قومی زبان

دھوپ کو کچھ اور جلنا چاہئے

دھوپ کو کچھ اور جلنا چاہئے جسم کا سایہ پگھلنا چاہئے چیٹیاں چلنے لگی ہیں پیٹھ میں اب تمہارا تیر چلنا چاہئے گود سونی ہو چلی ہے آنکھ کی اب تو کوئی خواب پلنا چاہئے غم بیاں ہو پیاس کا کچھ اس طرح ریت سے پانی نکلنا چاہئے بندگی کی لو ہو ایسی جس میں کہ سنگ مرمر تک پگھلنا چاہئے ہم بدن ...

مزید پڑھیے

چراغ زیست مدھم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں

چراغ زیست مدھم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی امید میں دم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں کبھی تو وصل کی چارہ گری بھی کام آئے گی ابھی تو ہجر مرہم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی تو سامنے بیٹھی ہوں بالکل سامنے تیرے ابھی کس بات کا غم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں ابھی جو فکر ہے تیری اسے ...

مزید پڑھیے

اجالا کو بہ کو ہے اور کیا ہے

اجالا کو بہ کو ہے اور کیا ہے میرے ہم راہ تو ہے اور کیا ہے ترے احساس کی دستک ہمیشہ خیالوں پر رفو ہے اور کیا ہے یہ خاموشی اچانک لگ گئی جو مسلسل گفتگو ہے اور کیا ہے اگرچہ دور ہو نزدیک ہو پر کمال آرزو ہے اور کیا ہے وہاں بس میں نہیں ہوں اور سب ہے یہاں بس تو ہی تو ہے اور کیا ہے اب اس ...

مزید پڑھیے

خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں پھر اپنی دعا کا اثر دیکھتے ہیں ہمیں ہیں مسافر ہمیں آبلہ پا تماشہ اے گرد سفر دیکھتے ہیں فقیری فقیری فقیری فقیری نہ جنت نہ دنیا نہ گھر دیکھتے ہیں ادھر آ اے حسن تمنا ادھر آ نظر بھر تجھے اک نظر دیکھتے ہیں کسی عکس میں اب وہ باندھیں گے مجھ کو چرا کر ...

مزید پڑھیے

مرے دل میں اس نے ایسے تیرا خیال ڈالا

مرے دل میں اس نے ایسے تیرا خیال ڈالا کورے لباس پر ہو جیسے گلال ڈالا کسی سمت بھی تو رہتا ہرگز مرا نہ ہوتا ترا نام لکھ کے سکہ پھر بھی اچھال ڈالا میں زمیں سے آسماں کی ہر حد کے پار پہنچی تہ تک تھا تیری جانا سب کچھ کھنگال ڈالا اک پل میں دیکھ تیری تصویر بن گئی جب کسی آرزو میں لا کر ...

مزید پڑھیے

ہر آنے والے پل سے ڈر رہا ہوں

ہر آنے والے پل سے ڈر رہا ہوں کن اندیشوں میں گھر کر رہ گیا ہوں کسی پیاسی ندی کی بد دعا ہوں سمندر تھا مگر صحرا ہوا ہوں بس اب انجام کیا ہے یہ بتا دو بہت لمبی کہانی ہو گیا ہوں وہی میرے لیے اب اجنبی ہیں میں جن کے ساتھ صدیوں تک رہا ہوں کوئی انہونی ہو جائے گی جیسے میں اب ایسی ہی باتیں ...

مزید پڑھیے

دنیا داری سے ناواقف کیسا پاگل لڑکا تھا

دنیا داری سے ناواقف کیسا پاگل لڑکا تھا جب رونے کا موقع ہوتا تب بھی ہنستا رہتا تھا ہم سے کیسی بھول ہوئی تھی ہم نے کیا کیا سوچا تھا بالکل موم سا پگھلا وہ تو جو کندن سا لگتا تھا شک کے سائے پھیل رہے ہیں بستی والے حیراں ہیں اس نے دریا پار کیا ہے تو کیا مٹکا پکا تھا ذہن میں دھندلا ...

مزید پڑھیے

دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں

دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں ہر نفس مجھ کو بے کلی ہے کیوں دل لگاتا ہے بس صدا تیری بے قراری یہ بڑھ رہی ہے کیوں اس کے کوچے میں عمر گزری پھر کوچۂ یار اجنبی ہے کیوں جسم زنجیر ہو بھی سکتا ہے روح آزاد ہے رکی ہے کیوں اب یہ سمجھی ہوں جب بنی جاں پر مرکز جاں تری گلی ہے کیوں

مزید پڑھیے

تمہیں بتاؤ وہ کون ہے جو ہر ایک لمحہ ستا رہا ہے

تمہیں بتاؤ وہ کون ہے جو ہر ایک لمحہ ستا رہا ہے نہ نیند راتوں کو آ رہی ہے نہ چین دن کو ہی آ رہا ہے یہ اشک دامن بھگو رہے ہیں یہ آنکھیں سوجی ہوئی ہیں میری میں ایک جلوے کی اس کے طالب مگر وہ پردے گرا رہا ہے طواف کعبہ کو دیکھ تو لے تڑپ رہا ہے وجود میرا نہ پاؤں اب میرے اٹھ رہے ہیں نہ سامنے ...

مزید پڑھیے

کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے

کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے جب اٹھے ہاتھ دعاؤں کو تو گوہر برسے تک رہے تھے ترے گھر کو وہ سماں بھی کیا تھا تو گزرتا ہے ہوا آئی تو ہم یہ سمجھے کتنی ہی بار کیا ہم نے تو زمزم سے وضو کتنی ہی بار تری یاد میں آنسو چھلکے سرمۂ خاک مدینہ جو لگا آنکھوں میں مثل آئینے کے آنکھوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1570 سے 6203