احتجاج
امن کی چادر میں بارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کے دنیا بھر میں بھیجنے والے بے حس لوگو اپنی سازش گاہ سے باہر جھانک کے دیکھو چہرے پر جانی پہچانی بے مقصد سی کچھ تحریریں تھکے ہوئے پیروں میں بھاگتے رستوں کی ساکت زنجیریں جیسے آزادی کے گھر میں قید ہوں دو ننگی تصویریں خشک لبوں ...