قومی زبان

جستجو تیری درد سر ٹھہری

جستجو تیری درد سر ٹھہری لے کے مجھ کو یہ در بدر ٹھہری تجھ سے منسوب جب تلک میں رہی میری ہستی بھی معتبر ٹھہری یہ مری زندگی تمہارے بغیر کتنی بے رنگ و مختصر ٹھہری مشکلیں مجھ کو ڈھونڈنے نکلیں دم جو لینے کو لمحہ بھر ٹھہری یہ سلیقہ تجھی سے آیا ہے بات کرنے میں با ہنر ٹھہری اف تری ...

مزید پڑھیے

خرد کی فتنہ سامانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

خرد کی فتنہ سامانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے مرے دل کی پریشانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے اڑا دیں دھجیاں قانون تعزیرات کی ہم نے جرائم کی فراوانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے غریبوں کے گھروں میں ایک بھی رونق نہیں باقی بہار قصر سلطانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے نظر آتی ہیں ہر جانب نئی ...

مزید پڑھیے

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا گلوں نے دئے دکھ بہاروں نے لوٹا فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے مزا ان سیاسی اداروں نے لوٹا کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں مرا گھر مرے ...

مزید پڑھیے

زندگی آ ترا ارمان بدل کر دیکھیں

زندگی آ ترا ارمان بدل کر دیکھیں دل میں ہے جو مرے مہمان بدل کر دیکھیں شمع امید کے مانند ملا ہے کوئی ہجر کی دھوپ کا عنوان بدل کر دیکھیں اس نے بخشا ہمیں اعزاز شناسائی کا کیوں نہ ہم اپنی ہی پہچان بدل کر دیکھیں میری آنکھوں میں نئے رنگ ابھر آئے ہیں سائیں گھر کا سر و سامان بدل کر ...

مزید پڑھیے

مدار ذات کے گرداب سے نکل آؤں

مدار ذات کے گرداب سے نکل آؤں میں اپنی ذات کے اسباب سے نکل آؤں بس ایک بار تو پانی پہ اپنا عکس دکھا قسم خدا کی میں سیلاب سے نکل آؤں جو محو رقص نہ ہوں میری روح کے ہم راہ میں ایسے حلقۂ احباب سے نکل آؤں میں اپنی جاگتی آنکھوں سے زندگی دیکھوں مری تمنا ہے میں خواب سے نکل آؤں ترا تو لہجہ ...

مزید پڑھیے

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا نہ کرو قتل عام پھولوں کا رنگ و بو نے بھی ساتھ چھوڑ دیا رفتہ رفتہ تمام پھولوں کا گلستاں کو فروغ ہوگا مگر شرط ہے احترام پھولوں کا اک نہ اک دن حساب لینا ہے باغباں سے تمام پھولوں کا موسم گل ہے یہ خزاں تو نہیں کیوں ہے برہم نظام پھولوں کا ایک دو کا معاملہ ...

مزید پڑھیے

کیوں یقیں رکھیں خیال و خواب پر

کیوں یقیں رکھیں خیال و خواب پر جم نہ جائے گرد غم اعصاب پر پیٹتے رہنا لکیریں ہے عبث غور کرنا چاہیے اسباب پر لکھ رہا ہے روشنی کی داستاں اک دیا جلتا ہوا محراب پر اپنے دکھ کا ماجرا چھیڑا نہیں یہ مرا احسان ہے احباب پر تم بھی دنیا والوں جیسے ہو گئے پڑ گئی تھی کیا نظر سرخاب ...

مزید پڑھیے

دل نے جب بھی ترا خیال کیا

دل نے جب بھی ترا خیال کیا خود کو آئینۂ جمال کیا دل کی دھڑکن میں بس گیا ایسے سانس لینا مرا محال کیا میں نے سچ بولنے کی جرأت کی سچ سنا آپ نے کمال کیا تیری یادیں مری محافظ ہیں تیری یادوں کو میں نے ڈھال کیا تیری چاہت کے لمحے لمحے کو دل نے مانند ماہ و سال کیا وقت نے کب اسے رکھا ...

مزید پڑھیے

چمگادڑ

پرندہ تو نہیں ہوں پھر بھی شہپر کا عذاب اپنے طوافوں میں سمیٹے بن رہا ہوں ہندسہ بے خواب راتوں کا کہ نابینا جہانوں میں بصارت کو سماعت میں پرو کر جاگتا ہوں میں بدن کو دائروں کی زد پہ کھو کر جاگتا ہوں میں مرے چہرے میں دوزخ کے شراروں کا بسیرا ہے مری آواز نے اپنی عمودی گونج پھیلا ...

مزید پڑھیے

ہجرت

نہ پوچھ مجھ سے کہ جنگ، لشکر، سسکتے پتھر، فضا کے آنسو ہوا کے تیور یہ رائیگانی بکھرتے محور یہ سارے کیوں کر؟ کہ رفتہ رفتہ، میں سخت جانی کی ڈالیوں سے لچک پڑا ہوں گزر چکا ہوں میں ہر کہانی کی حد سے باہر پڑا ہوا ہوں میں اپنے معنی کی حد کے باہر!!

مزید پڑھیے
صفحہ 1503 سے 6203