قومی زبان

برسات کی رات

بھیگی ہری اوڑھنیاں اوڑھے جوہی چنبیلی چمپا کامنی رس بھری ہواؤں کے تھپیڑوں سے کپکپاتی ہیں گھپ اندھیرے میں جگنوؤں کی بے آواز بوندیں ٹپکتی ہیں بیاکل رات خاموشیوں کے سنگیت میں ڈوب گئی ہے مہکتی سانسوں کے نم جھونکے دبے پاؤں بھیتر آ کر بند آنکھوں کو ہلکے سے چوم لیتے ہیں لیکن وہ لجاتی ...

مزید پڑھیے

جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں

جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں پردے میں ہر لباس کے عریاں ہوا ہوں میں مجھ سے ملو کہ میں ہوں زمانے کی روشنی ظلمت میں آفتاب کی صورت پڑا ہوں میں آنکھیں بھی ہوں تو دیکھنا آساں نہیں مجھے تابانیوں کی کہر میں ڈوبا ہوا ہوں میں اب اپنی شکل ڈھونڈھتا پھرتا ہوں چار سو طوفان صد نگاہ میں گم ...

مزید پڑھیے

جدا کیا ہو گئے تم سے نہ پھر یکجا ہوئے خود سے

جدا کیا ہو گئے تم سے نہ پھر یکجا ہوئے خود سے ملا وہ اختیار آخر کہ ہم تنہا ہوئے خود سے تہ آب دل و جاں موتیوں کی طرح رہتے ہیں جو منظر اس جہان خاک میں پیدا ہوئے خود سے چھپا لیتے تری صورت ہم اپنی آنکھ میں دل میں لب گویا کے ہاتھوں کس لئے رسوا ہوئے خود سے اڑی وہ خاک دل صورت نظر آتی نہیں ...

مزید پڑھیے

کالا پھول

گھنے بھیانک اندھیروں کی تہیں چیر کر اک کالا پھول نکل آیا ہے کومل ملائم نم پنکھڑیاں جیسے اس بپتا کی ماری کے آنسوؤں سے تر گال جس کا پتی رن بھومی سے نہیں لوٹا چتا میں جلتے صندل کی سی مہک ہے اس میں سوگوار درد کا پیکر پھول اس کی معصوم رنگت سہانی خوشبو کہاں کھو گئی ان ٹہنیوں شاخوں کے ...

مزید پڑھیے

محبت کی موت

تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے؟ چمکتی ہنستی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں دل کے دالانوں میں پریشان گرم لو کے جھکڑ چلتے ہیں گلابی احساس کے بہتے ہوئے خشک اور لگتا ہے جیسے کسی ہری بھری کھیتی پر پالا پڑ جائے! لیکن یارب آرزو کے ان مرجھائے سوکھے پھولوں ان گم شدہ جنتوں سے کیسی صندلی دل ...

مزید پڑھیے

نرالی راتیں

کالی، جگمگاتی، نرالی راتیں رس بھری، مدماتی راتیں رات کی رانی خوشبو سے بھری تاروں کی مدھم نورانی چھاؤں میں ہلکی ٹھنڈی راتیں بیساکھی ہواؤں ''سارنگی کی لمبی الکسی سسکیوں'' پیار کے رازوں سے بوجھل کہانی راتیں کہاں کھو گئیں ہیں یارب؟ کھو جائیں تو پھر کھو جائیں لیکن وہ من موہک ...

مزید پڑھیے

تصویریں

یک رنگ میں سیکڑوں رنگ ہوتے ہیں ہلکے، گہرے، مدھم شفاف روشنیوں سے بھرے، چمکتے، جگمگاتے سرمئی ابریشمی نقابیں ڈالے گھلے ملے دھوپ چھاؤں کی آنکھ مچولی کھیلتے انوکھے نقوش میں ابھرے اڑتے ہوئے یا پھر اتنے گمبھیر جیسے جہازوں کے لنگر ان میں لہریں ہوتی ہیں تڑپتی بے چین طوفانی اور ایسی ...

مزید پڑھیے

دلوں میں حبس کا عالم پرانی عادتوں سے ہے

دلوں میں حبس کا عالم پرانی عادتوں سے ہے لبوں پر تلخیوں کا زہر بگڑے ذائقوں سے ہے جو اجڑا شہر خوابوں کا تو اپنی بھی اڑی ہے گرد کسی سوکھے ہوئے دریا کی صورت مدتوں سے ہے یہ کالی رات کا دریا بہا کر لے گیا سورج ہراساں صبح کے ساحل پہ دل تاریکیوں سے ہے مہکتے پھول بھی ڈسنے لگے ہیں سانپ کی ...

مزید پڑھیے

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا تیرگی کے جنگل میں چشمۂ ضیا پایا آفتاب کا پیکر بن گیا بدن اپنا روشنی میں سائے کا سحر ٹوٹتا پایا کھل گئی جو آنکھ اپنی وقت کی صدا سن کر ان گنت جہانوں کا در کھلا ہوا پایا ہر قدم پہ ساتھ اپنے خود کو دیکھتے ہیں ہم ہم سفر کوئی اپنا اب نہ دوسرا ...

مزید پڑھیے

ابر کا ٹکڑا ہو جیسے چاند پر ٹھہرا ہوا

ابر کا ٹکڑا ہو جیسے چاند پر ٹھہرا ہوا یوں ترے مکھڑے پہ زلفوں کا گھنا سایہ ہوا قرب کی لذت سے آنکھوں میں گھٹا سی چھا گئی اور یہ دل ہے شرابی کی طرح بہکا ہوا دل سمجھتا ہے تری رفتار کے اسلوب کو تو ابھی آیا نہیں اور حشر سا برپا ہوا آشنائی کی ہوا دل کے چمن میں کیا چلی ہر گل منظر نظر آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1259 سے 6203