قومی زبان

خوابوں کی اک بھیڑ لگی ہے جسم بچارا نیند میں ہے

خوابوں کی اک بھیڑ لگی ہے جسم بچارا نیند میں ہے آدھا چہرہ نیند سے باہر آدھا چہرہ نیند میں ہے اک اجلاس تھا دیوانوں کا جس کی یہ روداد بنی! صدیوں سے بیمار ہے دنیا اور مسیحا نیند میں ہے آہن پیکر آوازوں پر ہم نے جنہیں تسخیر کیا سوتے سوتے چونک اٹھتے ہیں ایسا دھڑکا نیند میں ہے ہفت ...

مزید پڑھیے

کیسے کٹے قصیدہ گو حرف گروں کے درمیاں

کیسے کٹے قصیدہ گو حرف گروں کے درمیاں کوئی تو سر کشیدہ ہو اتنے سروں کے درمیاں ایک تو شام رنگ رنگ پھر مرے خواب رنگ رنگ آگ سی ہے لگی ہوئی میرے پروں کے درمیاں ہاتھ لیے ہیں ہاتھ میں پھر بھی نظر ہے گھات میں ہم سفروں کی خیر ہو ہم سفروں کے درمیاں اب جو چلے تو یہ کھلا شہر کشادہ ہو گیا بڑھ ...

مزید پڑھیے

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی وہ جو ربط ضبط گلوں سے تھا جو دعا سلام سبو سے تھی کوئی اور بات ہی کفر تھی کوئی اور ذکر ہی شرک تھا جو کسی سے وعدۂ دید تھا تو تمام شب ہی وضو سے تھی نہ کسی نے زخم کی داد دی نہ کسی نے چاک رفو کیا ملے ہم کو جتنے بھی بخیہ گر انہیں فکر اپنے رفو ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے وقت تو کچھ اس میں غم گساری تھی

بچھڑتے وقت تو کچھ اس میں غم گساری تھی وہ آنکھ پھر تو ہر اک کیفیت سے عاری تھی نہ جانے آج ہواؤں کی زد پہ کون آیا نہ جانے آج کی شب کس دیے کی باری تھی ذرا سی دیر کو چمکی تو تھی غنیم کی تیغ سواد شہر میں پھر روشنی ہماری تھی سفر سے لوٹے تو جیسے یقیں نہیں آتا کہ ساری عمر اسی شہر میں گزاری ...

مزید پڑھیے

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی ہوئی جو خشک تو میرے لیے صلیب بھی تھی دیار سنگ میں سر پھوڑتی پھری برسوں مری صدا کہ جو اس دور کی نقیب بھی تھی جو شمع دور تھی اس نے فقط دھواں ہی دیا اسی کی لو سے جلا ہوں جو کچھ قریب بھی تھی سرشت حسن عجب ہے کہ وصل کے ہنگام نگاہ یار میں کیفیت رقیب ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ دور کم نظراں ہے تو پھر صلہ کیسا

یہ دور کم نظراں ہے تو پھر صلہ کیسا یہ اپنا عہد ہے اس عہد کا گلا کیسا بہت دنوں سے نہیں مجھ کو اضطراب غزل رکا ہوا ہے خیالوں کا قافلہ کیسا کہاں یہ شام کہاں میرے آشنا چہرے سمٹ رہا ہے تصور میں فاصلہ کیسا کہاں یہ رات کہاں تیری بوئے پیراہن چلا تھا آج خیالوں کا سلسلہ کیسا کئی چراغ ...

مزید پڑھیے

دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں

دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں زر زادگان شہر محبت کہاں سے لائیں صرف شمار دولت دنیا ہوئے جو لوگ وہ نامراد دل کی امارت کہاں سے لائیں سارا لہو تو صرف شمار و عدو ہوا شام فراق یار کی اجرت کہاں سے لائیں وہ جن کے دل کے ساتھ نہ دھڑکا ہو کوئی دل زندہ بھی ہیں تو اس کی شہادت کہاں سے ...

مزید پڑھیے

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے لہو میں آج قیامت کی برف باری ہے مچا ہوا ہے بدن میں لہو کا واویلا کہیں سے کوئی کمک لاؤ زہر کاری ہے یہ دل ہے یا کسی آفت رسیدہ شہر کی رات کہ جتنا شور تھا اتنا سکوت طاری ہے صداقتیں ہیں عجب عشق کے قبیلہ کی! اسی سے جنگ بھی ٹھہری ہے جس سے یاری ہے وہ ساتھ ...

مزید پڑھیے

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا اندھیری رات میں میرا دیا تھا ہاتھ اس کا کچھ ایسی نیند سے جاگی کہ پھر نہ سوئی وہ آنکھ جلا کیا یوں ہی کاجل تمام رات اس کا تمام شب وہ ستاروں سے گفتگو اس کی تمام شب وہ سمندر سا التفات اس کا کبھی وہ ربط کہ آنکھوں میں جس طرح کاجل کبھی بچھڑ کے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1577 سے 6203