قومی زبان

رنگ عشرت جو کہیں غم میں بدل جائے گا

رنگ عشرت جو کہیں غم میں بدل جائے گا آنسو آنسو تری تصویر میں ڈھل جائے گا یوں نہ دیکھو مجھے للہ جھکا لو نظریں جلوۂ نور سے یہ حسن پگھل جائے گا نکہت حسن سے ہے عشق کے گلشن میں بہار ہم نہ ہوں گے تو یہ موسم بھی بدل جائے گا جو دھڑکتا ہے مرے سینے میں جذبہ بن کر بن کے اک نام مرے لب پہ مچل ...

مزید پڑھیے

جب نہ تب سنئے تو کرتا ہے وہ اقرار بغیر

جب نہ تب سنئے تو کرتا ہے وہ اقرار بغیر گفتگو ہم سے اسے پر نہیں انکار بغیر بزم میں رات بہت سادہ‌ و پر فن تھے ولے گرمیٔ بزم کہاں اس بت عیار بغیر دیکھ بیمار کو تیرے یہ طبیبوں نے کہا ہو چکی اس کو شفا شربت دیدار بغیر جان پر آ بنی ہمدم مری خاموشی سے بات کچھ بن نہیں آتی ہے اب اظہار ...

مزید پڑھیے

دنیا سے پرے جسم کے اس باب میں آئے

دنیا سے پرے جسم کے اس باب میں آئے ہم خود سے جدا ہو کے ترے خواب میں آئے کچھ ایسے بھی ہموار کی ہر سطح کو اپنی موجوں کی طرح ہم ترے پایاب میں آئے ان کو بھی ابد کے کسی ساحل پہ اتارو وہ لمس جو اس رات کے سیلاب میں آئے اک نقش تو ٹھہرا تھا روانی کے بدن پر جب بن کے بھنور ہم ترے گرداب میں ...

مزید پڑھیے

بدن کے گنبد خستہ کو صاف کیا کرتا

بدن کے گنبد خستہ کو صاف کیا کرتا ترے جہاں میں نئے انکشاف کیا کرتا عدم کے اونگھتے پانی میں جب تھی میری لہر مرے وجود سے میں اختلاف کیا کرتا نہ کوئی شور تھا اس میں نہ کوئی سناٹا میں اپنے روح کے گونگے طواف کیا کرتا کہ اک دوام کے تیور تھے مرتعش اس پر سفر کی گرد سے میں انحراف کیا ...

مزید پڑھیے

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں ہر ایک دور میں تخلیق ارتعاش کروں میں فاش ہو ہی چکا ہوں تو کیا ضروری ہے؟ کہ اپنے ساتھ تجھے بھی جہاں میں فاش کروں سراغ زیست ملے ریزہ ریزہ انساں کو بتان عصر کو کچھ ایسے پاش پاش کروں زمیں نے قرض دیا مجھ کو رزق کی صورت مروں تو کیوں نہ سپرد اس ...

مزید پڑھیے

حسیں چہروں سے صورت آشنائی ہوتی رہتی ہے

حسیں چہروں سے صورت آشنائی ہوتی رہتی ہے سمجھ لو ابتدائی کاروائی ہوتی رہتی ہے ہماری بیوی اور مہنگائی دونوں ہیں سگی بہنیں ہماری جیب کی اکثر صفائی ہوتی رہتی ہے کہا میں نے کہ ملتے ہو بچھڑ جانے کی نیت سے کہا اس نے محبت میں جدائی ہوتی رہتی ہے کہا میں نے مری درخواستوں کا کیا بنا ...

مزید پڑھیے

بیوی کے حضور

عشق کا ناس کرو گی مجھے معلوم نہ تھا میرے پلے ہی پڑو گی مجھے معلوم نہ تھا اک مہینے میں کماتا ہوں جو تنخواہ اسے خرچ ہفتے میں کرو گی مجھے معلوم نہ تھا میں نے کھائی تھی قسم کھاؤں گا بس رزق حلال تم بھی احمق ہی کہو گی مجھے معلوم نہ تھا شعر کی طرح سدا عرض کروں گا خود کو تم سدا حکم ہی دو ...

مزید پڑھیے

ہم تم تھے پہلے اجنبی نا آشنا اتنے نہ تھے

ہم تم تھے پہلے اجنبی نا آشنا اتنے نہ تھے ہم بھی نہیں تھے بد گماں تم بھی خفا اتنے نہ تھے پہلے بھی تھیں تنہائیاں لیکن یہ سونا پن نہ تھا پہلے بھی تم سے دور تھے لیکن جدا اتنے نہ تھے گر ہم نہ تم کو مل سکے تم کیوں کسی کے ہو گئے مانا کہ ہم مجبور تھے تم بے وفا اتنے نہ تھے ہم نے تمہاری آس ...

مزید پڑھیے

باغوں میں ویرانے کتنے

باغوں میں ویرانے کتنے ہم جیسے دیوانے کتنے شمع تری غیرت کی خاطر جلتے ہیں پروانے کتنے یہ جانے پہچانے چہرے لگتے ہیں انجانے کتنے اہل ہجراں کو ہوتے ہیں راتوں سے یارانے کتنے نغمہؔ میرے جیسے ادھورے ہوتے ہیں افسانے کتنے

مزید پڑھیے

آنسو جو تری یاد میں پلکوں سے ڈھلے ہیں

آنسو جو تری یاد میں پلکوں سے ڈھلے ہیں اجڑی ہوئی راتوں کی منڈیروں پہ جلے ہیں ہم نے کبھی دیکھا نہیں ساحل کا تماشہ ہم لوگ جو طوفان کے سائے میں پلے ہیں یہ زخم کسی خار سے ہم نے نہیں پائے یہ داغ ہمیں پھول کی خوشبو سے ملے ہیں سینے سے دبائے ہوئے اک درد کا نغمہؔ ہم شہر نگاراں سے بہت دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1508 سے 6203