قومی زبان

یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی یہ بھی ہے سچ کہ دید کی حسرت نہیں رہی دل ان کی اس ادا سے بھی مانوس ہو گیا اب جور بے رخی کی شکایت نہیں رہی دونوں بدلتے وقت کے سانچے میں ڈھل گئے وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی کیا دیکھتے ہیں دیکھ کے پیش نظر انہیں گویا نگہ میں دید کی طاقت نہیں ...

مزید پڑھیے

اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے

اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے مرگ ناگہانی کو زندگی ترستی ہے نام ہے سکوں جس کا جنس وہ نہیں ملتی اشک جس کا حاصل ہیں وہ خوشی تو سستی ہے جس جگہ محبت سے حسن و عشق ملتے ہیں کون سی وہ دنیا ہے کون سی وہ بستی ہے سو طرح رلاتی ہے بھول کر اگر ہنسئے روئیے تو یہ دنیا کھلکھلا کے ہنستی ہے کیا ...

مزید پڑھیے

آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے

آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے اس فضا میں امید وفا جرم ہے ہر طرف ہیں محبت کی مجبوریاں ابتدا جرم ہے انتہا جرم ہے ذوق‌ دیدار پر لاکھ پابندیاں دیکھ کر پھر انہیں دیکھنا جرم ہے زندگی بھر کی نیندیں اچٹ جائیں گی سایۂ زلف میں بیٹھنا جرم ہے ہر سزا کو کسی کی عطا مانئے یہ بھی کیوں پوچھئے کون ...

مزید پڑھیے

ادائے حسن کی حسن ادا کی بات ہوتی ہے

ادائے حسن کی حسن ادا کی بات ہوتی ہے وفا کی آزمائش پر جفا کی بات ہوتی ہے یہ کیسا دور دورہ ہے قلم روئے محبت میں بتوں کا حکم چلتا ہے خدا کی بات ہوتی ہے کوئی گنجائش فریاد و شکوہ تک نہیں باقی خطائے بے گناہی پر سزا کی بات ہوتی ہے بھر آتا ہے دل محروم پرسش درد مندی سے کہیں بھی جب کسی درد ...

مزید پڑھیے

تصور سے نظارے تک فروغ سحر حیرت ہے

تصور سے نظارے تک فروغ سحر حیرت ہے حقیقت بھی فسانہ ہے فسانہ بھی حقیقت ہے کسی پر جان دینا بے‌‌ نیاز مدعا ہو کر یہی جذبہ مرے نزدیک معراج محبت ہے زباں پر آ کے جو حرف و حکایت سے گزر جائے نہ جانے کیوں وہی بات ان سے کہنے کی ضرورت ہے سوال اٹھتا نہیں کوئی یہاں حد تعین کا وہاں تک جستجو ...

مزید پڑھیے

امید شوق ہو یا وعدۂ راحت فزا کوئی

امید شوق ہو یا وعدۂ راحت فزا کوئی مریض عشق کو اچھا نہیں کرتی دوا کوئی بھری دنیا میں اپنے بھی ہیں بیگانے بھی ہیں لیکن نہیں ہمدرد اب میرا ترے غم کے سوا کوئی پرانا ہو گیا ہے ذکر توبہ چھوڑیئے ساقی پرانی ہو تو لا کوئی رکھا کوئی پلا کوئی مجھے یہ عرض کرنی ہے تمہاری بے نیازی سے تمہاری ...

مزید پڑھیے

بات دل کی کوئی ان کہی رہ گئی

بات دل کی کوئی ان کہی رہ گئی ہونٹھ چپ اور نظر یہ جھکی رہ گئی خط کا ہر حرف ہم نے جلایا مگر لفظ در لفظ وابستگی رہ گئی تھا چراغوں سا روشن کبھی گھر مرا ساتھ چھوٹا تو بس تیرگی رہ گئی داستاں غم کی شاعر بیاں کر گیا لفظ کی دیکھ جادوگری رہ گئی عمر بھر مشغلہ جس کو ہم نے کہا بند صفحوں میں ...

مزید پڑھیے

میں ہی انجام میں ہی ابتدا ہوں

میں ہی انجام میں ہی ابتدا ہوں تھما وقفہ ہوں میں ہی سلسلہ ہوں مزاج دل مرا گوشہ گزیں ہے زمانے کی نظر میں نک چڑھا ہوں فسانہ نصف ہی ظاہر ہے میرا ہنسی میں غم چھپاتا مسخرا ہوں جو غربت میں بھی دل کو دے رئیسی میں مفلس کا وہیں اک حوصلہ ہوں کتابوں میں جو یکجا ہو نہ پایا وہ دائم زندگی کا ...

مزید پڑھیے

عشق کی لو کو میں بجھا آیا

عشق کی لو کو میں بجھا آیا اشک سے پھر یہ دل جلا آیا آندھیوں سے جسے بچایا تھا آشیاں پیار کا اڑا آیا دھڑکنوں کی طرح جو بستی تھی نظم تھی شاد کی بھلا آیا دیکھ کر یہ صلہ محبت کا خواب پلکوں سے میں گرا آیا نام لکھتے تھے ہم ہتھیلی پر دور مڑ کے وہ پھر کہاں آیا کھوجنے ہم چلے تھے ...

مزید پڑھیے

خواب کی تعبیر کا قصہ نرالا بن گیا

خواب کی تعبیر کا قصہ نرالا بن گیا خود فریبی زندگی کا اب سلیقہ بن گیا دفعتاً اک مسکراہٹ تیرے لب پہ آئی ہے چاہتوں کا میری اب یہ اک ٹھکانہ بن گیا چھو گئی نغموں کو تیری یہ محبت ہولے سے دیکھ انداز بیاں یہ شاعرانہ بن گیا بادلوں سا عکس تیرا دل پہ ٹھہرا دیر تک بھیگ کر یادوں کی بارش میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1546 سے 6203