دل کی روداد نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے
دل کی روداد نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے درد مندوں کی خموشی میں زباں ہوتی ہے خود فراموش نہ جب تک ہو کوئی کیا سمجھے بے نشانی بھی محبت میں نشاں ہوتی ہے نقش امید ہیں بن بن کے بگڑتے کیا کیا زندگی رقص گہہ ریگ رواں ہوتی ہے جو ترے حسن نظر گیر سے شاداب نہیں ان بہاروں کے مقدر میں خزاں ہوتی ...