یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی یہ بھی ہے سچ کہ دید کی حسرت نہیں رہی دل ان کی اس ادا سے بھی مانوس ہو گیا اب جور بے رخی کی شکایت نہیں رہی دونوں بدلتے وقت کے سانچے میں ڈھل گئے وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی کیا دیکھتے ہیں دیکھ کے پیش نظر انہیں گویا نگہ میں دید کی طاقت نہیں ...