لبوں میں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں
لبوں میں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
لبوں میں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
سینٹ کی کجلے کی اور غازے کی گلکاری کے بعد وہ حسیں لگتی ہے لیکن کتنی تیاری کے بعد مدتوں کے بعد اس کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے روزہ دار کی حالت ہو افطاری کے بعد باندھ کر صحرا نظر آئے ہے یوں نوشہ میاں جس طرح مجرم دکھائی دے گرفتاری کے بعد ہیروئن پچپن برس کی ہو چکیں تو غم نہیں اب گلو ...
فاخرہ تو پاگل تھی فیشنوں کے چکر میں یوں فریب کھا بیٹھی رنگ گورا کرنے کی ہر دوا منگا بیٹھی تھی دوا جو کھانے کی وہ دوا لگا بیٹھی جو دوا لگانی تھی اس دوا کو کھا بیٹھی اور اس حماقت میں اپنی جاں گنوا بیٹھی فاخرہ تو پاگل تھی
جناب شیخ اپنے وعظ میں روزانہ برسوں سے سنائے جا رہے ہیں ایک ہی افسانہ برسوں سے ڈش انٹینا کے رستے روز آتی ہیں مرے گھر میں وہ حوریں جن کے چکر میں ہیں یہ مولانا برسوں سے
منے پر ہے اتنا بوجھ کتابوں کا بے چارے کو چلنے میں دشواری ہے اس کا بستہ دیکھ کے ایسے لگتا ہے پی۔ایچ۔ڈی سے آگے کی تیاری ہے
راکٹ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی موٹر چلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی بس میں جو جا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پیڈل گھما رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پیدل جو آ رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پبلک سے جس نے ووٹ لیا وہ بھی آدمی رشوت کا جس نے نوٹ لیا وہ بھی آدمی ''لنڈے'' کا جس نے کوٹ لیا وہ بھی آدمی ''چرغا'' ...
وہ اس کالج کی شہزادی تھی اور شاہانہ پڑھتی تھی وہ بے باکانہ آتی تھی وہ بے باکانہ پڑھتی تھی بڑے مشکل سبق تھے جن کو وہ روزانہ پڑھتی تھی وہ لڑکی تھی مگر مضمون سب مردانہ پڑھتی تھی یہی کالج ہے وہ ہم دم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی کلاسوں میں ہمیشہ دیر سے وہ آیا کرتی تھی کتابوں کے تلے فلمی ...
بیٹھ کر ایک بار رکشے میں پھر نہ بیٹھے گا یار رکشے میں آج کل ہو رہا ہے زوروں پر حسن کا کاروبار رکشے میں دے حسینوں کو کار سے تشبیہ کر ہمارا شمار رکشے میں آ رہا ہے مشاعرے کے لئے شاعر نامدار رکشے میں ہے جہاں دو کا بیٹھنا مشکل یہ بٹھاتے ہیں چار رکشے میں شاہراہوں پہ روز ہوتے ...
شادی کے جو افسانے ہیں رنگین بہت ہیں لیکن جو حقائق ہیں وہ سنگین بہت ہیں ابلیس بچارے ہی کو بے کار نہ کوسو انسان کے اندر بھی شیاطین بہت ہیں بخشیش کی صورت انہیں دیتے رہو رشوت سرکار کے دفتر میں مساکین بہت ہیں اس دور کے مردوں کی جو کی شکل شماری ثابت ہوا دنیا میں خواتین بہت ہیں جب ...
بجٹ کی کئی سختیاں اور بھی ہیں ''ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں'' بظاہر تو یہ اک عوامی بجٹ ہے مگر اس میں کچھ خوبیاں اور بھی ہیں نہیں چل سکی اک سفارش تو کیا غم نہ گھبرا مرے مہرباں اور بھی ہیں فقط ایک بل ہی نہیں ڈاکٹر کا دواؤں کی کچھ پرچیاں اور بھی ہیں نہ اترا اگر بچ گیا حادثے ...