باڑھ
ندی کی لہریں سوتے سوتے جیسے ایک دم جاگ پڑیں اور جھپٹ پڑیں ان گیلے گیلے مٹی بالو کنکر پتھر اور سیمنٹ کے پشتوں پر جن سے ان کو باندھ کے سب نے رکھ چھوڑا تھا لہک لہک کر ناچ ناچ کر شور مچاتی چاروں اور گلی گلی کوچے کوچے میں گھروں میں صحنوں میں کمروں باغوں میں کونے کونے میں وہ جھٹ پٹ گھس ...