قومی زبان

میں مبتلائے عشق ہوں مجھ کو پتا نہ تھا

میں مبتلائے عشق ہوں مجھ کو پتا نہ تھا جب تک کسی نے حال یہ میرا کیا نہ تھا پایا ہے جب سے تجھ کو ہے تکمیل کا سرور میں تھی ادھوری تو مجھے جب تک ملا نہ تھا اللہ تیرے عشق میں ہوں حال سے بے حال تب تک بڑے مزے میں تھی جب دل لگا نہ تھا

مزید پڑھیے

بیاباں ہو کہ صحرا ہو مجھے تیرا سہارا ہو

بیاباں ہو کہ صحرا ہو مجھے تیرا سہارا ہو تو ہی خورشید ہو میرا تو ہی میرا ستارا ہو بلندی ہو کہ پستی ہو کہیں بیٹھوں کہیں جاؤں وہیں پر میرا کعبہ ہو وہیں تیرا نظارا ہو نہ یہ دنیا نہ وہ عقبیٰ مری تو اک تمنا ہے رہوں قدموں تلے تیرے تو ہی میرا کنارہ ہو رہو پردوں میں تم مخفی مگر جب دل میں ...

مزید پڑھیے

اب کے ملے تو ہم دونوں ہی (ردیف .. ن)

اب کے ملے تو ہم دونوں ہی خود کی تجھ سے بات کریں گے خود کی خود سے باتیں کر کے ہم دونوں اکتا بھی چکے ہیں تیرے خیالوں میں ڈوبے تو دنیا ساری گھوم لی ہم نے در پہ اک دستک جو ہوئی تو ہم کو یہ معلوم ہوا کے کب سے ہم گھر آ بھی چکے ہے راتوں کو جگتے رہنا بھی خوابوں سے بچتے رہنا بھی آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

میں نے تمہیں چلنا سکھایا تھا

ابھی جیسے یہ کل کی بات لگتی ہے کہ تم چھوٹے سے گڈے تھے تمہیں چلنا نہیں آتا تھا گھٹنوں گھٹنوں چلتے تھے کبھی کرسی کبھی صوفہ پکڑ کر جب کھڑے ہوتے تو اس چلنے کی کوشش میں تمہارے ننھے منے پاؤں اکثر ڈگمگا جاتے قدم بھی لڑکھڑا جاتے تو میں انگلی پکڑ کر پھر تمہیں چلنا سکھاتی پھر تمہیں ابو نے ...

مزید پڑھیے

چراغوں کے ساتھ جل رہی ہوں ہوا کے ہم راہ چل رہی ہوں

چراغوں کے ساتھ جل رہی ہوں ہوا کے ہم راہ چل رہی ہوں یہی ہے حالات کا تقاضا مزاج اپنا بدل رہی ہوں نہ کوئی در ہے نہ کوئی چھت ہے یہی مری اپنی سلطنت ہے تمہارے سپنوں کی شاہزادی تمہاری آنکھوں میں پل رہی ہوں خبر ہے کچھ مسکرانے والو مجھے نشانہ بنانے والو ابھی تلک میں کمان میں تھی کمان سے ...

مزید پڑھیے

بے وفا گر صنم نہیں ہوتا

بے وفا گر صنم نہیں ہوتا ترک الفت کا غم نہیں ہوتا تم نہ ہنستے جو میرے رونے پر دل شکن اتنا غم نہیں ہوتا راستے بنتے کٹتے جاتے ہیں فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا بھول جاتے مجھے جہاں والے ذکر گر دم بہ دم نہیں ہوتا اپنے کردار کی کرامت ہے یوں کوئی محترم نہیں ہوتا سطح بینی سے ہٹ کے دیکھو ...

مزید پڑھیے

ہوا کے جھونکے سر شام دل دکھانے لگے

ہوا کے جھونکے سر شام دل دکھانے لگے تمہارے ہونٹوں کے جب پھول یاد آنے لگے ہمارے نام تمہارا لفافہ کیا آیا ہمارے گھر کے در و بام مسکرانے لگے تمہارا نام جو آیا کبھی سر محفل بہت اداس تھے ہم پھر بھی مسکرانے لگے تھے ساتھ ساتھ تو دنیا سلام کرتی تھی ہوئے ہیں تنہا تو آئینے بھی ستانے ...

مزید پڑھیے

اک شہزادہ بھیس بدل کر ایسے محل میں آتا ہے

اک شہزادہ بھیس بدل کر ایسے محل میں آتا ہے ذکر تمہارا جیسے جاناں میری غزل میں آتا ہے حیراں حیراں کھویا کھویا پاگل پاگل بے کل سا جانے کس کو ڈھونڈنے چندا جھیل کے جل میں آتا ہے آنکھوں میں دیدار کا کاجل میں بھی لگا کر جاتی ہوں وہ بھی اکثر ڈھونڈنے مجھ کو تاج محل میں آتا ہے گاہے اماوس ...

مزید پڑھیے

ہمارے عذابوں کا کیا پوچھتے ہیں

ہمارے عذابوں کا کیا پوچھتے ہیں کبھی آپ کمرے میں تنہا رہے ہیں یہ تنہائی بھی ایک ہی ساحرہ ہے میاں اس کی قدرت میں سو وسوسے ہیں ہوئے ختم سگریٹ اب کیا کریں ہم ہے پچھلا پہر رات کے دو بجے ہیں چلو چند پل موند لیں اپنی پلکیں یوں جیسے کہ ہم واقعی سو گئے ہیں ذرا یہ بھی سوچیں کہ راتوں کو ...

مزید پڑھیے

شاید کبھی ایسا ہو کچھ فلم سا کر جاؤں

شاید کبھی ایسا ہو کچھ فلم سا کر جاؤں کچھ قتل کروں چن کر اور بعد میں مر جاؤں میں بے سر و ساماں اس بازار تمدن میں ناموس بزرگوں کا نیلام نہ کر جاؤں دنیائے سکوں آگیں پھر زیر قدم ہوگی سانسوں کے سمندر سے بس پار اتر جاؤں ممکن ہے کہ مل جائے وہ آخری سیما تک کیا اے دل پژمردہ میں اس کی ڈگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1571 سے 6203