قومی زبان

رونق دل بڑھائے رکھتے ہیں

رونق دل بڑھائے رکھتے ہیں غم کو مہماں بنائے رکھتے ہیں رات خوابوں میں جاگنے کے لیے خود کو دن بھر سلائے رکھتے ہیں آخرش دل غروب ہوتا ہے جس قدر ہم بچائے رکھتے ہیں حسرتوں کے چراغ جلتے ہیں خود سے ہی لو لگائے رکھتے ہیں دل کی تنہائی انجمن اپنی سب سے دامن بچائے رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

بھائی بھلکڑ

دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ باتیں ان کی ساری گڑبڑ راہ چلیں تو رستہ بھولیں بس میں جائیں تو بستہ بھولیں پورب جائیں پچھم پہنچیں منزل پر اپنی کم پہنچیں ٹوپی ہے تو جوتا غائب جوتا ہے تو موزہ غائب پیالی میں ہے چمچہ الٹا پھیر رہے ہیں کنگھا الٹا کام ہے ان کا سارا الٹا اور تو اور پجامہ ...

مزید پڑھیے

بٹو باتونی

بولتی ہے کیا ٹر ٹر باتونی بٹو چپ نہیں رہتی لحظہ بھر باتونی بٹو رک نہیں سکتی ایک ہی سانس میں بولتی جائے الٹا سیدھا بے مطلب جو منہ میں آئے بھائی کہیں میں پڑھتا ہوں مت دھیان بٹاؤ باجی بولیں بھاگو میرے کان نہ کھاؤ بولے کوئی کسی سے تو یہ بیچ میں ٹپکے بات کرے تو اچکے مٹکے آنکھیں ...

مزید پڑھیے

قدرت کے تماشے

پھول کھلے ہیں رنگ برنگے گملوں میں جو بیج تھے بوئے ان میں سے کچھ پودے پھوٹے کچھ کو گملوں ہی میں چھوڑا کچھ کو کیاری میں جا بویا ان پہ پڑیں پانی کی پھواریں جھوم اٹھی پودوں کی قطاریں روز بڑھیں وہ انگل انگل پھیلیں پتیاں ابھرے ڈنٹھل ان میں سے پھر کلیاں پھوٹیں رنگوں کی پچکاریاں ...

مزید پڑھیے

یہ زرد پتے یہ سرد موسم (ردیف .. ن)

یہ زرد پتے یہ سرد موسم کہر میں لپٹی اداس شامیں ہمارے کب اختیار میں ہے تمہارے ہاتھوں کو اب جو تھامیں چلو تمہیں یاد کرکے رو لیں ہم اپنا دامن ذرا بھگو لیں تمہاری خواہش میں جی رہے ہیں سو زہر تنہائی پی رہے ہیں

مزید پڑھیے

بس مجھے وہ شخص ہی اچھا لگے

بس مجھے وہ شخص ہی اچھا لگے جھوٹ بھی بولے تو وہ سچا لگے میں بسی ہوں اس کی ہر اک سانس میں بچھڑی تو مر جائے گا ایسا لگے میں کہیں ہوں وہ کہیں ہم ایک ہیں ہر جگہ بس وہ مجھے میرا لگے ماضی کی چوکھٹ پہ دستک دل کی ہے یاد اس کی اک ادائے پا لگے کون سا الزام نہ مجھ پر لگا آئنہ دیکھے وہ کب اچھا ...

مزید پڑھیے

جانے کیا تھی بات مجھے کچھ یاد نہیں

جانے کیا تھی بات مجھے کچھ یاد نہیں ختم ہوئی کب رات مجھے کچھ یاد نہیں دل میں جینے کی اک خواہش ہوتی تھی اب ہیں جو حالات مجھے کچھ یاد نہیں گرم رتوں میں میں نے دعائیں مانگی تھیں کب آئی برسات مجھے کچھ یاد نہیں بچپن میں اک کھیل تو میں نے کھیلا تھا جیت ہوئی یا مات مجھے کچھ یاد ...

مزید پڑھیے

جہان دل میں ہوئے انقلاب اور ہی کچھ

جہان دل میں ہوئے انقلاب اور ہی کچھ مری نگاہ نے دیکھے تھے خواب اور ہی کچھ ملے ہیں طالب ایفا کو کچھ نئے وعدے سوال اور ہی کچھ تھا جواب اور ہی کچھ ڈرا نہ نار جہنم سے مجھ کو اے واعظ مرے جنم میں لکھے ہیں عذاب اور ہی کچھ سجا کے لائے تھے کچھ لوگ نامۂ اعمال میان حشر ہوا احتساب اور ہی ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف دل کسی اور طرف ہے تو زباں اور طرف ہیں ابھی اہل ہوس سود و زیاں کے ہی اسیر پھیرتے ہیں یوں ہی باتوں سے گماں اور طرف آہ سوزاں کو مری دیکھ نہ دیکھا ہوگا کہ ہوا اور طرف کی ہو دھواں اور طرف رخ رہا تا بہ سحر اور ہی جانب اپنا اور تھا مطلع انوار فشاں اور ...

مزید پڑھیے

کس طرح لب پہ ہنسی بن کے فغاں آتی ہے

کس طرح لب پہ ہنسی بن کے فغاں آتی ہے مجھ سے پوچھو مجھے پھولوں کی زباں آتی ہے زہر غم پیجے تو الفاظ میں رس آتا ہے دل کو خوں کیجے تو افکار میں جاں آتی ہے خیر ہو دل کی کہ پھر لے وہی چھیڑی اس نے جیسے کشتی کی طرف موج رواں آتی ہے شکن زلف بھی ہے حسن طرب میں گویا کھنچ کے ہر تان میں تصویر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1091 سے 6203