قومی زبان

وعدہ تھا کب کا بار خدا سوچنے تو دے

وعدہ تھا کب کا بار خدا سوچنے تو دے معقول کوئی عذر نیا سوچنے تو دے پرچی وہ جس پہ لکھا ہوا ہے پتہ ترا رکھ کر کہاں میں بھول گیا سوچنے تو دے وہ ہجر بھی تو گونگی پہیلی سے کم نہ تھا اب وصل آ پڑا ہے ذرا سوچنے تو دے اے چال باز ایسے نہ اترا کے مسکرا چلنے دے چال مجھ کو ذرا سوچنے تو دے ہوں ...

مزید پڑھیے

سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی

سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی آج کل بازار میں مندی ہے سستا ہے ابھی درمیاں جو فاصلہ رکھا ہوا سا ہے ابھی اک یہی اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ابھی یوں ہی سب مل بیٹھتے ہیں سابقون الاولون دشت میں جاری ہمارا آنا جانا ہے ابھی مسکرانا ایک فن ہے اور میں نومشق ہوں پھر بھی کیا کم ہے ...

مزید پڑھیے

اخیر شب سرد راکھ چولھے کی جھاڑ لائیں

اخیر شب سرد راکھ چولھے کی جھاڑ لائیں تمہاری یادوں کے آئنے پھر سے جگمگائیں گلی کے نکڑ پر اب نہیں ہے وہ شور پھیلا بھلائی اس میں ہے ذائقے ہم بھی بھول جائیں رکھے رکھے ہو گئے پرانے تمام رشتے کہاں کسی اجنبی سے رشتہ نیا بنائیں وہ ہنسی آنکھیں جلائے دیتی ہیں جاں ہماری نواح جاں میں ...

مزید پڑھیے

سچ یہی ہے کہ بہت آج گھن آتی ہے مجھے

سچ یہی ہے کہ بہت آج گھن آتی ہے مجھے ویسے وہ شے کبھی مطلوب رہی بھی ہے مجھے اپنی تنہائی کو بازار گھما لایا ہوں گھر کی چوکھٹ پہ پہنچتے ہی لپٹتی ہے مجھے تجھ سے ملتا ہوں تو آ جاتی ہے آنکھوں میں نمی تو سمجھتا ہے شکایت یہ پرانی ہے مجھے اس کے شر سے میں سدا مانگتا رہتا ہوں پناہ اسی دنیا ...

مزید پڑھیے

خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا

خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا ہم نے یوں عیبوں کی آبادی کو دونا کر دیا طے تو یہ تھا ہر بدی کی انتہا تک جائیں گے بے خیالی میں یہ کیسا کام اچھا کر دیا مجھ سے کل محفل میں اس نے مسکرا کر بات کی وہ مرا ہو ہی نہیں سکتا یہ پکا کر دیا چلچلاتی دھوپ تھی لیکن تھا سایہ ہم قدم سائباں کی ...

مزید پڑھیے

اپنی محرومی کا دکھ

میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں میں دائروں کے مہین تاروں کی ناتمامی میں ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں کہانیوں کے دبیز ...

مزید پڑھیے

مد و جزر

شام ہنگام تو ہم ہے تصور کے کھٹولوں پہ سجی اپنے اجداد کے ایام کی تصویریں دمک اٹھی ہیں ایسے لگتا ہے کہ ذروں سے نکلتے تھے قمر زندگی رقص کناں نازاں و شاداب ہوا کرتی تھی ندیاں دودھ کی بہتی تھیں معطر تھی ہوا محفل ہست میں ہر سو تھے رسیلے پنگھٹ سبز پیڑوں پہ کھلا کرتے تھے نغموں کے ...

مزید پڑھیے

آہستہ بولیے گا تماشا کھڑا نہ ہو

آہستہ بولیے گا تماشا کھڑا نہ ہو بیرون خواب کوئی ہمیں سن رہا نہ ہو دیواریں اٹھ گئی نہ ہوں دشت جنون میں رم خوردہ وہ غزال کہیں گمشدہ نہ ہو رخت سفر میں باندھ لیں پر شور کچھ بھنور دریا ہے پر سکون سفر بے مزہ نہ ہو یوں تو وہ ایک عام سا پتھر ہے میل کا لیکن وہاں سے آگے اگر راستہ نہ ...

مزید پڑھیے

وہ اور ہوں گے نفوس بے دل جو کہکشائیں شمارتے ہیں

وہ اور ہوں گے نفوس بے دل جو کہکشائیں شمارتے ہیں یہ رات ہے پورے چاند کی ہم تری محبت حصارتے ہیں بڑی مہارت سے اس کی سانسوں میں نغمگی کر رہے ہیں پیدا وہ جتنا انجان بن رہا ہے ہم اتنا اس کو نہارتے ہیں تمہاری نظروں کا ہے مقدر یہ جھیل کا پر سکون پانی ہم اپنی آنکھوں کے کینوس پر ہزار موجیں ...

مزید پڑھیے

مجھے قرار بھنور میں اسے کنارے میں

مجھے قرار بھنور میں اسے کنارے میں سو کتنی دور تلک بہتے ایک دھارے میں مجھے بھی پڑ گئی عادت دروغ گوئی کی وہ مجھ سے پوچھتا رہتا تھا میرے بارے میں یہ کاروبار محبت ہے تم نہ سمجھوگے ہوا ہے مجھ کو بہت فائدہ خسارے میں کہاں رہا وہ گمان اب کہ ہیں زمانہ شناس الجھ کے رہ گئے ذو معنی اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1485 سے 6203