قومی زبان

مہکتی آنکھوں میں سوچا تھا خواب اتریں گے

مہکتی آنکھوں میں سوچا تھا خواب اتریں گے پتا نہ تھا کہ یہاں بھی عذاب اتریں گے فریب کھائے گی ہر بار میری تشنہ لبی بدن کے دشت پہ جب جب سراب اتریں گے مری لحد پہ نہ روشن کرے چراغ کوئی یہ وہ جگہ ہے جہاں آفتاب اتریں گے سفید پوشوں کی کب تک چھپیں گی کرتوتیں کہ دھیرے دھیرے سبھی کے نقاب ...

مزید پڑھیے

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے ہمارے جسم میں زخموں کے پھول ٹانکتا ہے یہ آفتاب نہیں دیتا چاند کو کرنیں تمام دن کی مسافت کا درد بانٹتا ہے بجھے گی کیسے خدا جانے اس کے پیٹ کی آگ یہ سرخ سرخ سا سورج ستارے پھانکتا ہے ہمارے صبر نے اس کو تھکا دیا اتنا یہ معجزہ ہے کہ مقتل میں ظلم ...

مزید پڑھیے

اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئے

اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئے جا رہا ہے کون نیزوں پر سفر کرتے ہوئے زندگی فاقوں کے سائے میں بسر کرتے ہوئے جی رہا ہوں خون دل خون جگر کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں نام بچوں کے غموں کی جائداد ان کی صبح زندگی کو دوپہر کرتے ہوئے اتنے وحشت ناک منظر پتلیوں میں بس گئے خواب بھی ڈرنے لگے ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کا پتہ دے کے خود سراب ہوا

حقیقتوں کا پتہ دے کے خود سراب ہوا وہ مجھ کو ہوش میں لا کر خیال و خواب ہوا وہ اپنے لمس سے پتھر بنا گیا مجھ کو وصال اس کا مجھے صورت عذاب ہوا سروں پہ سب کے پڑی حادثوں کی دھوپ مگر کوئی سراب بنا اور کوئی سحاب ہوا عذاب سب کے مرے جسم و جاں پہ نقش ہوئے مرا وجود مرے عہد کی کتاب ہوا سکوت ...

مزید پڑھیے

خود نگر تھے اور محو دید حسن یار تھے

خود نگر تھے اور محو دید حسن یار تھے ہم کہ اپنے روبرو شیشہ کی اک دیوار تھے پھر نگاہوں نے بنے تھے چار سو خوابوں کے جال سو بہ سو پھر رشتہ گر وہم و گماں کے تار تھے مختصر سا ہے ہمارا قصۂ شوق سفر ابر آوارہ تھے ہم لیکن سر کہسار تھے خندہ ریز و گریہ گیں تھی زخم خاطر کی نمود دور دنیا کے ...

مزید پڑھیے

میری گڑیا

ڈاکٹر دیکھو میری گڑیا دے دو اس کو دوا کی پڑیا ہنستی ہے نہ روتی ہے ہر دم یہ تو سوتی ہے دانا پانی کچھ نہ کھائے چاہوں بھی تو چل نہ پائے کمزوری ہے یا بیماری ایسی کیوں ہے یہ بیچاری کوئی انجکشن دے دو ایسا کام کرے یہ میرے جیسا

مزید پڑھیے

زندگی ساتھ فقط دے گی سحر ہونے تک

زندگی ساتھ فقط دے گی سحر ہونے تک کب یہ سوچا تھا کبھی ملک بدر ہونے تک کون کب روٹھ گیا کس کو کہاں بھول گئے آؤ کچھ یاد کریں ختم سفر ہونے تک چند آنسو جو ترا تحفہ ہے لوٹائیں گے ہاں چھپا رکھے ہیں آنکھوں میں گہر ہونے تک مجھ کو کچھ پودوں کا ذمہ جو دیا ہے یا رب یاد بھی رکھنا ذرا ان کے شجر ...

مزید پڑھیے

درخت کیسے بڑھے گا اگر نہ پانی دے

درخت کیسے بڑھے گا اگر نہ پانی دے کسی کو پڑھ جو ترے شعر کو روانی دے اگرچہ میں نے تو آب حیات مانگا ہے جو مے ہی دینی ہے تو نے بہت پرانی ہے بصد خلوص مجھے زہر دے گیا ہے وہ کہ جس سے میں نے کہا زندگی سہانی دے جو ایک بار انا الحق کی نذر کر دے تو ہزار بار خدا تجھ کو پھر جوانی دے نگہ اداس ہے ...

مزید پڑھیے

ہم اگر مارے گئے اپنی جوانی میں کہیں

ہم اگر مارے گئے اپنی جوانی میں کہیں نام لکھ دینا محبت کی کہانی میں کہیں کیوں نہ اس بھولے کو یاد آیا بھلا گھر کا پتا کچھ خطا ہم سے ہوئی یاد دہانی میں کہیں کون سے دیس سے نکلا تو ہوا پردیسی ڈھونڈ پرزہ کسی پتلون پرانی میں کہیں دیس چھوڑا تو ہر اک چیز وہاں چھوڑ آئے یوں بھی کرتا ہے ...

مزید پڑھیے

کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے

کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے چلو سورج کے سر پر تھوڑا سایہ رکھ دیا جائے مرے مالک سر شاخ شجر اک پھول کی مانند مری بے داغ پیشانی پہ سجدہ رکھ دیا جائے گنہ گاروں نے سوچا ہے مسلسل نیکیاں کر کے شب ظلمت کے سینے پر اجالا رکھ دیا جائے تن بے سر ہوں میرے سائے میں اب کون بیٹھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1583 سے 6203