قومی زبان

آنسو شعلوں میں ڈھل رہے ہیں

آنسو شعلوں میں ڈھل رہے ہیں غم دل کی فضا بدل رہے ہیں گلشن ہے انہیں کا گل انہیں کے کانٹوں پہ جو ہنس کے چل رہے ہیں ایک ایک نفس میں روشنی ہے یادوں کے چراغ جل رہے ہیں چپ چپ سی ہے تلخیٔ زمانہ غم جام و سبو میں ڈھل رہے ہیں مٹ مٹ کے ابھر رہی ہے دنیا بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں اللہ رے ...

مزید پڑھیے

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک تشنہ لبی کا اک دریا ہے شیشے سے پیمانے تک حسن و عشق کا سوز تعلق سمتوں کا پابند نہیں اکثر تو خود شمع کا شعلہ بڑھ کے گیا پروانے تک راہ طلب کے پیچ و خم کا اندازہ آسان نہیں اہل خرد کیا چیز ہیں رستہ بھول گئے دیوانے تک ساقی کو یہ خوش فہمی تھی ...

مزید پڑھیے

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے جو غم حبیب کو پا گئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے جو نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل ...

مزید پڑھیے

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے ترا منہ تک رہا ہے آئنا کیا اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے ترے رنگ حنا کا خوں بہا کیا چراغوں کی صفیں سونی پڑی ہیں ہمارے بعد محفل میں رہا ...

مزید پڑھیے

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں کہ اب تو قصد سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں سنا ہے آج سر شام گھر گئے ہیں لوگ جہاں سے نکلے ہیں رستے مسافروں کے لئے مکان ایسے بھی تعمیر کر گئے ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت وصل و ہجراں کی عجب سی اک کہانی ہے کہ جیسے رائگانی ہے کسی بھی خواب کو تعبیر کا در تک نہیں ملتا جو دل پہ زخم لگتا ہے نہیں سلتا تڑپتا ہے ہر اک دل کوئی پل راحتوں کا مل نہیں پاتا کسی کی یاد آنکھوں کو جلا کے جب نکلتی ہے تو روح تک تڑپتی ہے

مزید پڑھیے

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے یہ شکست دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل ...

مزید پڑھیے

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں یہ اک لطیف سا دھوکہ ہے زندگی تو نہیں سمجھ رہا ہوں کہ اپنا بنا لیا ہے انہیں اسی کا نام محبت کی سادگی تو نہیں لگا رہا ہوں لبوں کی ہنسی سے اندازہ کہ میرے غم کی طلب میں کوئی کمی تو نہیں نفس نفس پہ یہ ہوتا ہے کیوں مجھے محسوس حیات تجھ سے الگ رہ کے ...

مزید پڑھیے

خواب سے آنکھ وہ مل کر جاگے

خواب سے آنکھ وہ مل کر جاگے کتنے سوئے ہوئے منظر جاگے کس کی خاطر ہے پریشاں تری زلف ہم اسی فکر میں شب بھر جاگے تشنگی نے جو نچوڑا دامن کروٹیں لے کے سمندر جاگے سیکڑوں رنگ ہیں آنکھوں میں مگر ذہن میں ایک ہی پیکر جاگے خواب کا جشن منانے کے لیے لوگ سنتے ہیں کہ گھر گھر جاگے ہم نے کاغذ پہ ...

مزید پڑھیے

اک تبسم سے ہم نے روک لیے

اک تبسم سے ہم نے روک لیے وار جتنے غم جہاں نے کیے کہہ رہے ہیں ہوا سے راز چمن کوئی غنچوں کے بھی تو ہونٹ سیے کیف کیا چیز ہے خمار ہے کیا یہ سمجھ کر شراب کون پیے ختم جب ہو گئیں تمنائیں ہم نئے حوصلوں کے ساتھ جیے رخ ہوا کا بدل گیا شاید گھر کے باہر بھی جل رہے ہیں دیے پھول خود ہو گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1089 سے 6203