل ...

مزید پڑھیے

زندگی تھی یہ تماشا تو نہیں تھا پہلے

زندگی تھی یہ تماشا تو نہیں تھا پہلے آدمی اتنا بھی تنہا تو نہیں تھا پہلے ہر طرف شمع محبت کے اجالے تھے یہاں صورتیں تھیں یہ اندھیرا تو نہیں تھا پہلے داؤ پر جذبۂ الفت کو لگا دیتے تھے لوگ پھر بھی دل اتنا شکستہ تو نہیں تھا پہلے دیکھ لیتے تھے اسی روح کے اندر خود کو آئینہ ہم پہ ادھورا ...

مزید پڑھیے

چاک دامن سے گریباں اور کتنی دور ہے

چاک دامن سے گریباں اور کتنی دور ہے اے مری وحشت بیاباں اور کتنی دور ہے اے شب غم گردش ایام کی تجھ کو قسم کچھ بتا صبح بہاراں اور کتنی دور ہے آ گیا ہوں سرحد امکان تک لے کر لہو جانے اب صحن گلستاں اور کتنی دور ہے آزمائش سے گزرتا جا رہا ہوں جوش میں کیا پتہ دریائے امکاں اور کتنی دور ...

مزید پڑھیے

کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے

کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے آئینہ اپنی فراست سے مجھے دیکھتا ہے جب سے اترے ہیں مرے دل پہ یہ آلام زمیں آسماں جھک کے رفاقت سے مجھے دیکھتا ہے میں گنہ گار ہوں آنکھوں میں ابھی تک اپنی جانے وہ کس کی نیابت سے مجھے دیکھتا ہے مائل رقص نہیں پاؤں میں زنجیر نہیں پھر بھی زنداں ہے ...

مزید پڑھیے

دل میں جھانکا تو بہت زخم پرانے نکلے

دل میں جھانکا تو بہت زخم پرانے نکلے اک فسانے سے کئی اور فسانے نکلے خواب تو خواب تھے آنکھوں میں کہاں رک جاتے وہ دبے پاؤں انہیں بھی تو چرانے نکلے دیکھنا یہ ہے ٹھہرتا ہے کہاں جوش جنوں سرپھرے شہر نگاراں کو جلانے نکلے اپنے گھر سنگ ملامت کی ہوئی ہے بارش بے گناہی کی سند ہم جو دکھانے ...

مزید پڑھیے

روح کے زخم کو لازم ہے نہاں ہو جانا

روح کے زخم کو لازم ہے نہاں ہو جانا غیر ممکن ہے اس اک شے کا بیاں ہو جانا خون دے کر بھی انہیں کیسے بچایا جاتا جن چراغوں کا مقدر تھا دھواں ہو جانا دیکھتا رہ گیا ویرانۂ ہستی میں کوئی اپنے زخموں کا بہاراں کی زباں ہو جانا چلنا پڑتا ہے ہر اک راہ میں اک عمر طرازؔ اتنا آساں نہیں منزل کا ...

مزید پڑھیے

کن سرابوں کا مقدر ہوئیں آنکھیں میری

کن سرابوں کا مقدر ہوئیں آنکھیں میری جستجو کر کے جو پتھر ہوئیں آنکھیں میری کچھ نہ تھم پایا ہے اس سیل رواں کے آگے کیسے اشکوں کا سمندر ہوئیں آنکھیں میری خون رونے کے سوا کچھ نہیں باقی ان میں کیسے آسودۂ خنجر ہوئیں آنکھیں میری کبھی انوار کو مل پاتا نہیں ان میں فروغ کیا زمیں چھوڑ کے ...

مزید پڑھیے

یقیں سے پھوٹتی ہے یا گماں سے آتی ہے

یقیں سے پھوٹتی ہے یا گماں سے آتی ہے یہ دل میں روشنی آخر کہاں سے آتی ہے مکاں جلے ہیں مکینوں کے قتل عام کے بعد مہک لہو کی امنڈتے دھواں سے آتی ہے پیام لاتی ہے اوج فراق کا مجھ تک ہوا جو مل کے مرے مہرباں سے آتی ہے قرار دیتی ہے وہ آئینے کو منزل دید جو گرد اڑ کے ابھی کارواں سے آتی ...

مزید پڑھیے

لوگ پتھر کے تھے فریاد کہاں تک کرتے

لوگ پتھر کے تھے فریاد کہاں تک کرتے دل کے ویرانے ہم آباد کہاں تک کرتے آخرش کر لیا مٹی کے حرم میں قیام خود کو ہم خانماں برباد کہاں تک کرتے ایک زندان محبت میں ہوئے ہم بھی اسیر خود کو ہر قید سے آزاد کہاں تک کرتے خود پہ موقوف کیا اس کا فقط درس وصال ہر نئے درس کو ہم یاد کہاں تک ...

مزید پڑھیے

خیمہ زن کون ہے آخر یہ کنار دل پر

خیمہ زن کون ہے آخر یہ کنار دل پر کس کا افسوں ہے کہ روشن ہیں اشارے دل پر شام اعجاز عجب آئی ہے تنہائی میں کہکشاں سے اتر آئے ستارے دل پر لگ گیا تھا کسی رخصت پہ جو مابین شباب داغ اس زخم کا اب تک ہے ہمارے دل پر جیسے محفوظ ہو تم میرے نہاں جذبوں میں کیا اسی طرح میں زندہ ہوں تمہارے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1614 سے 6203