عزم سفر جب خام نہیں ہے
عزم سفر جب خام نہیں ہے
پھر منزل دو گام نہیں ہے
عشق حبیب حق ہے جن کو
ان کو غم ایام نہیں ہے
اس کو سزا دیتے ہیں منصف
جس پہ کوئی الزام نہیں ہے
اختر شعریؔ کے در جیسا
شہر میں فیض عام نہیں ہے
آئینہ مت دیکھو رفعتؔ
اب چہرہ گلفام نہیں ہے