قومی زبان

ایک بھولی ہوئی یاد

تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیں میں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھا تم نے مجھ سے عہد لیا تھا میں نے بھی اک بات کہی تھی تم نے میری سب تصویریں واپس دے کر اپنے خط مجھ سے مانگے تھے لیکن آج رسالے میں اپنا اک شعر تمہارے نام سے دیکھا ہے تو سوچ رہا ہوں چہروں کی پہچان ادھوری رہ جائے تو ...

مزید پڑھیے

ماں

عظیم ماں تو نے اپنے بیٹوں کو بیوگی کی سیاہ چادر میں روشنی کا سبق پڑھایا عظیم ماں تو نے دکھ اٹھائے کہ تیرے بیٹے جوان ہوں گے تو عمر بھر کی مسافتوں کا خراج لوں گی تمام حصے وراثتوں کے تمام لمحے محبتوں کے تمام آنسو مسرتوں کے جوان ہوں گے تو اپنے بیٹوں میں بانٹ دوں گی عظیم ماں تیرے سارے ...

مزید پڑھیے

میری بچی

میری ننھی بچی مجھ سے کہتی ہے ابو رات گئے تک آخر جاگتے کیوں ہو بیٹی میں راتوں کو اکثر شعر لکھا کرتا ہوں میری بچی حیرت سے مجھ کو تکتی ہے اور کہتی ہے ابو ایسے شعر نہ لکھو جن کو لکھنے کی پاداش میں راتوں کو بھی نیند نہ آئے ہاں بیٹی تم سچ کہتی ہو لیکن بات ہی کچھ ایسی ہے میں جو سچے شعر ...

مزید پڑھیے

سال کی آخری شب

سال کی آخری شب میرے کمرے میں کتابوں کا ہجوم پچھلی راتوں کو تراشے ہوئے کچھ ماہ و نجوم میں اکیلا مرے اطراف علوم ایک تصویر پہ بنتے ہوئے میرے خد و خال ان پہ جمتی ہوئی گرد مہ و سال اک ہیولیٰ سا پس شہر غبار اور مجھے جکڑے ہوئے خود مری باہوں کے حصار کوئی روزن ہے نہ در سو گئے اہل خبر سال کی ...

مزید پڑھیے

ہوا بند ہے

ہوا بند ہے سانس آتی نہیں اسقدر شور ہے کوئی آواز کانوں میں آتی نہیں کب سے تازہ گلابوں کی شاخوں پہ کلیوں کو کھلنے کی مہلت نہیں مل رہی شہر میں تم بھی ہو ہم بھی ہیں پھر بھی دونوں کو ملنے کی فرصت نہیں مل رہی سب کے سب جبر کی حالتوں میں جئے جا رہے ہیں کسی کو بھی اپنی محبت نہیں مل رہی ہوا ...

مزید پڑھیے

فرار

ٹوٹے پھوٹے وعدوں سے خوش فہمیوں کا کشکول سجائے مجھ میں رہنے کی خاطر تم آئے اس سے پہلے میں دروازہ کھولوں کچھ بولوں افواہوں کی گرد میں لپٹے زہر آلود محبت نامے لئے ہوئے تم ادھڑے ہوئے رشتوں کے جامے سیے ہوئے تم مجھ میں آن سمائے میں رہنے کے لئے بنا ہوں جو آئے مجھ میں رہ جائے مجھے ...

مزید پڑھیے

دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا

دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا دور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گا اپنے اطراف نیا شہر بساؤں گا کبھی اور اک شخص کو پھر اس کی حکومت دوں گا اک دیا نیند کی آغوش میں جلتا ہے کہیں سلسلہ خواب کا ٹوٹے تو بشارت دوں گا قصۂ سود و زیاں وقف مدارات ہوا پھر کسی روز ملاقات کی زحمت دوں گا میں ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون

کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کون تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے پھر پس دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون بس تری بیچارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا ہے کون کون یہ پاتال سے لے کر ابھرتا ہے ...

مزید پڑھیے

وقت منصف ہے

تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نے میں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوں میں لفظ لکھنے پہ زندگی کے عزیز لمحوں کو نذر کر دوں میں لفظ لکھوں اور ان کی آنکھوں میں منجمد رتجگوں کو اپنے لہو کی تازہ حرارتیں دے کے جگمگا دوں تو میں بڑا ہوں تمہیں خبر ہے مری رگوں میں بڑے قبیلے کے شاہزادے کا خون ...

مزید پڑھیے

دعا

بام و در چپ سادھ چکے ہیں طاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہے میرے بچے میری جھوٹی باتیں سن کر ابھی سوئے ہیں رات کا آخری پہر ہے میں ہوں سچے مالک آج میں پہلی بار دعا کو ہاتھ اٹھائے تجھ سے اتنا چاہتا ہوں جب تک میرے بچے جاگیں میری ساری جھوٹی باتیں سچی کر دے

مزید پڑھیے
صفحہ 1262 سے 6203