قومی زبان

کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ

کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ عجب مشقت ہجراں میں جل بجھے ہم لوگ ہم اپنے عکس کو آئینہ کرنے والے تھے پہ ایک لمحۂ حیراں میں جل بجھے ہم لوگ سنبھال پائے گا پھر کون خواب کا ورثہ اسی خیال پریشاں میں جل بجھے ہم لوگ جو آنکھ سے نہیں ٹپکے ان آنسوؤں کے ساتھ خود اپنے خیمۂ مژگاں میں جل ...

مزید پڑھیے

تیری گلی کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں

تیری گلی کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں دنیا میں کوئی اور ٹھکانا تو ہے نہیں جی چاہتا ہے کاش وہ مل جائے راہ میں حالانکہ معجزوں کا زمانا تو ہے نہیں اس گھر میں اس کے نام کا کمرہ ہے آج بھی جس کو کبھی بھی لوٹ کے آنا تو ہے نہیں شاید وہ رحم کھا کے مری جان بخش دے قاتل ہے کوئی دوست پرانا تو ہے ...

مزید پڑھیے

جو صحیفوں میں لکھی ہے وہ قیامت ہو جائے

جو صحیفوں میں لکھی ہے وہ قیامت ہو جائے گر محبت دل انساں سے بھی رخصت ہو جائے تو زمینوں پہ اتر کر جو گزارے اک دن آسمانوں کے خدا تجھ کو بھی حیرت ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ تنہا یوں ہی رہتے رہتے رفتہ رفتہ مجھے تنہائی کی عادت ہو جائے کچھ بشر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن سے مل کر دیوتاؤں کی ...

مزید پڑھیے

دل کے بہلانے کا سامان نہ سمجھا جائے

دل کے بہلانے کا سامان نہ سمجھا جائے مجھ کو اب اتنا بھی آسان نہ سمجھا جائے میں بھی دنیا کی طرح جینے کا حق مانگتی ہوں اس کو غداری کا اعلان نہ سمجھا جائے اب تو بیٹے بھی چلے جاتے ہیں ہو کر رخصت صرف بیٹی کو ہی مہمان نہ سمجھا جائے میری پہچان کو کافی ہے اگر میری شناخت مجھ کو پھر کیوں ...

مزید پڑھیے

مصروفیت اسی کی ہے فرصت اسی کی ہے

مصروفیت اسی کی ہے فرصت اسی کی ہے اس سرزمین دل پہ حکومت اسی کی ہے ملتا ہے وہ بھی ترک تعلق کے باوجود میں کیا کروں کہ مجھ کو بھی عادت اسی کی ہے جو عمر اس کے ساتھ گزاری اسی کی تھی باقی جو بچ گئی ہے مسافت اسی کی ہے ہوتا ہے ہر کسی پہ اسی کا گماں مجھے لگتا ہے ہر کسی میں شباہت اسی کی ...

مزید پڑھیے

وہ منتظر ہیں ہمارے تو ہم کسی کے ہیں

وہ منتظر ہیں ہمارے تو ہم کسی کے ہیں علامتوں میں یہ آثار خودکشی کے ہیں پس مراد بہت خواب ہیں نگاہوں میں سمندروں میں جزیرے یہ روشنی کے ہیں میں اپنے آپ کو دشمن کے صرف میں دے دوں یہ مشورے تو مری جان واپسی کے ہیں ہجوم عکس ہے اور آئینہ صفت ہوں میں سو میرے جتنے بھی دکھ ہیں وہ آگہی کے ...

مزید پڑھیے

حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے بہتے دریا تشنہ لب کیسے ہوئے گھر سے باہر بھی مہذب لوگ ہیں میرے بچے بے ادب کیسے ہوئے جنگلوں کے باسیوں کو کیا خبر حادثات شہر کب کیسے ہوئے سیکڑوں تھے شہر میں سورج بدن چاند تارے منتخب کیسے ہوئے کوئی تو ہوتا مرا پرسان حال بے مروت سب کے سب کیسے ہوئے شہر ...

مزید پڑھیے

کوئی انمول شے پائی ہوئی سی لگ رہی ہے

کوئی انمول شے پائی ہوئی سی لگ رہی ہے کہ چہرے پر چمک آئی ہوئی سی لگ رہی ہے تسلسل ہے خنک سایوں کا جو حد نظر تک فضا میں زلف لہرائی ہوئی سی لگ رہی ہے گیا ہے کون اٹھ کر آج اس بزم جہاں سے اداسی ہر طرف چھائی ہوئی سی لگ رہی ہے کہیں ہم دیکھتے ہیں بے حسی پر خوف طاری کہیں غیرت بھی تھرائی ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ آنسو بہا نہیں سکتے

یہ اور بات کہ آنسو بہا نہیں سکتے بچھڑ کے تجھ سے مگر مسکرا نہیں سکتے امیر باپ کے بیٹوں کو شرم آتی ہے کسی کی راہ کا پتھر ہٹا نہیں سکتے ہم آفتاب کی بستی کے رہنے والے ہیں ہمیں ہواؤں کے جھونکے بجھا نہیں سکتے یہی علاقہ تو شہباز کا علاقہ ہے یہاں چھتوں پہ کبوتر اڑا نہیں سکتے وہ بے ...

مزید پڑھیے

ستم گروں کی اطاعت قبول کرتا ہے

ستم گروں کی اطاعت قبول کرتا ہے جدید دور کا انساں بھی بھول کرتا ہے تمام اعضا ہیں گمراہ امتوں کی طرح بس ایک دل ہے جو کار رسول کرتا ہے بڑی عظیم دعا سے نواز کر سائل بہت حقیر سی قیمت وصول کرتا ہے کہاں مہکتے تھے پہلے مرے در و دیوار یہ کام اس کی محبت کا پھول کرتا ہے فسانہ چھیڑ کے گزرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1573 سے 6203