تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں
تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں یقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیں نہیں جو منظور تم کو ملنا تو کیوں نہیں صاف صاف کہتے سمجھ میں آتی نہیں ہمارے کرو نہ تم پیچ دار باتیں اٹھی ہے کالی گھٹا فلک پر ہے ساقیٔ ماہ وش بغل میں بہک بہک کر ہیں کیا مزے سے بنا رہے ...