خوابوں کی اک بھیڑ لگی ہے جسم بچارا نیند میں ہے
خوابوں کی اک بھیڑ لگی ہے جسم بچارا نیند میں ہے آدھا چہرہ نیند سے باہر آدھا چہرہ نیند میں ہے اک اجلاس تھا دیوانوں کا جس کی یہ روداد بنی! صدیوں سے بیمار ہے دنیا اور مسیحا نیند میں ہے آہن پیکر آوازوں پر ہم نے جنہیں تسخیر کیا سوتے سوتے چونک اٹھتے ہیں ایسا دھڑکا نیند میں ہے ہفت ...