قومی زبان

شفاف رنگ

شام کی آہٹ جب آنے لگ جائے سابقہ لباس اتار دینے کے عمل کو میزان نظر پر رکھ لینا چاہیئے تاکہ وہ میلا لباس شام کا ہی حصہ نہ بن جائے ہمیں اجلے لباس کی فکر کرنی چاہیئے سفید اجلا شفاف رنگ طاہرہ لباس کا ہی حصہ ہے اور ہم اس صبح یافتہ لباس کے پہننے کے اہل ثابت ہو گئے تو نجات ہی نجات ہے صفات ...

مزید پڑھیے

خود کو خود میں تحلیل کرو

چپ چاپ رہو ورنہ خاموشی کی چادر چاک ہو جائے گی ممکن ہے اس کی یہ پاکی بھی پاکی نہ رہ جائے اور یہیں پھر دن کے ڈھلنے پر احساس گنہ بڑھ جائے پاکی، پاکی نہ رہ جائے اور یہیں یہ خاموشی کی چادر اوڑھ نہ پائے کوڑھ من کا وہ بن جائے بہتر ہے چپ چاپ رہو اس خاموشی کی چادر کو گرد انا سے دور رکھو خود ...

مزید پڑھیے

کسی آئینے کا

میں خود کا تعارف کیا دے سکتا ہوں آئینہ جب مجھ کو میرا ہی چہرہ دکھلاتا ہے جیسے میرا چہرہ میرا نہیں آئینے کا ہے لیکن جس کا چہرہ اپنا ہوتا ہے واقعی اس کا چہرہ ہوتا ہے آئینے ایسے چہرے کو دکھلانے سے عاجز ہوتا ہے وہ اس چہرے کو منعکس کرتا ہے کیوں کہ جو چہرہ، چہرہ ہوتا ہے محتاج نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

گھر

دیوار ایسی مت اٹھا پانی مٹی ہوا متصل ہیں آگ نے تپایا ہے انہیں تمہارے فعل منفیہ سے اتصال ٹوٹ جائے گا رنگ زنجیروں سے نہیں بندھتا کوئی گھر دیوار سے نہیں بنتا بنتا ہے کھلے دروازوں سے کھلی کھڑکیوں سے

مزید پڑھیے

سلگتی نظروں کا خواب ہو تم

سلگتی نظروں کا خواب ہو تم محبتوں کا شباب ہو تم سمجھ نہ پائی جسے کبھی میں کتاب دل کا وہ باب ہو تم کہو تو جز دان میں چھپا لوں کھلی ہوئی اک کتاب ہو تم بچھے تھے راہوں میں پھول کتنے جو بھا گیا وہ گلاب ہو تم برا کہے تم کو لاکھ دنیا مرے تو عالی جناب ہو تم نہیں ہے بس میں تمہیں ...

مزید پڑھیے

دھوپ تھی سایہ اٹھا کر رکھ دیا

دھوپ تھی سایہ اٹھا کر رکھ دیا یہ سجا تاروں کا محضر رکھ دیا کل تلک صحرا بسا تھا آنکھ میں اب مگر کس نے سمندر رکھ دیا سرخ رو ہوتی ہے کیسی زندگی دوستوں نے لا کے پتھر رکھ دیا مندمل زخموں کے ٹانکے کھل گئے بے سبب تم نے رلا کر رکھ دیا ثابت و سالم تھا دامن کل تلک تم نے آخر کیوں جلا کر رکھ ...

مزید پڑھیے

نوع بہ نوع ایک امڈتا ہوا طوفان تھا میں

نوع بہ نوع ایک امڈتا ہوا طوفان تھا میں بہتے دریا کے لیے اک یہی پہچان تھا میں میں کسی نقطۂ بے لفظ کا اظہار نہیں ہاں کبھی حرف انا وقت کا عرفان تھا میں دیتی تھی ذوق نظر مجھ کو گنہ کی ترغیب یوں فرشتہ تو نہ تھا ہاں مگر انسان تھا میں ان سے اے دوست مرا یوں کوئی رشتہ تو نہ تھا کیوں پھر ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھوں میں تھی گہرائی بہت

اس کی آنکھوں میں تھی گہرائی بہت کیوں ستاتی ہے یہ تنہائی بہت ہجر کی سوغات کیا لائی بہت بے تحاشہ یاد بھی آئی بہت پیچ و خم زلفوں کا سارا کھل گیا رات بھر آنکھوں میں لہرائی بہت کیوں چمک اٹھتی ہے بجلی بار بار اے ستم گر لے نہ انگڑائی بہت گھر سے ساحلؔ آ کے لوٹی دھوپ کیا ہو گئی میری تو ...

مزید پڑھیے

کیا پرندے لوٹ کر آئے نہیں

کیا پرندے لوٹ کر آئے نہیں وہ کسی آواز پر آئے نہیں شام سے ہی فکر گہری ہو گئی شہر سے جب لوگ گھر آئے نہیں سونے سونے ہی کھڑے ہیں سب شجر اب تلک تو کچھ ثمر آئے نہیں اب کے وہ ایسے سفر پر کیا گئے پھر دوبارہ لوٹ کر آئے نہیں اڑ گئے طائر بلاتا میں رہا وہ مری دیوار پر آئے نہیں

مزید پڑھیے

آنسو

جب تک نشان پختہ نہیں ہو جاتا آنسو نہیں کہلاتا آنسو سیال صورت نہیں جامدانہ وصف کا بھی حامل ہے قیمت عرض ہنر کی خاطر استقامت ،پختگی اور گرفتگیٔ فکر لازم ہے وقت ہتھیلی پر ٹھہری شبنم کو آئینہ کیا دکھلاتا شبنم خود متصف ہے آئینے کی نوشتہ ہے وقت کی

مزید پڑھیے
صفحہ 1343 سے 6203