اے مکاں یاد ہے کچھ تیرے مکیں کیسے ہیں
اے مکاں یاد ہے کچھ تیرے مکیں کیسے ہیں تجھ میں بستے تھے کبھی اور کہیں کیسے ہیں بام پر چلتی ہوا چاند ستارے بادل ڈھونڈتے پھرتے ہیں وہ سارے حسیں کیسے ہیں ان دریچوں میں جو چلمن سے لگے رہتے تھے جلوہ آرا ہیں کہاں پردہ نشیں کیسے ہیں جن کی زلفوں میں سر شام مہک رہتی تھی دل ربا سرو قد و ...