دل کو رہ رہ کے یہ اندیشے ڈرانے لگ جائیں
دل کو رہ رہ کے یہ اندیشے ڈرانے لگ جائیں واپسی میں اسے ممکن ہے زمانے لگ جائیں سو نہیں پائیں تو سونے کی دعائیں مانگیں نیند آنے لگے تو خود کو جگانے لگ جائیں اس کو ڈھونڈیں اسے اک بات بتانے کے لیے جب وہ مل جائے تو وہ بات چھپانے لگ جائیں ہر دسمبر اسی وحشت میں گزارا کہ کہیں پھر سے ...