قومی زبان

دھند میں لپٹے ہوئے منظر بہت اچھے لگے

دھند میں لپٹے ہوئے منظر بہت اچھے لگے ٹمٹماتی روشنی میں گھر بہت اچھے لگے زندگی کے راستوں پر رینگتے لوگوں کے بیچ سر اٹھاتے بولتے کچھ سر بہت اچھے لگے برف زاروں سے اترتے جھومتے دریاؤں میں پانیوں کو روکتے پتھر بہت اچھے لگے آج بھی باقی ہیں جن سے اس نگر کی رونقیں دائروں کے بیچ وہ ...

مزید پڑھیے

پربت ٹیلے بند مکانوں جیسے تھے

پربت ٹیلے بند مکانوں جیسے تھے اور جو پتھر تھے انسانوں جیسے تھے دن میں ساری بستی میلے جیسی تھی رات کے منظر قبرستانوں جیسے تھے بڑے بڑے محلوں میں رہنے والے لوگ اپنے گھر میں خود مہمانوں جیسے تھے وادی کا سنگار پہاڑی لڑکی سا جھرنے تو المست جوانوں جیسے تھے کیسے کیسے درد چھپائے ...

مزید پڑھیے

ابر ہے ابر ہے شراب شراب

ابر ہے ابر ہے شراب شراب ساقیا ساقیا شتاب شتاب نامہ لکھتا ہوں اور کہے ہے شوق قاصدا قاصدا جواب جواب یار بن اپنی زندگی اے خضر موت ہے موت ہے عذاب عذاب یہ رضاؔ نے غزل کہی اس کا شاعراں شاعراں جواب جواب

مزید پڑھیے

زلف کھولے تھا کہاں اپنی وہ پھر بے باک رات

زلف کھولے تھا کہاں اپنی وہ پھر بے باک رات خود بہ خود ہوتا تھا جوں شانہ دل اپنا چاک رات برگ گل شبنم سے تر مت جانیو اے باغباں گل نے دامن سے کیے بلبل کے آنسو پاک رات شمع روشن جوں کہ آتی ہے نظر فانوس میں برقعہ میں تھا جلوہ گر وہ روئے آتش ناک رات مغبچے کے چوکنے سے ہو گیا سارا خلل تھے ...

مزید پڑھیے

بتوں کو فائدہ کیا ہے جو ہم سے جنگ کرتے ہیں

بتوں کو فائدہ کیا ہے جو ہم سے جنگ کرتے ہیں خفا جو زندگی سے ہوں انہیں کیوں تنگ کرتے ہیں ادھر اودھر سے پھر تیری گلی میں دل لے آتا ہے طرف دیر و حرم کے جب کبھی آہنگ کرتے ہیں کسی اور ہی کے گھر کو کیجیو صیاد تو تزئیں ہم اپنے خون ہی سے اس قفس پر رنگ کرتے ہیں بتنگ آ کر کے عالم نے گریباں ...

مزید پڑھیے

اگر انار میں وہ روشنی نہیں بھرتا

اگر انار میں وہ روشنی نہیں بھرتا تو خاکسار دم آگہی نہیں بھرتا یہ بھوک پیاس بہرحال مٹ ہی جاتی ہے مگر ہے چیز تو ایسی کہ جی نہیں بھرتا تو اپنے آپ میں مانا کہ ایک دریا ہے مرا وجود بھی کوزہ سہی نہیں بھرتا یہ لین دین کی اپنی حدیں بھی ہوتی ہیں کہ پیٹ بھرتا ہے جھولی کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا

زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا طاق پر رکھی ہوئی میری دوا تھی میں نہ تھا میری ہستی آئینہ تھی یا شکست آئینہ بات اتنی سی نہ سمجھے میرے ساتھی میں نہ تھا تو ہی تو سب کچھ سہی نا چیز یہ اب کچھ سہی وہ تو میری ابتدا بے انتہا تھی میں نہ تھا دیکھتا رہتا ہوں منظر دیدنی نا دیدنی ہاں ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا

کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا کہ کاروبار تو اخبار پر نہیں چلتا ہم آپ اپنا گریبان چاک کرتے ہیں ہمارا بس ہی تو سرکار پر نہیں چلتا کچھ اور چاہیئے تسکین جسم و جاں کے لیے ہمارا کام تو دیدار پر نہیں چلتا میں جانتا ہوں مجھے کس کا ساتھ دینا ہے میں بلی بن کے تو دیوار پر نہیں ...

مزید پڑھیے

شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی

شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی مہرے سفید گھر میں بھی کالے تو ہیں وہی شاخوں پہ سانپ ہیں تو شکاری ہیں تاک میں سہمے پرندے ان کے نوالے تو ہیں وہی پہچاننے میں ہم کو تکلف ہوا انہیں حالانکہ اپنے جاننے والے تو ہیں وہی وارث بدل گئے کہ وصیت بدل گئی لیکن گواہ اور قبالے تو ہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں پہ ابھی تہمت بینائی کہاں ہے

آنکھوں پہ ابھی تہمت بینائی کہاں ہے تو خود ہی تماشہ ہے تماشائی کہاں ہے آئینہ ہوئی تشنگی پایابیٔ جاں سے چہرے پہ تو لکھی ہوئی رسوائی کہاں ہے ان جاگتی آنکھوں کو ملے دھوپ کے بازار اے دل وہ پگھلتی ہوئی تنہائی کہاں ہے سورج ہے کہ بس نوک پہ سوئی کی کھڑا ہے اب فرصت کم کم بھی مرے بھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1608 سے 6203