درخت کیسے بڑھے گا اگر نہ پانی دے

درخت کیسے بڑھے گا اگر نہ پانی دے
کسی کو پڑھ جو ترے شعر کو روانی دے


اگرچہ میں نے تو آب حیات مانگا ہے
جو مے ہی دینی ہے تو نے بہت پرانی ہے


بصد خلوص مجھے زہر دے گیا ہے وہ
کہ جس سے میں نے کہا زندگی سہانی دے


جو ایک بار انا الحق کی نذر کر دے تو
ہزار بار خدا تجھ کو پھر جوانی دے


نگہ اداس ہے دے اس کو کوئی نظارہ
زباں جو گنگ ہے یا رب اسے کہانی دے


زمیں جو بانجھ ہے اب اس کی گود بھی بھر دے
جو ہونٹ سوکھ رہے ہیں انہیں بھی پانی دے