قومی زبان

دل کی روداد نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے

دل کی روداد نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے درد مندوں کی خموشی میں زباں ہوتی ہے خود فراموش نہ جب تک ہو کوئی کیا سمجھے بے نشانی بھی محبت میں نشاں ہوتی ہے نقش امید ہیں بن بن کے بگڑتے کیا کیا زندگی رقص گہہ ریگ رواں ہوتی ہے جو ترے حسن نظر گیر سے شاداب نہیں ان بہاروں کے مقدر میں خزاں ہوتی ...

مزید پڑھیے

کرم بہ نام ستم اس پہ بے حساب ہوا

کرم بہ نام ستم اس پہ بے حساب ہوا جو لٹ گیا رہ الفت میں کامیاب ہوا نظر نظر نے پنہایا لباس تار نظر پس نقاب ہوا جو بھی بے نقاب ہوا وہ سرفراز ہوا کاروبار الفت میں برائے مشق جفا جس کا انتخاب ہوا نہ زندگی نے قبولا نہ موت نے پوچھا خراب حال زمانہ بہت خراب ہوا اتر گئے جو کسی کی ہنسی کے ...

مزید پڑھیے

پھیلائے جب دام ہوس نے رسم محبت عام ہوئی

پھیلائے جب دام ہوس نے رسم محبت عام ہوئی پست ہوا معیار وفا کا اک دنیا بدنام ہوئی دل نے کام لیا آنکھوں سے خاموشی پیغام ہوئی جلووں کی کثرت کے آگے تاب نظر ناکام ہوئی دیکھے ہیں دستور نرالے ہم نے وادئ الفت میں راہیں جب آسان ہوئیں تو سعیٔ طلب ناکام ہوئی چلتی ہیں کس کی تدبیریں کھیل ...

مزید پڑھیے

ہر اک ماحول سے بیگانگی محسوس ہوتی ہے

ہر اک ماحول سے بیگانگی محسوس ہوتی ہے کہیں اپنی کہیں تیری کمی محسوس ہوتی ہے ابھی سے کیوں جدائی کی اذیت کا کریں شکوہ ابھی دل میں تری موجودگی محسوس ہوتی ہے محبت کا کرشمہ کوئی دیکھے تیرے کوچے میں کھلے بندوں یہاں لٹ کر خوشی محسوس ہوتی ہے ترے ارشاد بے آواز کو جب دل سے سنتا ہوں خموشی ...

مزید پڑھیے

شعور چاہیے اظہار و آگہی کے لئے

شعور چاہیے اظہار و آگہی کے لئے خوشی ہے غم کے لئے اور غم خوشی کے لئے ہزار جلوے نظر کے لئے ہیں عالم میں نگاہ شوق ہے لیکن کسی کسی کے لئے ذرا ہواؤں کے رخ پر بھی اک نظر ڈالیں چراغ ڈھونڈ رہے ہیں جو روشنی کے لئے کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کیا گزرتی ہے ہم اپنے آپ سے جاتے رہے کسی کے لئے یہ ...

مزید پڑھیے

سر راہ اک حادثہ ہو گیا

سر راہ اک حادثہ ہو گیا اچانک ترا سامنا ہو گیا خود اپنی بھی اب یاد آتی نہیں تری یاد کا حق ادا ہو گیا مسیحائیاں دیکھتی رہ گئیں ترا درد بڑھ کر دوا ہو گیا کٹے گی کس امید پر زندگی اگر تیرا غم بھی جدا ہو گیا قریب آ گئیں خود بخود منزلیں ترا نقش پا رہنما ہو گیا انہیں دیکھ کر دیکھتی ...

مزید پڑھیے

دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں

دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں وفا کا ذکر ہی کیسا جفا بھی یاد نہیں معاملات‌ محبت تو یاد کیا رہتے وہ رسم و راہ کا اب سلسلہ بھی یاد نہیں نکل پڑے ہیں سفینے ہواؤں کے رخ پر خدا بھی یاد نہیں ناخدا بھی یاد نہیں وہ کائنات محبت ہوئی نظر اوجھل فسوں طرازیٔ رسم وفا بھی یاد ...

مزید پڑھیے

وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا

وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا بڑا ہجوم ہے پھر بھی ہے زندگی تنہا ترے بغیر اجالے بھی تیرہ ساماں ہیں بھٹک رہی ہے نگاہوں کی روشنی تنہا جہاں جہاں بھی گئی غم کے آس پاس رہی کسی مقام پہ دیکھی نہیں خوشی تنہا شعور دید کا انجام دیکھیے کیا ہو ہجوم‌ وہم و گماں اور آگہی تنہا خود اپنے شہر ...

مزید پڑھیے

آتش بجاں ہیں شدت سوز نہاں سے ہم

آتش بجاں ہیں شدت سوز نہاں سے ہم اس پر بھی کام لیں گے نہ آہ و فغاں سے ہم دل پر جو بن گئی ہے کہیں کیا زباں سے ہم گر کر تری نظر سے گرے آسماں سے ہم انجام جستجو پہ وہی آ گیا مقام آغاز‌ جستجو میں چلے تھے جہاں سے ہم دیر و حرم کو چھوڑ کر آئے تھے ہم یہاں جائیں کہاں اب اٹھ کے ترے آستاں سے ...

مزید پڑھیے

سمیٹ کر تری یادوں کے پھول دامن میں

سمیٹ کر تری یادوں کے پھول دامن میں بسا رہا ہوں بہاروں کو دل کے گلشن میں ابھی ضیائے تصور سے آنکھ روشن ہے ابھی بہار چراغاں ہے دل کے آنگن میں ترے بغیر ہے بے رنگ رونق گلشن یہ اور بات کہ کھلتے ہیں پھول گلشن میں گھٹاؤں سے تو برستی ہوں بجلیاں جیسے کہاں سے آئیں گی ٹھنڈی ہوائیں ساون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1545 سے 6203