محروم اثر آہ بھی ہے اور دعا بھی
محروم اثر آہ بھی ہے اور دعا بھی سنتا نہیں ناکام محبت کی خدا بھی نعمت ہے مرے حق میں مرا درد محبت اٹھتا ہے جو پہلو میں تو آتا ہے مزا بھی اب ٹھوکریں در در کی نہ کھا اے دل ناداں ملتی ہے کہیں درد محبت کی دوا بھی تنہا تری شوخی ہی نہیں دل کی طلب گار کرتی ہے تقاضا یہی در پردہ حیا ...