قومی زبان

ادھڑے ہوئے ملبوس کا پرچم سا گیا ہے

ادھڑے ہوئے ملبوس کا پرچم سا گیا ہے بازار سے پھر آج کوئی ہم سا گیا ہے جھونکا تھا مگر چھیڑ کے گزرا ہے کچھ ایسے جیسے ترے پیکر کا کوئی خم سا گیا ہے چھوڑوں کہ مٹا ڈالوں اسی سوچ میں گم ہوں آئینے پہ اک قطرۂ خوں جم سا گیا ہے گالوں پہ شفق پھولتی دیکھی نہیں کب سے لگتا ہے کہ جسموں میں لہو ...

مزید پڑھیے

گرہستی

اک تذبذب کی سرائے ساعتوں کے میل سے بوجھل مگر روشن چھتیں دیوار و در اور راہدری میں ابھرتی اجنبی قدموں کی ہلکی تیز چاپ اور خاموشی کا لمس جیسے سائبہ پھر صحن میں آ کر اترتے قافلوں کی فاصلوں سے چور آوازیں سفر میں یوں اچانک آنے والے اس پڑاؤ کی لپٹتی میزباں ٹھنڈک سے سحر آگیں طراوت پا ...

مزید پڑھیے

گزرا ہے ناگوار انہیں بے کسی کا شور

گزرا ہے ناگوار انہیں بے کسی کا شور کانوں میں جن کے گونج رہا ہے خوشی کا شور سنتا نہیں لحد میں مجھے خامشی کا شور تحت الشعور میں ہے ابھی زندگی کا شور مر مر کے میں نے اپنے فریضے کئے ادا ہے میرے دم سے آج تری برتری کا شور زنجیر پا سے لاج غلامی کی رہ گئی ہر گام پر اٹھا ہے مری بندگی کا ...

مزید پڑھیے

دعاؤں میں اثر باقی نہ آہوں میں اثر باقی

دعاؤں میں اثر باقی نہ آہوں میں اثر باقی ہے کچھ لے دے کے گر باقی تو ہے اک چشم تر باقی یہ کیسا حادثہ گزرا یہ کیسا سانحہ بیتا نہ آنگن ہے نہ چھت باقی نہ ہیں دیوار و در باقی چمن والوں کی بد ذوقی پہ کلیاں جان کھوتی ہیں نہ ہیں اہل نظر باقی نہ کوئی دیدہ ور باقی پتا کیا پوچھتے ہیں آپ ہم ...

مزید پڑھیے

بھٹکی ہے اجالوں میں نظر شام سے پہلے

بھٹکی ہے اجالوں میں نظر شام سے پہلے یہ شام ڈھلے کا سا اثر شام سے پہلے سکتے میں سسکتے ہوئے تابوت کھلیں گے اچھا ہے نکل جائے یہ ڈر شام سے پہلے وہ رزمیہ پڑھتے ہیں وہ اکساتے ہیں مجھ کو جاتی ہوئی کرنوں کے بھنور شام سے پہلے میں ٹیلے پہ بیٹھا تو سنی شہر کی سسکی دیکھے مرے آنگن مرے گھر ...

مزید پڑھیے

اک درد سب کے درد کا مظہر لگا مجھے

اک درد سب کے درد کا مظہر لگا مجھے دریا سمندروں کا شناور لگا مجھے مجھ کو خلا کے پار سے آتی ہے اک صدا اے رہرو خیال ذرا پر لگا مجھے یہ اور بات میں نے کھنگالا انہیں بہت ان پانیوں سے ڈر ہے برابر لگا مجھے زخمی افق دھوئیں کی کمند اونگھتے درخت منظر کی زد میں آ کے بڑا ڈر لگا مجھے وہ دن ...

مزید پڑھیے

ہوا میں کچھ تو گھلا تھا کہ ہونٹ نیلے ہوئے

ہوا میں کچھ تو گھلا تھا کہ ہونٹ نیلے ہوئے گلے لگاتے ہی تازہ گلاب پیلے ہوئے نہ دشت جان پہ برسی رفاقتوں کی پھوار نہ آنکھ میں چمک آئی نہ لب ہی گیلے ہوئے اندھیرے اوڑھنا چاہے تو بدلیاں چمکیں چراغ اجالنا چاہے تو لاکھ حیلے ہوئے تمام رات اسی کہر کے جزیرے پر الجھ الجھ کے شعاعوں کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

تو یوں کہو نا دلوں کا شکار کرنا ہے

تو یوں کہو نا دلوں کا شکار کرنا ہے ہوا کے ساتھ سفر اختیار کرنا ہے بجا کہ زخم نہ گنوائیں گے مگر جاناں وہ پھول کتنے ہیں جن کا شمار کرنا ہے غرور و تمکنت و جہل سے نبھا لینا فراز کوہ کو گویا غبار کرنا ہے وہ بد سرشت پرندہ ہے اس کا مسلک ہی جو پک گئے وہ ثمر داغدار کرنا ہے اسے بھی رات گئے ...

مزید پڑھیے

جلتی ہوائیں کہہ گئیں عزم ثبات چھوڑ دے

جلتی ہوائیں کہہ گئیں عزم ثبات چھوڑ دے تیرا بدن پگھل گیا دست حیات چھوڑ دے آگ سے کھیل کھیل کر کتنے جلا لئے ہیں ہاتھ تجھ سے کہا تھا بارہا دیکھ یہ بات چھوڑ دے میں تیرے ساتھ ہوں مگر یہ وہ مقام ہے کہ اب جو تیرے جی میں آئے کر جا میری بات چھوڑ دے تیری نظر سراب پر مجھ کو عزیز گرد راہ تو ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں سے کم

ہونٹوں سے کم گرم مہکتی سانسوں سے نم آنکھوں سے تم نے پوچھا کیا ہم سے محبت کرتے ہو بس ایک حرف منہ سے نکلا ہاں کتنا معمولی چھوٹا سا یہ نا مکمل لفظ ہے کیسے دکھلائیں تم کو اس پوشیدہ خوابیدہ وادی کو جس میں نور کی بارش ہوتی ہے جھرنے بہتے ہیں نغموں کے اور بسے قد آور پیڑ چنار کے اپنے جھل مل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1257 سے 6203