زباں کو ذائقۂ شعر تر نہیں ملتا
زباں کو ذائقۂ شعر تر نہیں ملتا بڑھا ہے زور زباں میں اثر نہیں ملتا خود اپنے حال کی کوئی خبر نہیں ملتی کوئی بھی جذبۂ دل معتبر نہیں ملتا سبھی ہیں کھوئی ہوئی منزلوں کی گرد میں گم سفر بہت ہے مآل سفر نہیں ملتا جو دشت میں تھے وہ بیگانۂ خلائق تھے جو شہر میں تھے انہیں اپنا گھر نہیں ...