قومی زبان

تمام خلیوں میں اکثر سنائی دیتا ہے

تمام خلیوں میں اکثر سنائی دیتا ہے ہر اک جہان میں محشر سنائی دیتا ہے جو چھو کے دیکھوں تو گردش کی تہہ میں گردش ہے دھروں جو کان تو محور سنائی دیتا ہے ہزار میلوں بچھی ارتقا کی مٹی پر بدن میں اب بھی سمندر سنائی دیتا ہے لچکتی رات میں سیارگاں کی چاپ سنو جو مجھ میں جذب ہے باہر سنائی ...

مزید پڑھیے

ریت ہے اظہار کے پانی کے پار

ریت ہے اظہار کے پانی کے پار اور ویرانی ہے ویرانی کے پار موت کی تشکیل سے ابھرا ہوا کون ہے میری فراوانی کے پار آ نہ پائی مجھ تلک یہ کائنات رہ گئی سانسوں کی طغیانی کے پار پھیل کر تجھ میں نہ بس جاؤں کہیں رنگ مجھ کو رنگ امکانی کے پار کون پھوٹے گا عدم کی کوکھ سے کون لافانی ہے لافانی ...

مزید پڑھیے

لے جاؤں کہیں ان کو بدن پار ہی رکھوں

لے جاؤں کہیں ان کو بدن پار ہی رکھوں میں اپنی خلاؤں کو پر اسرار ہی رکھوں آنکھوں سے گروں اور اٹھوں دشت فلک تک پانی ہوں تو سطحیں مری ہموار ہی رکھوں دنیا کو بھی لے آؤں کبھی نوک زباں تک غائب ہے جو اس کو سر اظہار ہی رکھوں لمحوں کی دراڑوں میں اگاؤں کوئی جذبہ ہے وقت کھنڈر تو اسے مسمار ...

مزید پڑھیے

میں وہاں ہوں کہ نہیں چاہے تو جا کر دیکھے

میں وہاں ہوں کہ نہیں چاہے تو جا کر دیکھے کوزہ گر خود مری مٹی میں سما کر دیکھے بعد میں رکھے سرابوں کے دیاروں میں قدم پہلے وہ سانس کی سرحد پہ تو آ کر دیکھے مرے اظہار کو کچھ اور ثمرور کر دے وہ مجھے لمس کی شاخوں پہ اگا کر دیکھے گونج اٹھے کوئی کھوئی ہوئی دنیا شاید مرے خلیوں میں وہ ...

مزید پڑھیے

کنارہ در کنارہ مستقل منجدھار ہے یوں بھی

کنارہ در کنارہ مستقل منجدھار ہے یوں بھی مرے پانی میں جو کچھ ہے وہ یوں پر اسرار ہے یوں بھی بہا جاتا ہوں اکثر دور لمحوں کے حصاروں سے مرے ٹھہراؤ کے آغوش میں رفتار ہے یوں بھی کہاں خلیوں کے ویرانوں میں اس کو ڈھونڈنے جائیں زمانوں کا سرا میرے سرے سے پار ہے یوں بھی یہاں سے یوں بھی اک ...

مزید پڑھیے

خلا کی روح کس لیے ہو میرے اختیار میں

خلا کی روح کس لیے ہو میرے اختیار میں اڑان کا تو ذکر تک نہ تھا مرے فرار میں کبھی تو منظروں کے اس طلسم سے ابھر سکوں کھڑا ہوں دل کی سطح پر خود اپنے انتظار میں یہ ساعتوں کی بھیڑ نے اسے گنوا دیا نہ ہو رکھا تھا میں نے ایک لمس وقت کی درار میں سفر میں مرحلوں کی رسم بھی ہے اب بجھی بجھی وہی ...

مزید پڑھیے

سب خلاؤں کو خلاؤں سے بھگو سکتا ہے

سب خلاؤں کو خلاؤں سے بھگو سکتا ہے آدمی روح کے اندر بھی تو رو سکتا ہے یہ سیاہی کا سرا جانے کہاں ہاتھ آئے مرا سایا ترا باطن بھی تو ہو سکتا ہے دسترس تیرے سمندر کی ہے تجھ سے بھی پرے تو مجھے آنکھ سے باہر بھی ڈبو سکتا ہے لے تو آیا ہے مجھے موت کی گردش سے الگ تو مجھے سانس کے محور پہ بھی ...

مزید پڑھیے

سر شام وہ کبھی آئیں تو

سر شام وہ کبھی آئیں تو مرے دل کی شمع جلائیں تو جنہیں ہم کبھی نہ بھلا سکے کبھی یاد ان کو بھی آئیں تو مرے غم گسار بھی سو گئے چلو پھر سے ان کو جگائیں تو مجھے آنسوؤں سے بھی پیار ہے ذرا پیار سے وہ ستائیں تو دل نغمہؔ ان پہ نثار ہے کبھی وہ نگاہ ملائیں تو

مزید پڑھیے

بات چپ رہ کے بھی کرتی ہیں تمہاری آنکھیں

بات چپ رہ کے بھی کرتی ہیں تمہاری آنکھیں جب بھی چہرے پہ ٹھہرتی ہیں تمہاری آنکھیں مری رگ رگ کو چراغوں سے سجا جاتی ہیں دل کی گلیوں سے گزرتی ہیں تمہاری آنکھیں مسکراتی ہوئی جب میری طرف اٹھتی ہیں تیر سی دل میں اترتی ہیں تمہاری آنکھیں دل کے ان تپتے سلگتے ہوئے زخموں پہ کبھی سرد شبنم ...

مزید پڑھیے

جب تک تری آنکھوں کے کنول کھلتے رہیں گے

جب تک تری آنکھوں کے کنول کھلتے رہیں گے کہنے کو غزل ہم کو سبب ملتے رہیں گے منزل سے بھی آگے کسی منزل کے نشاں ہیں کچھ اور بھی نقش کف پا ملتے رہیں گے اک درد بنا دیتا ہے اشکوں کو حنائی پت جھڑ میں بھی کچھ پھول یوں ہی کھلتے رہیں گے معلوم نہیں عشق کا حاصل ہمیں نغمہؔ وہ ہم سے بچھڑ جائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1507 سے 6203