کسے ندیم کسے ہم نوا کہیں اپنا
کسے ندیم کسے ہم نوا کہیں اپنا بٹھا کے پاس کسے مدعا کہیں اپنا رہ حیات میں اپنے پرایوں سے ہٹ کر کوئی ملے تو اسے ماجرا کہیں اپنا ادائے پردہ نشینی کی شان کہتی ہے وہ بت ہے تو بھی اسے ہم خدا کہیں اپنا قدم قدم پہ نہ کیوں اہل کارواں بھٹکیں وہ راہزن ہے جسے رہنما کہیں اپنا ہمارے پاس ...