قومی زبان

زخم گہرا کہاں نہیں ہوتا

زخم گہرا کہاں نہیں ہوتا حال دل کا بیاں نہیں ہوتا پیار دھوکا وفا جفا کیا کیا اس جہاں میں کہاں نہیں ہوتا پھر کہیں بھی سکوں نہیں ملتا وقت جب مہرباں نہیں ہوتا رات جلتی رہی تھی وہ شمع درد جس کا بیاں نہیں ہوتا ایک ساغرؔ خدا کا گھر ہے بس غم کا جس جا نشاں نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

شخص وہ کیا کمال کرتا ہے

شخص وہ کیا کمال کرتا ہے کام ہر بے مثال کرتا ہے حسن سو بار چپ رہے لیکن عشق پھر بھی سوال کرتا ہے کس کو اپنا کہیں بتا مولیٰ کون کس کا خیال کرتا ہے عشق کرنا اسے نبھا دینا درد ورنہ بے حال کرتا ہے لوگ اس کو نواز دیتے ہیں جو دلوں میں اجال کرتا ہے کشمکش رات بھر رہی ساغرؔ کون کس کو حلال ...

مزید پڑھیے

نہاں ہو کے بھی میں ظاہر رہوں گا

نہاں ہو کے بھی میں ظاہر رہوں گا تری ہر سوچ کا محور رہوں گا میں اب محصور کر ڈالوں گا خود کو مثال خانۂ بے در رہوں گا تمہارے ساتھ اب رہنا ہے مشکل میں اپنی ذات کے اندر رہوں گا بچھڑ کے بھی رہیں گے ساتھ دونوں تو میرا میں ترا پیکر رہوں گا مجھے بے بال و پر گرداننا مت میں تنہا ہی سہی ...

مزید پڑھیے

سانس سینے میں جکڑ جاتا ہے

سانس سینے میں جکڑ جاتا ہے اب تعلق جو بگڑ جاتا ہے مدتوں ہو نہ ملاقات اگر فاصلہ طول پکڑ جاتا ہے جس کا رشتہ نہ زمیں سے قائم وہ شجر جڑ سے اکھڑ جاتا ہے کب میں آتا ہوں شکنجے میں بھلا اک خیال اس کا جکڑ جاتا ہے جہاں دیواروں میں در روتے ہوں ایسا گھر جلد اجڑ جاتا ہے مجھ میں آسیب بسا ہے ...

مزید پڑھیے

تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا

تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیا بس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیا اے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیا بزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام صد شکر تم نے موت کا سامان کر ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیں وہی رویے منافقوں کے

جدھر بھی دیکھیں وہی رویے منافقوں کے سمجھ میں دکھ ہم کو آ رہے ہیں پیمبروں کے کھلی ہوئی ہیں جو کھڑکیاں وہ بھی ادھ کھلی ہیں نہ جانے کب سے ہیں در مقفل یہاں گھروں کے انا مری ہے ابھی بھی ہر مصلحت پہ حاوی لہو میں اترے ہیں تجربے سب مسافتوں کے ناآشنا ہے ہر ایک شاخ شجر ثمر سے درخت سارے ...

مزید پڑھیے

لے تری آواز کو قید سماعت کر لیا

لے تری آواز کو قید سماعت کر لیا ہاں غزل کے روپ کو عکس طباعت کر لیا بھیگتی اس شام میں اس نے پکارا ہے مجھے لگ رہا ہے جس طرح حج محبت کر لیا سوچتا ہوں اس سے پوچھوں جان صفدرؔ کس لئے عام سے اک آدمی کو اپنی عادت کر لیا آج پھر شانوں پہ بکھری زلف ہے اللہ خیر لگ رہا ہے آج پھر عہد بغاوت کر ...

مزید پڑھیے

ترانۂ قومی

مرحبا اے خاک پاک کشور ہندوستاں یادگار عہد ماضی ہے تو اے جان جہاں کیسے کیسے اولیا گزرے اور قطب زماں جن کے قدموں نے بنایا ہے تجھے جنت نشاں روشنی سے تیرے پھیلا ہے اجالا ہر طرف تیرا دنیا میں رہا ہے بول بالا ہر طرف کیوں نہ کہیے تجھ کو اک سرچشمۂ آب بقا ہیں یہ آثار قدیمہ تیرے گنج بے ...

مزید پڑھیے

جی رہا ہوں وسوسوں کے درمیاں

جی رہا ہوں وسوسوں کے درمیاں دم کشیدہ ساعتوں کے درمیاں با عمل دیکھے ہیں کتنے تنگ دست بے عمل ان واعظوں کے درمیاں بے ثمر ہی اب شجر کمہلائے گا شک اگا ہے چاہتوں کے درمیاں میں نے حکمت سے نکالا ہے جناب ایک رستہ راستوں کے درمیاں مجھ کو دیتی ہے صدائیں رات دن ایک وحشت ساحلوں کے ...

مزید پڑھیے

سب درخت خالی ہیں بارشوں کے موسم میں

سب درخت خالی ہیں بارشوں کے موسم میں سارے گھر مقفل ہیں وسوسوں کے موسم میں آندھیوں کی بارش میں سب چراغ زندہ ہیں جاگتا ہے یزداں بھی رت جگوں کے موسم میں آپ سے شکایت کیا آپ سے گلہ کیسا پھر رہا ہوں خود تنہا سازشوں کے موسم میں جاگتے درختوں کی شاخ شاخ خالی ہے کوئی پھل اگے گا تو خواہشوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1382 سے 6203