قومی زبان

احتجاج

امن کی چادر میں بارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کے دنیا بھر میں بھیجنے والے بے حس لوگو اپنی سازش گاہ سے باہر جھانک کے دیکھو چہرے پر جانی پہچانی بے مقصد سی کچھ تحریریں تھکے ہوئے پیروں میں بھاگتے رستوں کی ساکت زنجیریں جیسے آزادی کے گھر میں قید ہوں دو ننگی تصویریں خشک لبوں ...

مزید پڑھیے

سندیسہ

اسے کہنا کبھی ملنے چلا آئے ہمارے پاؤں میں جو راستہ تھا راستے میں پیڑ تھے پیڑوں پہ جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں اب وہ اڑتے اڑتے تھک گئی ہیں وہ گھنی شاخیں جو ہم پر سایا کرتی تھیں وہ سب مرجھا گئی ہیں تم اسے کہنا کبھی ملنے چلا آئے لبوں پر لفظ ہیں لفظوں میں کوئی داستاں قصہ ...

مزید پڑھیے

شاعر خوش نوا

وہی کار دنیا وہی کار دنیا کے اپنے جھمیلے وہی دل کی حالت وہی خواہشوں آرزوؤں کے میلے وہی زندگی سے بھری بھیڑ میں چلنے والے سبھی لوگ اپنی جگہ پر اکیلے کئی گرد آلود منظر نگاہوں کی دہلیز پر جم گئے ہیں مجھے یوں لگا جیسے چلتے ہوئے وقت کے قافلے تھم گئے ہیں ذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے ...

مزید پڑھیے

ملتا نہیں کوئی بھی خریدار عشق میں

ملتا نہیں کوئی بھی خریدار عشق میں رسوا ہوئے ہیں بر سر بازار عشق میں منزل ملی نہ مرحلۂ دل ہی طے ہوا دشت جنوں کو جانئے دیوار عشق میں اس نافۂ نگاہ سے پاگل ہوئے تو کیا زنجیر ہے یہ درد کا آزاد عشق میں اب تک ترے خیال سے نمناک ہے یہ آنکھ صرف اس قدر ہوا ہوں گنہ گار عشق میں فریاد کر رہا ...

مزید پڑھیے

بدن کو پھونکتی ہیں نغمہ خوانیاں پیارے

بدن کو پھونکتی ہیں نغمہ خوانیاں پیارے سرود عشق نہ چھیڑیں جوانیاں پیارے یہ برگ زرد کہ بکھرے پڑے ہیں راہوں میں یہی ہیں موسم گل کی نشانیاں پیارے قدم قدم غم ہجراں کی بے پناہی میں سنا رہی ہے محبت کہانیاں پیارے کوئی امید نہ ہوتی تو جی بہل جاتا رلا رہی ہیں تری مہربانیاں پیارے چراغ ...

مزید پڑھیے

آؤ کمرے سے نکلتے ہیں

آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں روزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہوا پا بہ زنجیر کئے جاتی ہے ہر طرف خوف بھری آنکھوں میں ایک تلوار سی لہراتی ہے کوئی در باز نہیں زیر لب بھی کوئی آواز نہیں ایسا اندیشۂ کم یابیٔ حرف کچھ بھی تو یاد نہیں ہم کوئی بات سلیقے سے نہیں کہتے تھے اس پہ بھی ...

مزید پڑھیے

امید

دیکھو باہر آگ لگی ہے دروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہے اور اندر بیتے موسم ویرانی پر ہنستے ہیں پھر بھی بے منظر آنکھیں امید کا جھولا جھولتی ہیں پھر بھی دل سناٹے کو آواز بنائے جاتا ہے کسے بلاتا ہے

مزید پڑھیے

اسم آب

جو تو تصویر کرتا ہے جو میں تحریر کرتا ہوں نہ تیرا ہے نہ میرا ہے مگر اپنا ہے یہ جب تک اسے پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے ابھی ماحول کو چاروں طرف سے حبس کے صحرا نے گھیرا ہے مگر کب تک ہوا چلنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی زنجیر ہے شاید ہمارے پاؤں میں اور راہ میں کافی اندھیرا ہے مگر کب تک دیا ...

مزید پڑھیے

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکا جو تیرا لہجہ جو تیرے گیتوں پہیلیوں کا امین بن کر سماعتوں کو ہزار لفظوں کی داستانیں سنا گیا ہے ابھی ابھی بے کراں سا لمحہ جو کتنی صدیوں کا بوجھ اٹھائے گزر گیا ہے جو میری آنکھوں میں سوئے منظر جگا گیا ہے ابھی ابھی تیرا اک صحیفہ اک عہد بن کر دیار دل میں اتر ...

مزید پڑھیے

محبت ڈائری ہرگز نہیں ہے

محبت ڈائری ہرگز نہیں ہے جس میں تم لکھو کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے کون سی خوشبو لگانی ہے کسے کیا بات کہنی کون سی کس سے چھپانی ہے کہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے مل کر پوچھنا ہے کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے یہ فرسودہ سا جملہ ہے مگر پھر بھی یہی جملہ دریچوں آنگنوں سڑکوں گلی کوچوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1261 سے 6203