نہ ابتدائے جنوں ہے نہ انتہائے جنوں
نہ ابتدائے جنوں ہے نہ انتہائے جنوں بس ایک فتنہ ہے کہیے جسے ادائے جنوں وہ گل کی طرح سے ہنستا ہے میری حالت پر ارادہ اب ہے کوئی اور گل کھلائے جنوں کمال یہ ہے خرد بھی تلاش کرتی ہے برائے سجدۂ تعظیم نقش پائے جنوں یہ اپنی اپنی طبیعت ہے کیا کیا جائے تمہیں رلائے جنوں اور مجھے ہنسائے ...