قومی زبان

بے خبر لوگ

مگر ان کے اندر جراثیم ہیں روح کی جھریوں کو جھلس دینے والے جنہیں زنگ آلود چہرے فقط کاسٹک اور تیزاب سے صاف کرنا سکوں بخشتا ہے جن کی تھیوری سگریٹوں کے دھوئیں چائے کی پیالیاں کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی باتیں مگر کچھ نہ کرنے کی عادت پہ موقوف ہے سوچ میں روشنی ہے عمل نفرتوں کے اندھیرے کی ...

مزید پڑھیے

سفر طویل ہے اور راہبر کوئی بھی نہیں

سفر طویل ہے اور راہبر کوئی بھی نہیں ہمارے ساتھ یہاں ہم سفر کوئی بھی نہیں تمہارے ہجر میں دن رات میں تڑپتا ہوں پہ میرے حال کی تم کو خبر کوئی بھی نہیں تمہارا دل ہے یا پتھر یہ مجھ کو بتلا دو کہ میری آہ کا اس پر اثر کوئی بھی نہیں یہ درد ہجر ہے اس کی وصال یار سوا زمانہ بھر میں دوا ...

مزید پڑھیے

منزل قریب راہ بھی آساں ہو ڈر نہ ہو

منزل قریب راہ بھی آساں ہو ڈر نہ ہو کیا لطف اس سفر میں کہ جو پر خطر نہ ہو میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اس کی نگاہ میں کوئی بھی شخص میرے سوا معتبر نہ ہو میں ہوں سیاہیٔ شب ہجراں میں پر سکوں اے وقت تھم خیال رہے اب سحر نہ ہو اک سمت بے وفائی تری اک طرف ہے تو دل کشمکش میں ہے کہ کدھر ہو کدھر نہ ...

مزید پڑھیے

نہ ماننا تھا مری بات اور نہ مانی تھی

نہ ماننا تھا مری بات اور نہ مانی تھی کہ دل نے پہلے سے ہی خودکشی کی ٹھانی تھی یہ بہہ رہے تھے کسی بے وفا کی فرقت میں اے چشم یہ ترے اشکوں کی رائیگانی تھی نہ کوئی رخت سفر تھا نہ ہم سفر کوئی میان کرب سفر میری نوحہ خوانی تھی تمام وقت ہی میں شاعری کو دے دیتا شکم کی آگ بھی مجھ کو مگر ...

مزید پڑھیے

نفس نفس پہ نیا سوز آگہی رکھنا

نفس نفس پہ نیا سوز آگہی رکھنا کسی کا درد بھی ہو آنکھ میں نمی رکھنا وہ تشنہ لب ہوں کہ میری انا کا ہے معیار سمندروں سے بھی پیمان تشنگی رکھنا رفاقتوں کے تسلسل سے جی نہ بھر جائے جدائیوں کا بھی موسم کبھی کبھی رکھنا وفا کسی پہ کوئی قرض تو نہیں ہوتی جو ہو سکے تو ہمارا خیال بھی ...

مزید پڑھیے

جو چپ رہیں تو کسک ہو ہنسیں تو خوں ٹپکے (ردیف .. ح)

جو چپ رہیں تو کسک ہو ہنسیں تو خوں ٹپکے تری نظر نے دیا زخم بھی رفو کی طرح سکھا رہے ہیں وہ آداب میکشی ہم کو جو میکدے میں چھلکتے رہے سبو کی طرح سراغ قتل ملا خود ادائے قاتل سے وہ رنگ رخ بھی پکارا مرے لہو کی طرح سکوت پر بھی وہ شاید بٹھائیں گے پہرے سکوت بھی تو ہے اک جرم گفتگو کی ...

مزید پڑھیے

حبس طاری ہے مسلسل کیسا

حبس طاری ہے مسلسل کیسا اب کے برسا ہے یہ بادل کیسا جس سے احساس کی صدیاں گزریں تھا جدائی کا وہ اک پل کیسا لے کے نذرانۂ جاں کون آیا جشن سا ہے سر مقتل کیسا تیری توصیف سے خالی ہو اگر لفظ ہو جاتا ہے مہمل کیسا وہی دن رات محبت کا جنوں دل بھی کم بخت ہے پاگل کیسا اس نے تو لب ابھی کھولے ...

مزید پڑھیے

صحرا کی بے آب زمیں پر ایک چمن تیار کیا

صحرا کی بے آب زمیں پر ایک چمن تیار کیا اپنے لہو سے سینچ کے ہم نے مٹی کو گل زار کیا یوں ہم اپنے گھر سے نکلے گھر ہم کو تکتا ہی رہا ہم نے ادا بھیگی آنکھوں سے قرض در و دیوار کیا کتنی آنکھیں شوق سراپا کتنے چہرے حرف سوال جانے پھر کیا سوچ کے ہم نے خود کو ترا بیمار کیا تم نہ کہو تاریخ کہے ...

مزید پڑھیے

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں لوگ سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں چھیڑ کر جب بھی کسی زلف کو تو آتی ہے اے صبا ہم تری رفتار سمجھ لیتے ہیں تو فقط جام کا مفہوم سمجھ اے ساقی تشنگی کیا ہے یہ مے خوار سمجھ لیتے ہیں ہم کہ ہیں جنبش ابرو کی زباں سے واقف تیرے کھنچنے کو بھی تلوار سمجھ ...

مزید پڑھیے

نیند سے آنکھ وہ مل کر جاگے

نیند سے آنکھ وہ مل کر جاگے کتنے سوئے ہوئے منظر جاگے کس کی خاطر ہے پریشاں تری زلف ہم اسی فکر میں شب بھر جاگے ضرب تیشہ کی صدا تھی کیسی آنکھ ملتے ہوئے پتھر جاگے یوں بھی گزرے ہیں شب و روز کہ ہم نیند کی فکر میں اکثر جاگے تشنگی نے جو نچوڑا دامن کروٹیں لے کے سمندر جاگے سیکڑوں رنگ ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1088 سے 6203