قومی زبان

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے ہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے شہر آزردہ فضا میں آبگینوں کو بروئے کار لاتے شام کی ان خانماں ویرانیوں میں صحبت احباب ہوتے تازہ و غم ناک رکھتے آس اور امید کی سب کونپلوں کو اور پھر ہم راہیٔ باد شبانہ کے لیے مہتاب ...

مزید پڑھیے

جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں

جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں پھر سے ہو گیا شامل زندگی کے دھارے میں اسم بھول بیٹھے ہم جسم بھول بیٹھے ہم وہ ہمیں ملی یارو رات اک ستارے میں اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیں تو نہیں خسارے میں میں نہیں خسارے میں میں نے دس برس پہلے جس کا نام رکھا تھا کام کر رہی ہوگی ...

مزید پڑھیے

کس پر پوشیدہ اور کس پہ عیاں ہونا تھا

کس پر پوشیدہ اور کس پہ عیاں ہونا تھا کون ہوں میں مجھ کو اس وقت کہاں ہونا تھا تم کہاں اس کنج آزار میں کھوئی ہوئی ہو تم کو تو میرے بچے کی ماں ہونا تھا اس سے پہلے کہاں تھے ہم کس خواب میں تھے ہم دونوں کو ایک سفر پہ رواں ہونا تھا آئینے کو سبز کیا میری آنکھوں نے مجھ سے ہی یہ کار شیشہ ...

مزید پڑھیے

بنت ماہتاب

سیاہ زلف کہ برسات کی ہو جیسے گھٹا مزاج صبح درخشاں تری جبیں کی ضیا حسین گالوں پہ بکھرا ہوا وہ رنگ حیا نمی وہ ہونٹوں کی جس میں نبات‌ و عسل گھلا نہ کیوں بھلا میں تجھے بنت ماہتاب کہوں جو آنکھ نرگس شہلا کی آبرو لے لے پلک نہ جس پہ کبھی اشک مضطرب کھیلے چھوئے جو چاند کو تو ہاتھ ہوں ترے ...

مزید پڑھیے

رات ڈھلنے کے بعد کیا ہوگا

رات ڈھلنے کے بعد کیا ہوگا دن نکلنے کے بعد کیا ہوگا سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں بچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا رقص میں ہوگی ایک پرچھائیں دیپ جلنے کے بعد کیا ہوگا دشت چھوڑا تو کیا ملا ثروتؔ گھر بدلنے کے بعد کیا ہوگا

مزید پڑھیے

جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں

جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں اس مور کو ہم شجر بناؤں بہتے جاتے ہیں آئینے سب میں بھی تو کوئی بھنور بناؤں دوری ہے بس ایک فیصلے کی پتوار چنوں کہ پر بناؤں بہتی ہوئی آگ سے پرندہ بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں گھر سونپ دوں گرد رہ گزر کو دہلیز کو ہم سفر بناؤں ہو فرصت خواب جو میسر اک اور ہی ...

مزید پڑھیے

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو جاگو تو آئینہ دیکھو اور مجھے دیکھو سوچو یہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہے جب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اس کا ایک سخن کرنوں کا گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو بازو ہیں یا دو پتواریں ناؤ پہ رکھی ہیں لہریں لیتا ...

مزید پڑھیے

وہیں پر مرا سیم تن بھی تو ہے

وہیں پر مرا سیم تن بھی تو ہے اسی راستے میں وطن بھی تو ہے بجھی روح کی پیاس لیکن سخی مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے نہیں شام تیرہ سے مایوس میں بیاباں کے پیچھے چمن بھی تو ہے مشقت بھرے دن کے آخیر پر ستاروں بھری انجمن بھی تو ہے مہکتی دہکتی لہکتی ہوئی یہ تنہائی باغ عدن بھی تو ہے

مزید پڑھیے

دل کو نشاط غم سے ہوں شاداں کئے ہوئے

دل کو نشاط غم سے ہوں شاداں کئے ہوئے مجھ پر فراق یاد ہے احساں کئے ہوئے آہیں بتا رہی ہیں کہ دیرینہ چوٹ ہے چہرہ ہے دل کے رنج کو عریاں کئے ہوئے جیسے خزاں رسیدہ کوئی برگ دشت میں پھرتے ہیں دل میں درد کو پنہاں کئے ہوئے شاہد ہیں سوز قلب کے قطرات اشک غم پلکوں پہ ہیں چراغ فروزاں کئے ...

مزید پڑھیے

آئینۂ حیات پہ چھایا غبار ہے

آئینۂ حیات پہ چھایا غبار ہے جس کی طرف اٹھائیں نظر دل فگار ہے تصویر تیری عہد حسیں کا ہے ایک نقش جو میرے شہر دل میں تری یادگار ہے تیری شراب پاش نگاہوں کے فیض سے اب بے پیے ہی مجھ کو سرور و خمار ہے خوشبو تمہاری ڈھونڈھتی پھرتی رہی ہمیں پہنچی وہیں جہاں پہ ہمارا مزار ہے چاہو جو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1132 سے 6203