آرٹ گیلری میں ایک تصویر
صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میں بولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہے اور کسی کی نظر نہیں ہے دور سفر پر گئے ہوؤں کے رستوں پر ان گنت دعائیں بچھی ہوئی ہیں اور کسی کو خبر نہیں ہے سب دیکھے ان دیکھے دکھ آسیب زدہ تحریروں کو چہرے پر ملتے پھرتے ہیں اور کئی برس سے یوں ہوتا ...