تمام خلیوں میں اکثر سنائی دیتا ہے
تمام خلیوں میں اکثر سنائی دیتا ہے ہر اک جہان میں محشر سنائی دیتا ہے جو چھو کے دیکھوں تو گردش کی تہہ میں گردش ہے دھروں جو کان تو محور سنائی دیتا ہے ہزار میلوں بچھی ارتقا کی مٹی پر بدن میں اب بھی سمندر سنائی دیتا ہے لچکتی رات میں سیارگاں کی چاپ سنو جو مجھ میں جذب ہے باہر سنائی ...