قومی زبان

اے مکاں یاد ہے کچھ تیرے مکیں کیسے ہیں

اے مکاں یاد ہے کچھ تیرے مکیں کیسے ہیں تجھ میں بستے تھے کبھی اور کہیں کیسے ہیں بام پر چلتی ہوا چاند ستارے بادل ڈھونڈتے پھرتے ہیں وہ سارے حسیں کیسے ہیں ان دریچوں میں جو چلمن سے لگے رہتے تھے جلوہ آرا ہیں کہاں پردہ نشیں کیسے ہیں جن کی زلفوں میں سر شام مہک رہتی تھی دل ربا سرو قد و ...

مزید پڑھیے

تمہارا جانا تمہارے جانے پہ گزری آہٹ سے بات کرنا

تمہارا جانا تمہارے جانے پہ گزری آہٹ سے بات کرنا ہمیں تو عادت سی ہو گئی ہے کہ سرسراہٹ سے بات کرنا کبھی بھی ہم پر کھلا نہیں ہے کہ اصل میں اس نے کیا کہا ہے گئی ہواؤں کی طرح کانوں میں سنسناہٹ سے بات کرنا اگر ہو پت جھڑ تو میرے یہ زرد ہاتھ ہاتھوں میں تھام لینا جو ساونوں کی جھڑی لگی ہو ...

مزید پڑھیے

رقص

مرے ہم رقص میں جب ایڑیاں اپنی اٹھا کر تمہارے مضبوط کندھوں سے پرے پس منظر میں رقصاں زیست کو وفا کا گیت گاتے دیکھتی ہوں تو مری مسرور آنکھیں وفور عشق سے بے تاب ہو کر کانپتی ہیں مرے چہرے کو پلکوں کا نغمہ سرخ کرتا ہے بدن کا خون رخساروں پہ شعلے پھینکتا ہے محبت مانگ میں میری روپہلی اور ...

مزید پڑھیے

تھکن کی ایک شام

کام کتنے ادھورے پڑے تھے اور روشنی کم سے کم ہو رہی تھی مجھے یوں لگا میری پیشانی ہلکے پسینے سے نم ہو رہی تھی ایسے میں تم نے مری مانگ کو چوم کر مجھ سے سرگوشیوں میں کہا جان افشاں جبیں پر اتر آئی ہے یا ستاروں نے بوسہ دیا ہے بتاؤ بھلا اب کہاں کی تھکن

مزید پڑھیے

بھوک

علی الصباح کہ دنیا تھی محو خواب ابھی چھپا تھا حجرۂ مشرق میں آفتاب ابھی فلک پہ انجمن شب کا تھا اثر باقی گھرا ہوا تھا ستاروں میں ماہتاب ابھی فضائیں گم تھیں دھندلکے میں آخر شب کے عروش صبح کے چہرے پہ تھی نقاب ابھی لیا نہ تھا ابھی سورج نے بوسۂ عارض سلونے رنگ میں نکھرا نہ تھا شباب ...

مزید پڑھیے

دستور سازی کی کوشش

یوں تو ہر شاعر کی فطرت میں ہے کچھ دیوانگی غیر ذمہ داریاں ہیں اس کی جزو زندگی ارض شعرستان میں یہ شاعرانہ خاصیت کینسر کی طرح سے جب پھیلنے بڑھنے لگی مختلف اسکول جب جنگی اکھاڑے بن گئے فکر و فن میں جب نراجی کیفیت پیدا ہوئی مملکت میں ضابطہ کوئی نہ جب باقی رہا ہر جگہ قانون کی ہونے لگی بے ...

مزید پڑھیے

شاعر

شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈھنا چاہیں وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا اور صبح کو آئینہ لئے سامنے اپنے اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا اور شام کو حلقے میں مریدان سخن کے بیٹھا ہوا رحمانیہ ہوٹل میں ملے گا اور شب کو سر ...

مزید پڑھیے

دل بدلی

چلتے چلتے دفعتاً پٹری بدلنے کا چلن تھا سیاست کے قلابازوں کا یک مشہور فن فائدہ ہوتا تھا وقتی طور پر اس کھیل میں گو سکا حضرات کہتے تھے اسے بازار پن اہل شعرستان نے بھی اب اسے اپنا لیا کار آمد دیکھ کر یہ نسخۂ آہن شکن ہو رہا ہے اس قدر مقبول یہ نسخہ کہ اب دل بدلتے رہتے ہیں دن رات ارباب ...

مزید پڑھیے

زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا

زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا میرے قاتل سے کوئی اے کاش اتنا پوچھ لے یہ زمیں میرے لہو سے پاک ہو جائے گی کیا ہر طرف عریاں تنی کے جشن ہوں گے روز و شب اس قدر تہذیب نو بے باک ہو جائے گی کیا بڑھ گیا سایہ اگر قد سے تو بڑھنے دیجئے خاک اڑ کر ہمسر ...

مزید پڑھیے

یہ کس دیار کے ہیں کس کے خاندان سے ہیں

یہ کس دیار کے ہیں کس کے خاندان سے ہیں اسیر ہو کے بھی جو لوگ اتنی شان سے ہیں ملے عروج تو مغرور مت کبھی ہونا بلندیوں کے سبھی راستے ڈھلان سے ہیں تم اپنے اونچے محل میں رہو مگر سوچو تمہارے سائے میں کچھ لوگ بے نشان سے ہیں زمین کرب کی ہر فصل کا جو مالک ہے ہمارے درد کے رشتے اسی کسان سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1582 سے 6203