قومی زبان

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے جہتوں کے برزخ میں پاؤں الجھ جاتے ہیں رستے میں سانسوں کا راستا کیوں آتا ...

مزید پڑھیے

کسی بے گھر جہاں کا راز ہونا چاہیئے تھا

کسی بے گھر جہاں کا راز ہونا چاہیئے تھا ہمیں اس دشت میں پرواز ہونا چاہیئے تھا ہمارے خون میں بھی کوئی بچھڑی لہر آئی ہوا کے ہاتھ میں اک ساز ہونا چاہیئے تھا ہمارے لا مکاں چہرے میں آئینوں کے جنگل ہمیں ان میں ترا انداز ہونا چاہیئے تھا یہیں پر ختم ہونی چاہیئے تھی ایک دنیا یہیں سے بات ...

مزید پڑھیے

اس پار

چلے آئیے زبانوں کی سرحد کے اس پار جہاں بس خموشی کا دریا مچلتا ہے اپنے میں تنہا خود اپنے عدم ہی میں زندہ زبانوں کی سرحد کے اس پار کسی کی بھی آمد نہیں ہے بس اک جال پیہم حدوں کا مگر کوئی سرحد نہیں ہے

مزید پڑھیے

جال رگوں کا گونج لہو کی سانس کے تیور بھول گئے

جال رگوں کا گونج لہو کی سانس کے تیور بھول گئے کتنی فنائیں کتنی بقائیں اپنے اندر بھول گئے جنم جنم تک قید رہا اک بے معنی انگڑائی میں میں ہوں وہ محراب جسے میرے ہی پتھر بھول گئے جانے کیا کیا گیت سنائے گردش کی سرگوشی نے بے چہرہ سیارے مجھ میں اپنا محور بھول گئے بیتی ہوئی صدیوں کا ...

مزید پڑھیے

جسموں کی محراب میں رہنا پڑتا ہے

جسموں کی محراب میں رہنا پڑتا ہے ایک مسلسل خواب میں رہنا پڑتا ہے اپنی گہرائی بھی ناپ نہیں سکتے اور ہمیں پایاب میں رہنا پڑتا ہے روحوں پر مل کر دنیا کے سناٹے آوازوں کے باب میں رہنا پڑتا ہے امڈا رہتا ہے جو تیری آنکھوں میں ایسے بھی سیلاب میں رہنا پڑتا ہے انگڑائی لیتے ہیں مجھ میں ...

مزید پڑھیے

کھینچ کر لے جائے گا انجان محور کی طرف

کھینچ کر لے جائے گا انجان محور کی طرف ہے بدن کا راستہ باہر سے اندر کی طرف وہ بھی اپنے سانس کے سیلاب میں ہے لاپتہ جو مجھے پھیلا گیا میرے ہی منظر کی طرف اب خلاؤں کو سمیٹے ہر طرف ہوں گامزن آج ہے میرا سفر اپنے ہی پیکر کی طرف کوئی تو پانی کی ویرانی کو سمجھے گا کبھی دیکھتا رہتا ہوں اب ...

مزید پڑھیے

حصار کے سبھی نظام گرد گرد ہو گئے

حصار کے سبھی نظام گرد گرد ہو گئے ہم اپنے اپنے جسم میں خلا نورد ہو گئے روانیاں صفر ہوئیں مسافتیں کھنڈر ہوئیں نجات کے تمام شاہکار سرد ہو گئے ہوائے جاں کا کیا میاں اٹھا گئی اڑا گئی جمے نہ تھے بدن میں ہم کہ پھر سے گرد ہو گئے عبارتوں میں آ بسی عجیب رت سکوت کی قلم کی شاخ کے تمام برگ ...

مزید پڑھیے

گزر چکے ہیں بدن سے آگے نجات کا خواب ہم ہوئے ہیں

گزر چکے ہیں بدن سے آگے نجات کا خواب ہم ہوئے ہیں محیط سانسوں کے پار جا کر بہت ہی نایاب ہم ہوئے ہیں کسی نے ہم کو عطا نہیں کی ہماری گردش ہے اپنی گردش خود اپنی مرضی سے اس جہاں کی رگوں میں گرداب ہم ہوئے ہیں عجیب کھوئے ہوئے جہانوں کی گونج ہے اپنے گنبدوں میں نہ جانے کس کی سماعتوں کے ...

مزید پڑھیے

خود اپنا انتظار بھی

خود اپنا انتظار بھی ہم اپنے میں قرار بھی صفر کا ریگ زار بھی مگر مرا دیار بھی لہو مرا سکوت بھی جنوں کا شاہکار بھی سفر میں مرحلہ بنا دوام کا حصار بھی نظر اٹھا کے کر دیا خلا کے دل پہ وار بھی تراشی ہم نے روح جب اٹھا تھا کچھ غبار بھی گزر چکے ہیں بارہا خدا کے آر پار بھی ریاضؔ ...

مزید پڑھیے

نیا عدم کوئی نئی حدوں کا انتخاب اب

نیا عدم کوئی نئی حدوں کا انتخاب اب اتار لوں میں رخ سے یہ دوام کا نقاب اب ہم اپنی زندگی کو خود سے دور لے کے جائیں گے کہ پھوٹنے ہی والا ہے خلا کا یہ حباب اب جنم نہ لے سکے ترے بھنور کی آنکھ میں تو کیا ہم اور پانیوں میں ڈھونڈ لیں گے اک سراب اب صدا سکوت جو بھی چاہیئے اٹھا لے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1506 سے 6203