قومی زبان

ہمیں محفل میں آنکھوں پر بٹھائیں گے بھلا وہ کیوں

ہمیں محفل میں آنکھوں پر بٹھائیں گے بھلا وہ کیوں کہ رسم دوستی ہم سے نبھائیں گے بھلا وہ کیوں کیا مخصوص ہے احباب کا حلقہ انہوں نے اب یوں حال دل ہمیں پھر سے سنائیں گے بھلا وہ کیوں کبھی تھے وہ ہمارے راز داں جاں بھی لٹاتے تھے ہمارے راز سارے اب چھپائیں گے بھلا وہ کیوں جو جیتے جی ہمیں ...

مزید پڑھیے

رنگوں میں زیست کرنے کا سامان دے گیا

رنگوں میں زیست کرنے کا سامان دے گیا گل کو مہک مہک کو گلستان دے گیا محدود سوچ تھی مری دیواروں میں پڑی میرے خیالوں کو نئے وجدان دے گیا چہرہ دکھا گیا ہے مجھے دنیا کا کوئی شیشہ دکھا کے اپنوں کی پہچان دے گیا درس وفا کی کرتا تھا تبلیغ جو ہمیں پڑھنے کو پھر غموں کے وہ دیوان دے ...

مزید پڑھیے

شبنمی آنسو

گلاب کی پنکھڑیوں پر یہ شبنمی آنسو شب فراق کی داستاں بیان کرتے ہیں شب ہجر کے انگاروں پر جو میری تنہائی جلتی ہے تو دل کا ضبط مثل شبنمی قطروں کے میری پلکوں سے ٹپکتا ہے اک تم ہی نابلد ہو میرے درد سے وگرنہ فلک بھی میرے سنگ روتا ہے میری پر نم آنکھوں کے لہجے تو تم کبھی نہ جان پاؤ گے مگر ان ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ

ہمیشہ ایک لمحہ ہے ہمیشہ جاودانی ہے یہ کچھ گھنٹے ہمیشہ ہیں ہمیشہ زندگی بھر ہے سنو جب کہہ رہے تھے ہم ہمیشہ ساتھ رہنا ہے تو مطلب کیا بھلا اس کا ہمیشہ کس نے دیکھا ہے

مزید پڑھیے

اندازہ

مجھے ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب تم زینہ زینہ دل میں اترو گے تو اس کے موسموں کو ایک لحظے میں حدوں سے بھی سوا مسرور اور رنجور کر دو گے تم آؤ گے تو جنت اور جہنم ساتھ لاؤ گے خوشی کی آبشاریں غم کے جھرنے ساتھ پھوٹیں گے مرے پھیلائے دامن میں اچانک ہی تصور سے کہیں آگے کا سکھ اور دکھ عطا ...

مزید پڑھیے

مقصدیت

مرے پیارے خداوندا مجھے جب کن کی ساعت میں ترے بے عیب یکتا دست قدرت نے ترے آدم کی باقی بچ رہی مٹی سے گوندھا تھا مرا نقشہ بنایا تھا تو مجھ میں کیا ترے آدم سے کمتر روح پھونکی تھی کہ جیسے بے دلی عجلت میں کوئی کام نمٹایا مری تخلیق کیا خالق تری چشم تصور کی کسی منصوبہ سازی کی نہیں مرہون ...

مزید پڑھیے

خیال

میز کی دراز سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے نگاہ کسی کے دئے گئے پین پر پڑی دفعتاً ذہن میں یہ خیال کوندا کہ میری لکھی ہوئی ڈائری بھی تو اسی کے پاس ہوگی زندگی کے سفر میں ہم کتنا کچھ ایک دوسرے کو سونپتے ہیں اور پھر اجنبی بن جاتے ہیں

مزید پڑھیے

جاگا ہے کچی نیند سے مت چھیڑئیے اسے

جاگا ہے کچی نیند سے مت چھیڑئیے اسے کیا جانے کیا جنون میں منہ سے نکل پڑے ساون کی رت بھی اب کے برس بے خبر گئی بادل اٹھے تو جانے کہاں پر برس گئے قد آوری پہ اپنی ہمیں ناز تھا بہت سورج اگا تو قد سے بھی سائے دراز تھے مجرم بنے کہ سکہ تھا عہد قدیم کا بازار لے گئے تو گرفتار ہو گئے بچپن کی ...

مزید پڑھیے

تو میرے دل میں اتر آ کبھی قیام تو کر

تو میرے دل میں اتر آ کبھی قیام تو کر ملن سے اپنے کوئی پھر حسین شام تو کر خموش کیوں ہے تو اب یہ خموشی توڑ بھی دے بہت اداس ہوں میں آ کوئی کلام تو کر مجھے پتہ ہے گزرتے ہو روز اس گلی سے کبھی گزرتے ہوئے ہی ٹھہر سلام تو کر یہ نفرتیں مٹا تسکین دیکھ پیار کی پھر محبتوں میں سکوں کتنا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

مری بپتا بھی کتنی دکھ بھری ہے

مری بپتا بھی کتنی دکھ بھری ہے جسے تقدیر سن کر ہنس رہی ہے یہاں سوچوں کے پر کیسے کھلیں گے محض جسموں پہ سب دنیا رکی ہے مجھے بھیجا تو پورا تھا خدا نے مگر حصوں کی قیمت لگ رہی ہے کہاں کا عشق اور کیسی محبت ہوس ناکی کی اک منڈی سجی ہے میں فردا فخر آدم کیوں نہیں تھی بہت ارزاں مری بولی لگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1345 سے 6203