کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ
کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ عجب مشقت ہجراں میں جل بجھے ہم لوگ ہم اپنے عکس کو آئینہ کرنے والے تھے پہ ایک لمحۂ حیراں میں جل بجھے ہم لوگ سنبھال پائے گا پھر کون خواب کا ورثہ اسی خیال پریشاں میں جل بجھے ہم لوگ جو آنکھ سے نہیں ٹپکے ان آنسوؤں کے ساتھ خود اپنے خیمۂ مژگاں میں جل ...