قومی زبان

زمانے کی نظر سے دیکھتا ہوں میں کہاں ہوں

زمانے کی نظر سے دیکھتا ہوں میں کہاں ہوں یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں میں کہاں ہوں کہا اس نے مجھے اس کو محبت ہے کسی سے میں اپنے آپ سے یہ پوچھتا ہوں میں کہاں ہوں وہ مجھ سے روٹھ کر پھر ہو گیا نظروں سے اوجھل میں اس لمحے سے اب تک ڈھونڈھتا ہوں میں کہاں ہوں یہ وہ گاؤں ہے یا پھر شہر در ...

مزید پڑھیے

دشت میں جس طرح شجر تنہا

دشت میں جس طرح شجر تنہا کٹ گیا اس طرح سفر تنہا گھومتا ہے ادھر ادھر تنہا اک مسافر نگر نگر تنہا چھپ کے بیٹھی ہے باز کے ڈر سے فاختہ ایک شاخ پر تنہا جی میں آتا ہے ہم بنا ڈالیں شہر سے دور ایک گھر تنہا اس ہجوم بلا میں عرصے سے ڈھونڈھتی ہے کسے نظر تنہا سوز دل شامل سخن کر لیں لفظ رکھتے ...

مزید پڑھیے

ہر قدم رہ گزر سے کھیلے گا

ہر قدم رہ گزر سے کھیلے گا اب مسافر سفر سے کھیلے گا ناؤ گر ڈوبتی ہے تو ڈوبے نا خدا تو بھنور سے کھیلے گا بے ہنر لے کے ہاتھ میں تیشہ با ہنر کے ہنر سے کھیلے گا شام ہوتے ہی دل کے آنگن میں اک پرندہ شجر سے کھیلے گا کیفؔ بچوں کا کھیل ہے دنیا کون شمس و قمر سے کھیلے گا

مزید پڑھیے

کرکٹر سے مکالمہ

کہا جب اک کھلاڑی سے کہ لگ جائے اگر چوکا تو فوراً آپ کو آؤٹ ہو جانے کی عادت ہے وہ بولا میں کرکٹر بھی ہوں اور مرد مسلماں بھی مسلماں مرد کو بس چار ہی رن کی اجازت ہے

مزید پڑھیے

گرانی کا اثر

ہوئی جو دال گراں اور سبزیاں مہنگی کچن میں جا کے بھلا کیا کچن نواز کرے معاملات محبت کا اب یہ عالم ہے میں پیار پیار کروں اور وہ پیاز پیاز کرے

مزید پڑھیے

اسلام آباد

عجب سیکٹر زدہ کچھ لوگ اس بستی میں رہتے ہیں کہ جیسے گول کیپر اپنی اپنی ''ڈی'' میں رہتے ہیں چلے گا کس طرح اب عشق لیلیٰ اور مجنوں میں وہ سیکٹر ''ای'' میں رہتی ہے یہ سیکٹر ''جی'' میں رہتے ہیں

مزید پڑھیے

نہلے پہ دہلا

دیکھا جو زلف یار میں کاغذ کا ایک پھول میں کوٹ میں گلاب لگا کر چلا گیا پوڈر لگا کے چہرے پہ آئے وہ میرے گھر میں ان کے گھر خضاب لگا کر چلا گیا

مزید پڑھیے

سوال لطف و کرم پر قیاس کیا کرتے

سوال لطف و کرم پر قیاس کیا کرتے وہ مل بھی جاتا تو ہم نا سپاس کیا کرتے ہر ایک شخص ملا داستان درد لیے ہم اپنے زخم نہاں بے لباس کیا کرتے وہ گھومتا پھرے لے کر جہان مٹھی میں ہم اپنا خوف لیے آس پاس کیا کرتے دل و دماغ پہ جب اختیار تھا اس کا کسی حوالے سے پھر التباس کیا کرتے یہ سوچتے تھے ...

مزید پڑھیے

میری مشکل کو جو آساں نہیں ہونے دیتا

میری مشکل کو جو آساں نہیں ہونے دیتا وہ مرے درد کا درماں نہیں ہونے دیتا تو نے امید لگائی بھی تو کس کافر سے جو کبھی صاحب ایماں نہیں ہونے دیتا میں نے تو عمر لٹا دی ہے مگر وہ اپنا ایک لمحے کا بھی نقصاں نہیں ہونے دیتا نت نئے درد تو ایجاد کئے رکھتا ہے اور خود کو وہ پشیماں نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

خبر ہے میری رسوائی کی

اسی پرچے میں خبر ہے میری رسوائی کی جس میں تصویر چھپی ہے تیری انگڑائی کی کیسے کہہ دوں کہ میں لیڈر بھی ہوں اور لوٹا بھی بات سچی ہے مگر بات ہے رسوائی کی میرے افسانے سناتی ہے محلے بھر کو اک یہی بات ہے اچھی میری ہمسائی کی دو عدد ویڈیو فلموں میں گزر جاتی ہے صرف اتنی ہے طوالت شب تنہائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1169 سے 6203