قومی زبان

دو بوند کو شبنم کی گلزار ترستے ہیں

دو بوند کو شبنم کی گلزار ترستے ہیں بادل تری رحمت کے جنگل پہ برستے ہیں دو لفظ محبت کے دو لفظ تسلی کے احباب و اعزا سب سننے کو ترستے ہیں ہر موڑ پہ بیٹھے ہیں عفریت دہن کھولے یہ کون سی منزل ہے یہ کون سے رستے ہیں جن لوگوں سے رونق تھی اس شہر نگاراں کی وہ شہر خموشاں کی خاموشی میں بستے ...

مزید پڑھیے

یاد جب گزری ہوئی شام کا منظر آیا

یاد جب گزری ہوئی شام کا منظر آیا لوٹ کر تارہ سا اک دل کے افق پر آیا آتش گل کو تو شبنم ہی سمجھ سکتی ہے تو گیا اور فقط سیر چمن کر آیا کھنچ گئی ذہن میں اک وہم و یقیں کی تصویر ہاتھ میں جب کسی فن کار کے پتھر آیا رخ پہ اک پھول کھلا آنکھ میں موتی چمکا نام جب میرا کبھی ان کے لبوں پر آیا چل ...

مزید پڑھیے

دھلی ہوئی ہیں فضائیں ترے بدن کی طرح

دھلی ہوئی ہیں فضائیں ترے بدن کی طرح کھلی ہوئی ہے دھنک رنگ پیرہن کی طرح یہ کیا غضب ہے کہ اس شہر میں ترے ہوتے بھٹک رہی ہے نظر ایک بے وطن کی طرح ہوئی وہ صبح وہ چمکی پہاڑ کی چوٹی وہ آفتاب نکلتا ہے کوہ کن کی طرح چراغ دیر و حرم سے تو روشنی نہ ہوئی ہمارے دل کی طرح تیری انجمن کی طرح یہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے غم میں ہوئے ہیں وہ سوگوار تو کیا

ہمارے غم میں ہوئے ہیں وہ سوگوار تو کیا بہائے اشک اب آ کر سر مزار تو کیا عدو کے دوش پہ بکھری ہے زلف یار تو کیا خزاں کی گود میں ہے موسم بہار تو کیا ہزار بار زمانے پہ فتح پائی ہے اگر ہوئی ہے محبت میں ایک ہار تو کیا طلوع مہر منور تو رک نہیں سکتا رخ سحر پہ ہے چھایا ہوا غبار تو کیا چلا ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ جن کو حجاب و حیا ضروری ہے

زمیں پہ جن کو حجاب و حیا ضروری ہے غضب ہے ان کی حجاب و حیا سے دوری ہے انہیں کو ملتا ہے در سے حضور عالی کے لبوں پہ جن کے میاں آج جی حضوری ہے شجر شجر پہ چمن میں خزاں کے ڈیرے ہیں نہ برگ و گل نہ کہیں نغمۂ طیوری ہے شکم جو نان و نمک کے لئے ترستے ہیں نہ ان کی شب ہے سہانی نہ صبح نوری ...

مزید پڑھیے

مری تلاش و طلب ہے نئی زمیں کے لئے

مری تلاش و طلب ہے نئی زمیں کے لئے ہے کہکشاں کی ضرورت تری جبیں کے لئے کبھی ستارۂ زہرا ہنسا تو میں سمجھا مری نگاہ کے بوسے تری جبیں کے لئے زبان شعر میں کہتا ہوں ذکر محنت و زر صدائے عام ہے یاران نکتہ چیں کے لئے اسی کی یاد سے خوش ہے دل حزیں میرا اسی کی یاد قیامت دل حزیں کے لئے تمہیں ...

مزید پڑھیے

جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں

جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں ہوا کی لوح پہ محفوظ ہو کے رہ جاؤں یہ کیا یقین کہ تو مل ہی جائے گا مجھ کو تری جدائی کا جاں لیوا دک تو سہہ جاؤں خود اپنے آپ کو دیکھوں ورق ورق کر کے کسی کے سامنے جاؤں تو تہہ بہ تہہ جاؤں کھڑا ہوں صورت دیوار ریگ ساحل پر ذرا سی موج بھی آئے تو گھل کے ...

مزید پڑھیے

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے تو مرے ہوتے دکھی ہے میرے شاعر کس لیے سانس لینے پر مجھے مجبور کرتا ہے یہ کون کیا بتاؤں جی رہا ہوں کس کی خاطر کس لیے سوچتا ہوں کیوں بکھر جاتی نہیں ہر ایک شے وہ نہیں ہے تو مرتب ہیں عناصر کس لیے وہ جو اس کے دل میں ہے کیوں اس کے ہونٹوں پر نہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہوگا

جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہوگا یہ کون جانتا ہے کون کس جگہ ہوگا تو میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ آئے لمحوں میں جینا بھی اک سزا ہوگا ہم اپنے اپنے بکھیڑوں میں پھنس چکے ہوں گے نہ تجھ کو میرا نہ مجھ کو ترا پتا ہوگا یہی جگہ جہاں ہم آج مل کے بیٹھے ہیں اسی جگہ پہ خدا جانے کل کو ...

مزید پڑھیے

سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے

سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے لوگ کیسے میرے اندر کی صفائی دیکھتے اس سے ملنے کا نشاں تک بھی نظر آتا نہیں ایک مدت ہو گئی راہ جدائی دیکھتے ہم تو اپنی وسعت دل سے بھی کوسوں دور تھے تیرے دل تک کس طرح اپنی رسائی دیکھتے آپ ہی تھک ہار کر اپنے کو بے حس کر لیا زندگی کب تک تری بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1589 سے 6203