قومی زبان

آرٹ گیلری میں ایک تصویر

صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میں بولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہے اور کسی کی نظر نہیں ہے دور سفر پر گئے ہوؤں کے رستوں پر ان گنت دعائیں بچھی ہوئی ہیں اور کسی کو خبر نہیں ہے سب دیکھے ان دیکھے دکھ آسیب زدہ تحریروں کو چہرے پر ملتے پھرتے ہیں اور کئی برس سے یوں ہوتا ...

مزید پڑھیے

پرانے ساحلوں پر نیا گیت

سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہے پرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیں زمیں کے بھید جیسے چاند تاروں کو بتاتے ہیں ہوا سرگوشیوں کے جال بنتی ہے تمہیں فرصت ملے تو دیکھنا لہروں میں اک کشتی ہے اور کشتی میں اک تنہا مسافر ہے مسافر کے لبوں پر واپسی کے گیت لہروں کی سبک گامی میں ...

مزید پڑھیے

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا مداوا ہو نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ...

مزید پڑھیے

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے ہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتے خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے مہلت ہی نہ دی گردش افلاک نے ہم کو کیا سلسلۂ نقل مکانی سے نکلتے اک عمر لگی تیری کشادہ نظری میں اس تنگئ داماں کو گرانی سے نکلتے بس ایک ہی موسم کا ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے

ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے جیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھے آج تو شام ہی سے آنکھوں میں نیند نے خیمے گاڑ دیئے ہم تو دن نکلے تک تیرا رستہ دیکھنے والے تھے اک دستک کی رم جھم نے اندیشوں کے در کھول دیئے رات اگر ہم سو جاتے تو سپنا دیکھنے والے تھے ایک ...

مزید پڑھیے

نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہے

نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہے مگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہے کبھی سفر کبھی رخت سفر گنواتا ہے پھر اس کے بعد کوئی راستہ بناتا ہے یہ لوگ عشق میں سچے نہیں ہیں ورنہ ہجر نہ ابتدا نہ کہیں انتہا میں آتا ہے یہ کون ہے جو دکھائی نہیں دیا اب تک اور ایک عمر سے اپنی طرف بلاتا ہے وہ کون ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھا

وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھا تو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھا یہ جو شاخ لب پہ ہجوم رنگ صدا کھلا ہے گلی گلی کہیں کوئی شعلۂ بے نوا کسی قتل گاہ میں جل بجھا جو کتاب عشق کے باب تھے تری دسترس میں بکھر گئے وہ جو عہد نامۂ خواب تھا وہ مری نگاہ میں جل ...

مزید پڑھیے

مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے

مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے ہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتے مامور تھیں سورج کی گواہی پہ ہوائیں پھر سائے کہاں دھوپ کی جاگیر اٹھاتے تجھ تک بھی پہنچنے کے لیے وقت نہیں تھا کب دولت دنیا ترے رہگیر اٹھاتے بس ایک ہی خواہش سر مقتل ہمیں یاد آئی زنداں سے نکلتے ہوئے زنجیر ...

مزید پڑھیے

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1263 سے 6203