قومی زبان

وحشت نگار لمحے آہو قطار لمحے

وحشت نگار لمحے آہو قطار لمحے میں ہوں شکار ان کا میرا شکار لمحے آنکھیں ترس رہی ہیں آنکھیں برس رہی ہیں تصویر ہو گئے ہیں پلکوں پہ چار لمحے بھاری اگرچہ ہے من ہر سانس جیسے الجھن کٹ جائیں گے یقیناً یہ انتظار لمحے کیا بیر ہے کسی سے ملیے گلے سبھی سے بہتر ہیں ہر خوشی سے یہ اشک بار ...

مزید پڑھیے

ادھر ادھر سے کتاب دیکھوں

ادھر ادھر سے کتاب دیکھوں خیال سوچوں کہ خواب دیکھوں تمہاری نظروں سے دیکھوں دنیا تمہاری آنکھوں سے خواب دیکھوں ہوا ہے تصویر اک تصور گلاب سوچوں گلاب دیکھوں بدن ہے میرا ہزار آنکھیں کبھی اسے بے نقاب دیکھوں بچھائے رکھوں خمیر صحرا سمندروں میں سراب دیکھوں حسین لمحے گزار آؤں اداس ...

مزید پڑھیے

یہاں وہاں کچھ لفظ ہیں میرے نظمیں غزلیں تیری ہیں

یہاں وہاں کچھ لفظ ہیں میرے نظمیں غزلیں تیری ہیں رنگ دھنک یہ مہکا بادل سب تصویریں تیری ہیں تنہا رہوں یا بھیڑ سے گزروں تنہا میں کب ہوتا ہوں یوں لگتا ہے جیسے مسلسل مجھ پہ نگاہیں تیری ہیں تنہا ساحل خواب گھروندا آس جزیرہ میرا ہے نیلا بادل سات سمندر پانچ زمینیں تیری ہیں حسن جاناں ...

مزید پڑھیے

جانے ان آنکھوں میں یہ کیسا نشہ رکھا ہے

جانے ان آنکھوں میں یہ کیسا نشہ رکھا ہے جس نے دیکھا اسے بدمست بنا رکھا ہے تم پلاؤ گے تو پی لیں گے ہمیں کیا اس سے زہر ہے جام میں یا آب بقا رکھا ہے ہم نشینی سے تمہاری ہے بہار ہستی ان شب و روز میں تم ہی کہو کیا رکھا ہے اس طرح آنے سے بہتر تھا نہ آتے صاحب چند لمحوں کی ملاقات میں کیا رکھا ...

مزید پڑھیے

میرا درد اور بڑھا گئی میرے عقل و ہوش پہ چھا گئی

میرا درد اور بڑھا گئی میرے عقل و ہوش پہ چھا گئی مجھے باؤلا سا بنا گئی تری یاد جب کبھی آ گئی یہ جو میرے دل کے قریب ہے وہ حبیب ہے کہ رقیب ہے یہ زمانے بھر سے عجیب ہے مرے ذہن میں جو سما گئی نہ وہ جذب عشق دروں رہا نہ وہ عقل ساز جنوں رہا نہ وہ بے خودی کا فسوں رہا یہ خودی کی بات جو آ ...

مزید پڑھیے

نہ یوں بار بار دیکھو مرا دل پگھل گیا تو

نہ یوں بار بار دیکھو مرا دل پگھل گیا تو میں کہاں تلک سنبھالوں یہ اگر مچل گیا تو ہے یہ مشورہ تمہارا کہ میں دل پہ جبر کر لوں کیا یہ تم بھی سہہ سکو گے میں اگر بدل گیا تو یا تو دوش مجھ کو مت دو یا نقاب خود الٹ دو تپش نظر سے میری جو نقاب جل گیا تو کہو کب تلک کہو گے بے زباں نہیں ہوں میں ...

مزید پڑھیے

ایک کنکر گرا فکر کی جھیل میں اور فن کے ابھرنے لگے دائرے

ایک کنکر گرا فکر کی جھیل میں اور فن کے ابھرنے لگے دائرے وجد میں آ گئے آگہی کے کنول پھر مچلنے تھرکنے لگے دائرے دل کی گہرائیوں سے تلاطم اٹھا لمحہ لمحہ یہ پیہم امڑتا چلا پھر نہ وجدان پر اپنے قابو رہا زمزموں کے ابلنے لگے دائرے زمزمے تھے کہ تھا یہ سحر سامری نغمگی تھی کہ تھی کرشن کی ...

مزید پڑھیے

آئینوں سے دھول مٹانے آتے ہیں

آئینوں سے دھول مٹانے آتے ہیں کچھ موسم تو آگ لگانے آتے ہیں نیند تو گویا ان آنکھوں کی دشمن ہے مجھ کو پھر بھی خواب سہانے آتے ہیں ان آنکھوں میں رنگ تمہارے کھلتے ہیں یہ موسم کب پھول کھلانے آتے ہیں رونا ہنسنا ہنسنا رونا عادت ہے ہم کو بھی کچھ درد چھپانے آتے ہیں شبنم شبنم خواب اترتے ...

مزید پڑھیے

عکس حیران ہے آئنہ کون ہے

عکس حیران ہے آئنہ کون ہے وہ ہے خوشبو تو پھر پھول سا کون ہے دل سے نکلے ہو پلکوں پہ دم لو ذرا ہو مسافر تمہیں روکتا کون ہے اک سمندر نے خود کو جزیرہ کیا کیا ہوا کیوں ہوا پوچھتا کون ہے غیر آباد ہے وہ گلی وہ مکاں اس دریچے سے پھر جھانکتا کون ہے زندگی حادثے کے سوا کچھ نہیں حادثے پر مگر ...

مزید پڑھیے

لہر اس آنکھ میں لہرائی جو بے زاری کی

لہر اس آنکھ میں لہرائی جو بے زاری کی ہم نے ہنستے ہوئے پھر کوچ کی تیاری کی مجھ کو جس رات سمندر نے اتارا خود میں میں نے اس رات بھی ساحل کی طرف داری کی ہم نے گریہ کو بھی آداب کے اندر رکھا اپنے اعصاب پہ وحشت نہ کبھی طاری کی نقش پا ڈھونڈھتا پھرتا ہے سحر کا وہ بھی جس پہ اک رات بھی گزری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1305 سے 6203