قومی زبان

اثاثہ

کیوں تم نے پلکوں پر اتنی ساری یادیں یکجا کر لی ہیں ان یادوں کو تہ میں پتلیوں کے رکھ دو تاکہ یادیں رسوائی کی گرد سے میلی نہ ہو جائیں یادیں اثاثہ ہیں گزرے لمحوں کی ان گزرے لمحوں کو حال کے لمحوں میں مدغم کر دو خود کو خود میں ضم کر دو یادوں کو بوجھ سمجھ کر مت جھٹکو ان کو بے پردہ کرنے کی ...

مزید پڑھیے

روحوں کا حوالہ پیار

بندھے ہاتھوں میں ہم نے صبح نو کے چراغ اٹھا رکھے ہیں اپنی آنکھوں کو روشنی کا حوالہ دے کر کتاب ہجر میں ستاروں کو اجال رکھا ہے کبھی تو لے آئیں گی کوئی چاند میری شام کی چوکھٹ پر میری آنکھیں جو انتظار کی دہلیز پر ستارہ بنی بیٹھی ہیں کبھی تو طلوع آفتاب شب کے دہانے پر شبنم کے قطروں کو ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے آنسو ٹپکا ہوگا

آنکھ سے آنسو ٹپکا ہوگا صبح کا تارا ٹوٹا ہوگا پھیل گئی ہے نور کی چادر رخ سے آنچل سرکا ہوگا پھیل گئے ہیں رات کے سائے آنکھ سے کاجل ڈھلکا ہوگا بکھری پتی دیکھ کے گل کی کلیوں نے کیا کیا سوچا ہوگا دیکھ مسافر بھوت نہیں ہے راہ کا پتہ کھڑکا ہوگا عارض گل پہ دیکھ کے شبنم کلیوں نے منہ ...

مزید پڑھیے

میں لبادہ اوڑھ کر جانے لگا

میں لبادہ اوڑھ کر جانے لگا پتھروں کی چوٹ پھر کھانے لگا میں چلا تھا پیڑ نے روکا مجھے جب برستی دھوپ میں جانے لگا دشت سارا سو رہا تھا اٹھ گیا اڑ کے طائر جب کہیں جانے لگا پیڑ کی شاخیں وہیں رونے لگیں ابر کا سایہ جہاں چھانے لگا پتھروں نے گیت گایا جن دنوں ان دنوں سے آسماں رونے لگا

مزید پڑھیے

چیختی گاتی ہوا کا شور تھا

چیختی گاتی ہوا کا شور تھا جسم تنہا جانے کیا سوچا کیا مکڑیوں نے جب کہیں جالا تنا مکھیوں نے شور برپا کر دیا وہ خوشی کے راستے کا موڑ تھا میں بگولہ بن کے رستہ کھوجتا میں درختوں سے خوشی کا راستہ جنگلوں میں اب چلوں گا پوچھتا اپنے ہاتھوں سے ستارے توڑ کر میں جلاؤں گا گھٹاؤں میں ...

مزید پڑھیے

آئینہ میرا بدل کر لے گیا

آئینہ میرا بدل کر لے گیا کس لیے مجھ کو سفر پر لے گیا سب سکوں میرا سمندر لے گیا نیند آنکھوں کی چرا کر لے گیا خالی دامن گھر میں آیا اور پھر دھوپ جتنی تھی وہ بھر کر لے گیا میں تعاقب میں رہا جس کے لیے اس کو کوئی گھر سے باہر لے گیا جانے اس کو کیا نظر آیا یہاں باندھ کر میرا ہی وہ گھر لے ...

مزید پڑھیے

نقش ڈرے گا جنگل میں

نقش ڈرے گا جنگل میں سانپ ملے گا جنگل میں وحشی جلتی انگلی سے پیڑ گنے گا جنگل میں ٹوٹ کے سایہ پیڑوں سے رقص کرے گا جنگل میں خود رو پودے آنسو کے پھول کھلے گا جنگل میں چلتا پھرتا سایہ بھی اب نہ ملے گا جنگل میں شیر گپھا سے نکلے گا شور مچے گا جنگل میں نخل مروت کٹتے ہی شہر اگے گا جنگل ...

مزید پڑھیے

جلاتے ہو مرا گھر راکھ میری پھر اڑاتے ہو

جلاتے ہو مرا گھر راکھ میری پھر اڑاتے ہو ہوا میں بھر کے میرا درد کیوں سب کو دکھاتے ہو کی ہے تدفین ارمانوں کی دل کے اپنے مدفن میں بھلانے دو غم دل روز کیوں تم یاد آتے ہو کہ سورج ڈوب جائے تو کلیجہ کاٹ لیتا ہے اندھیرا یہ بھی ظالم اور شمعیں تم بجھاتے ہو مجھے تجویز کرتے ہو کہ خاموشی ...

مزید پڑھیے

کوئی خوشبو مٹی سے آنے لگی ہے

کوئی خوشبو مٹی سے آنے لگی ہے زمیں پر وہ بوندیں گرانے لگی ہے پلٹ آئی ہے پھر سے ساون کی بارش کڑی دھوپ گھر سے ہٹانے لگی ہے محبت محبت عقیدت عقیدت یہ نغمے سہانے سنانے لگی ہے کہاں سے نکل آئے ہیں یہ پتنگے یہ کس کس کو بارش جگانے لگی ہے محلے میں خاموش رہتی تھی لڑکی جہاں سارا سر پر ...

مزید پڑھیے

مرے سوئے دل کو جگانے لگی ہے

مرے سوئے دل کو جگانے لگی ہے یہ صحرا میں بادل سجانے لگی ہے بچھا دو سبھی پھول راہوں پہ اس کے وہ ساون کی رت ملنے آنے لگی ہے زمیں سے فلک تک چھلکتا سماں ہے ہوا میں سمندر اٹھانے لگی ہے کبھی گرتے پتے کبھی اڑتے پتے یہ آنگن میں ہلچل مچانے لگی ہے بڑی خوب صورت ہے بارش مگر یہ غریبوں کی چھت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1344 سے 6203